• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی: برطانیہ اسرائیل کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے: برطانوی سفیر

Updated: September 16, 2026, 10:07 PM IST | Ankara

انقرہ میں برطانیہ کی نئی سفیر کا کہنا ہے برطانیہ اسرائیل کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے،غزہ اور مغربی کنارے میں ناقابل تصور تکالیف نہیں رہ سکتی،

Britain`s new ambassador to Ankara, Jennifer Anderson. Photo: X
انقرہ میں برطانیہ کی نئی سفیر جینیفر الزبتھ اینڈرسن۔ تصویر: ایکس

 ترکی کے داالحکومت انقرہ میں برطانیہ کی نئی سفیر جینیفر الزبتھ اینڈرسن نے کہا کہ برطانیہ اسرائیل کے تئیں اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد۔برطانیہ اب اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں ناقابل تصور تکالیف ہوئی ہیں، اور یہ جاری نہیں رہ سکتی،‘‘اینڈرسن نے ترکی زبان کے انادولو کو انٹرویو میں مزید کہا کہ ’’برطانیہ ،مزید تکالیف جاری رہنے کے دوران خاموش نہیں رہے گا۔‘‘اینڈرسن، جنہوں نے۸؍ ستمبر کو صدر رجب طیب اردگان کو اپنی اسناد پیش کیں، نے اس ماہ انقرہ میں اپنی نئی ذمہ داری سنبھالی ہے۔اس سے قبل انقرہ میں برطانوی سفارت خانے میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے طور پر خدمات انجام دینے والی اینڈرسن نے کہا کہ ترکی ہمیشہ ان کے دل میں رہا ہےاور انہوں نے جانے کے بعد ملک میں ہونے والی پیش رفت کو ہر ممکن حد تک قریب سے فالو کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھئے: زخمیوں کی مدد کے دوران اسرائیلی حملے میں فلسطینی نوجوان شہید

واضح رہے کہ ترکی میں اپنی گزشتہ تعیناتی کے بعد، اینڈرسن نے قونصلر اور بحران آپریشنز کی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں، یہ ایک خاص طور پر مشکل دور تھا جس کے دوران انہوں نے قہرمان مرعش میں آنے والے۲۰۲۳ء کے زلزلوں کے بعد ترکی میں برطانیہ کی امدادی کوششوں کو مربوط کیا۔انہوں نے دوران گفتگو ترکی کے کھانوں اور ادب کے تعلق سے اپنی دلی وابستگی کا بھی اظہار کیا۔اس کے علاوہ انہوں ترکی زبان سیکھنے کا بھی ذکر کیا۔ ساتھ ہی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے، اینڈرسن نے کہا کہ ترکی اور برطانیہ کے درمیان تعلقات بہت مضبوط ہیں اور مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے تبصرہ کیا کہ،’’ دونوں ممالک نے اپریل میں ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ فریم ورک پر دستخط کیے، اس کے بعد جولائی میں سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کا معاہدہ ہوا، جس نے ان کے تعاون کو مزید گہرا کیا۔اینڈرسن نے ترکی کا دورہ کرنے والے برطانوی سیاحوں کی تعداد میں بڑے اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔انہوں نے کہا کہ۲۰۲۰ء میں تقریباً۱۷؍ لاکھ برطانوی سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا، جبکہ اس سال یہ تعداد۴۴؍ لاکھ تک پہنچ گئی۔یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، اینڈرسن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون ہجرت، دفاع، ترقی، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت، نیز گرین انرجی میں منتقلی سمیت شعبوں میں مسلسل پھیل رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ غزہ میں بچوں کے قتل پر اب مزید خاموش نہیں رہے گا: فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ

علاوہ ازیں برطانیہ، فرانس، ناروے اورکنیڈا سمیت۱۲؍ ممالک کی جانب سے۸؍ ستمبر کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بارے میں پوچھے جانے پر، اینڈرسن نے کہا کہ برطانیہ نیا نقطہ نظر اپنا رہا ہے۔برطانیہ اب اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں ناقابل تصور تکالیف ہوئی ہیں، اور یہ جاری نہیں رہ سکتی۔ برطانیہ مزید تکالیف جاری رہنے پر خاموش نہیں رہے گا۔ دو ریاستی حل کا مکمل نفاذ برطانوی حکومت کی بنیادی پالیسی ہے۔ ہم نے اس پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کے اس تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اب تک فلسطین کی صورتحال کے جواب میں ناکافی اقدامات کیے گئے ہیں، اینڈرسن نے کہا کہ وہ ترکی کی وزارت خارجہ اور گروپ آف ایٹ کے بیانات کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: اسرائیل جانے والے مزید تین کنٹینر ضبط، پابندیوں پر سختی کا اشارہ

مزید برآں جب پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ دو ریاستی حل کی حمایت اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو روکنے کے لیے مزید اور سخت اقدامات کرے گا، تو اینڈرسن نے جواب دیا’’ہاں۔ یہ نئے اقدامات دو ریاستی حل کی حمایت اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کو روکنے کے لیے ہی اعلان کیے گئے تھے۔ ہم اسرائیلی حکومت کا اس کے اقدامات کی بنیاد پر جائزہ لیتے رہیں گے۔ یہ بہت واضح ہے کہ ہم اسرائیل سے غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں ایک نئے نقطہ نظر کی توقع کرتے ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK