• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سڈنی سوینی اشتہار: خواتین کھلاڑی کا احتجاج، کہا عورت کی پہچان اس کی صلاحیت ہے

Updated: September 16, 2026, 10:07 PM IST | London

امریکی اداکارہ سڈنی سوینی کے اسپورٹس بیٹنگ پلیٹ فارم Novig کے نئے اشتہار پر خواتین کھلاڑی میں شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ اشتہار میں سوینی کو کھیلوں کے مختلف سامان کے ساتھ انتہائی کم لباس میں دکھایا گیا ہے، جس پر اولمپک چیمپئنز، ایتھلیٹس اور مختلف کھیلوں سے وابستہ خواتین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے کھیل کو نمایاں کرنے کے لیے ان کے جسم کو جنسی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔

Sydney Sweeney. Photo: INN
سڈنی سوینی۔ تصویر: آئی این این

امریکی اداکارہ سڈنی سوینی ایک نئے اشتہار کے باعث خواتین کھلاڑی کی تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔ یہ اشتہار امریکی اسپورٹس پریڈکشن پلیٹ فارم Novig کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں سوینی کو ٹینس، گالف، بیس بال، آئس ہاکی اور دیگر کھیلوں سے متعلق سامان کے ساتھ انتہائی کم لباس میں دکھایا گیا ہے۔ اشتہار میں Novig کو ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا دائرہ صرف کھیلوں تک محدود ہے۔ اشتہار کے وائرل ہونے کے بعد خواتین کھلاڑی نے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنی مہم شروع کردی۔ امریکی سابق جمناسٹ گریسی کریمر ان اولین کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے اپنی جمناسٹک کارکردگی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:This is what a woman in sport looks like. ان کی پوسٹ کے بعد مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں خواتین نے اپنی ٹریننگ، مقابلوں اور کھیلوں کی کامیابیوں کی تصاویر اور ویڈیوز اسی پیغام کے ساتھ شیئر کرنا شروع کردیں۔

یہ بھی پڑھئے: چین: شہریوں کے بیرون ملک سفر پر سخت نئے قوانین نافذ

برطانوی اسپرنٹر ایمی ہنٹ نے بھی اشتہار پر براہ راست ردعمل ظاہر کیا۔ بڈاپسٹ میں ۲۰۰؍ میٹر فائنل کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کیمرے کی جانب دیکھ کر کہا:Sydney Sweeney, this is what women in sport look like. ہنٹ نے کھیل کی حقیقت کو muscles, hard work, sweat, blood, tearsسے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے کھیل کی دنیا ہر وقت خوبصورت، دلکش یا گلیمرس نظر نہیں آتی۔

۴؍ مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ آسٹریلوی تیراک آرین ٹِٹس نے اشتہار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں خواتین نے کھیل میں اپنی صلاحیت منوانے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے، وہاں اب بھی خواتین کے جسم کو کمرشیل فائدے کے لیے استعمال اور خواتین کے کھیل کو جنسی انداز میں پیش کیوں کیا جا رہا ہے۔ ٹِٹس نے خواتین کے کھیل کو ٹیم ورک، دوستی، محنت، لگن، عمدگی اور اتحاد سے جوڑا۔

آسٹریلوی واٹر پولو کھلاڑی اور اولمپک سلور میڈلسٹ ٹِلی کیرنز نے بھی اشتہار پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کھیل کا اپنا ایک ویڈیو شیئر کیا۔ عالمی چیمپئن باکسر اسکائی نکلسن نے معاملے میں ایک اہم فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کھیلنے کے نتیجے میں کسی خاتون کا خوبصورت یا پُرکشش نظر آنا الگ بات ہے، لیکن کھیل فروخت کرنے کے لیے جنسی کشش کو استعمال کرنا الگ معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: اسرائیل جانے والے مزید تین کنٹینر ضبط، پابندیوں پر سختی کا اشارہ

برطانوی اولمپک سائیکلسٹ صوفی کیپیول نے بھی ٹریننگ اور ریسنگ کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسا معاشرہ کیوں نہیں ہوسکتا جہاں خواتین کو اس بات سے پہچانا جائے کہ وہ کیا کرسکتی ہیں، نہ کہ وہ کیسی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ساتھ Tour de France Femmes کی فاتح ڈیمی وولیرنگ سمیت دیگر سائیکلسٹس نے بھی خواتین کے کھیل کی محنت اور جسمانی طاقت کو اجاگر کیا۔

آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ نے بھی اس رجحان میں حصہ لیتے ہوئے خواتین کے مختلف کھیلوں، جن میں آرچری، جمناسٹکس، باکسنگ اور سافٹ بال شامل ہیں، کی ویڈیوز شیئر کیں۔ یوں تنازع محض ایک اداکارہ کے اشتہار پر تنقید تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین کھلاڑی نے اسے اپنے کھیل، جسمانی صلاحیت اور برسوں کی محنت کو نمایاں کرنے کے موقع میں تبدیل کردیا۔

اشتہار کی مخالفت کرنے والی کھلاڑیوں کا بنیادی اعتراض سوینی کے ذاتی لباس یا ظاہری شکل سے زیادہ اس تشہیری تناظر پر ہے جس میں ایک اسپورٹس پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے خواتین کے جسم کو مرکزی توجہ بنایا گیا۔ امریکی جمناسٹ کریمر نے اپنے طویل تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کھلاڑی کو پہلے ہی اپنے جسم تک محدود کیے جانے اور اپنی حقیقی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ چینی نژاد جرمن رگبی کھلاڑی سوفی فیلا نے بھی کہا کہ خواتین کھلاڑی نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے لیے رول ماڈل بن سکتی ہیں کیونکہ وہ خوبصورتی سے متعلق معاشرتی توقعات سے آگے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: زخمیوں کی مدد کے دوران اسرائیلی حملے میں فلسطینی نوجوان شہید

دوسری جانب سوینی نے براہ راست طویل وضاحت جاری کرنے کے بجائے ESPN The Magazine کے مشہور “Body Issue” کی متعدد تصاویر اپنی Instagram Stories پر شیئر کیں، جن میں سرینا ولیمز، رونڈا روزی، میگن ریپینو اور دیگر معروف کھلاڑیوں کو کم یا بغیر لباس کے فوٹو شوٹس میں دکھایا گیا تھا۔ اس اقدام کو متعدد میڈیا رپورٹس نے اشتہار پر ہونے والی تنقید کے ممکنہ جواب کے طور پر بیان کیا ہے۔

بعد میں سوینی نے Novig مہم کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ’’fun idea‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق تصور کا مقصد شور کو ختم کرکے توجہ مکمل طور پر کھیل پر مرکوز کرنا تھا، جسے مزاح میں پیش کیا گیا۔ Novig کے سی ای او جیکب فورٹنسکی نے بھی مہم کا دفاع کرتے ہوئے اسے کھیلوں پر کمپنی کی توجہ اجاگر کرنے کا تخلیقی طریقہ قرار دیا۔ سوینی خود بھی Novig میں ایکویٹی رکھتی ہیں اور کمپنی کے ساتھ بطور strategic partner وابستہ ہیں۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے کھیل کی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اور خواتین ایتھلیٹس کی پیشہ ورانہ شناخت، مساوی مواقع اور میڈیا نمائندگی پر بحث پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ موجودہ سوشل میڈیا مہم میں کھلاڑیوں نے اسی بحث کو اپنی کارکردگی کی جانب موڑنے کی کوشش کی ہے: جمناسٹک فلور سے سائیکلنگ ٹریک، سوئمنگ پول سے باکسنگ رنگ تک، ان کی پوسٹس میں ایک ہی تصور بار بار سامنے آیا، خواتین کے کھیل کو دیکھنے کے لیے عورت کے جسم کو جنسی علامت بنانے کے بجائے اس کی صلاحیت، محنت اور کارکردگی کو مرکز بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK