• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آیوش ملک کو رہا کیا جائے، اس نے اپنی مرضی سےاسلام قبول کیا: الہ آباد ہائی کورٹ

Updated: September 16, 2026, 8:03 PM IST | Shamli

الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو آیوش ملک کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، آیوش ملک کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کے سلسلے میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا ، تاہم عدالت نے پولیس کو بھی پھٹکار لگاتےہوئے کہا ہے آیوش نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیاہے یہ ان کی ذاتی آزادی ہےاس میں دخل اندازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Ayush Malik flanked by his lawyers. Photo: X
آیوش ملک اپنے وکیلوں کے درمیان۔ تصویر: ایکس

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۳۱؍ سالہ آیوش ملک کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے شاملی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کے معاملے میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ یہ حکم عدالت میں آیوش ملک کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ اپنی بیوی چاندنی قریشی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک مسلم خاتون سے شادی اور مذہب کی تبدیلی کے بعد آیوش ملک کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے الزامات کے تحت بدھ کے روز انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو ان کی حراست کے حالات پر سخت پھٹکار لگائی اور ہدایت دی کہ آیوش ملک کی ذاتی آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔

سماعت کے دوران آیوش ملک نے عدالت کو واضح طور پر بتایا کہ انہوں نے بغیر کسی دباؤ یا زبردستی کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ چاندنی کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت عدالت پہنچا جب آیوش کے دوست سلطان نے ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس رِ ٹ کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ والد کی مرضی کے خلاف مذہب کی تبدیلی اور شادی کرنے پر، ریاستی حکام کی مبینہ مدد سے آیوش کو زبردستی ان کے والد کی تحویل میں رکھا گیا تھا۔ اس پر ۹؍ ستمبر کو جسٹس سندیپ جین نے اتر پردیش انتظامیہ اور آیوش کے والد دیوراج سنگھ ملک کو حکم دیا تھا کہ وہ ۱۶؍ ستمبر کو آیوش کو ہر حال میں عدالت کے سامنے پیش کریں۔بعد ازاں عدالت نے غیر قانونی حراست اور انتظامیہ کی شمولیت کے الزامات کو انتہائی سنگین نوعیت کا قرار دیا ۔

یہ بھی پڑھئے: مرشد آباد کے ۶۱؍ سالہ بزرگ کو گھر سے اٹھا کر بنگلہ دیش بھیج دیا گیا، اہل خانہ کا ڈھونڈنے کا مطالبہ

درخواست کے مطابق، آیوش ملک نے رضامندی سے اسلام قبول کر کے چاندنی سے شادی کی تھی، لیکن اس کے بعد ان کے والد نے ۶؍ جون ۲۰۲۶ء کو شاملی پولیس اسٹیشن میں چاندنی اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف اتر پردیش کے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب قانون ۲۰۲۱ء اور بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔ درخواست گزاروں نے اس ایف آئی آر کو جھوٹا، تعصب پر مبنی اور آیوش کی ذاتی آزادی کو چھیننے کی کوشش قرار دیا تھا۔
تاہم عدالت میں پیشی کے بعد جب آیوش نے اپنے فیصلے کی تصدیق کی، تو ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس جوڑے کے فیصلے اور آیوش کی آزادی میں دخل اندازی نہ کرے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر کسی بھی بالغ شخص کو اپنی مرضی سے مذہب اور شریکِ حیات کا انتخاب کرنے کے بنیادی حق سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔مزید برآں عدالت نے نوٹ کیا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیوش نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل اور شادی کی تھی، حالانکہ عدالت نے واضح کیا کہ وہ الزامات پر فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے رہی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK