Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشہور جاپانی مصورہ یایوئی کُسامہ ۹۷؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

Updated: August 27, 2026, 4:05 PM IST | Tokyo

دنیا بھر میں اپنے منفرد پولکا ڈاٹس، دائرہ نما نقوش اور ’انفینٹی‘ تنصیبات کے لیے شہرت رکھنے والی جاپان کی معروف معاصر مصورہ یایوئی کُسامہ ۹۷؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی کمپنی کے مطابق کُسامہ کا انتقال ۱۴؍ اگست کو ہوا، تاہم موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ کئی دہائیوں پر محیط اپنے فنّی سفر میں انہوں نے جدید آرٹ پر گہرا اثر ڈالا اور عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت حاصل کی۔

Yayoi Kusama. Photo: X
یایوئی کُسامہ۔ تصویر: ایکس

مشہور جاپانی معاصر مصورہ یایوئی کُسامہ، جو اپنے منفرد پولکا ڈاٹس اور دائرہ نما نقوش کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتی تھیں، ۹۷؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ کُسامہ کی کمپنی کی جانب سے جمعرات کو ان کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ان کا انتقال ۱۴؍ اگست کو ہوا۔ تاہم بیان میں ان کی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ یایوئی کُسامہ جاپان کی سب سے معروف اور باوقار معاصر فن کاروں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے فن پاروں کی دنیا بھر میں نمائشیں ہوئیں، جن میں نیویارک کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ اور وٹنی میوزیم آف امریکن آرٹ بھی شامل ہیں۔ کُسامہ کے فن کی سب سے نمایاں خصوصیت بار بار دہرائے جانے والے نقوش تھے، جو کبھی جال، گھومتی ہوئی لکیروں یا کیڑوں کی شکل اختیار کرتے، لیکن زیادہ تر وہ نقطوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ یہ نقطے ان کے کینوس پر نمایاں نظر آتے یا ان کی تنصیبات میں چمکتے ہوئے دائروں اور روشنی کے نقطوں کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: نیہا دھوپیا نے فلموں کے ساتھ دیگر ذرائع میں بھی نام کمایا

۲۷؍ برس کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئیں

جاپانی معاشرے کی محدودیتوں سے نالاں کُسامہ ۲۷؍ برس کی عمر میں نیویارک منتقل ہو گئی تھیں۔ وہاں انہوں نے بہت جلد اپنی مصوری کے ذریعے پہچان بنالی۔ ان کی پینٹنگز ان روشنیوں، نقطوں اور پھولوں سے متاثر تھیں جنہیں وہ بچپن ہی سے اپنے تخیل اور بصری تجربات میں دیکھتی رہی تھیں۔ کُسامہ نے مصوری کے علاوہ تحریر کے میدان میں بھی کام کیا اور ۱۹۶۰ء کی دہائی میں جنگ مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اینڈی وارہول سمیت کئی معروف فن کاروں کو متاثر کیا۔ کُسامہ اپنی ذہنی صحت سے متعلق مشکلات کے بارے میں بھی کھل کر بات کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک نے ان کے ذہنی مسائل میں اضافہ کیا۔

کئی دہائیوں تک ذہنی صحت کے مرکز میں رہیں

جاپان واپسی کے چند برس بعد، تقریباً ۱۹۷۷ء میں کُسامہ نے اپنی مرضی سے ایک ذہنی صحت کے مرکز میں داخلہ لیا، جہاں وہ کئی دہائیوں تک رہیں۔ وہ ہر صبح وہاں سے اپنی قریبی آرٹ اسٹوڈیو لے جائی جاتی تھیں تاکہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ ۲۰۱۷ء میں ایک انٹرویو کے دوران کُسامہ نے کہا تھا کہ انہیں آج بھی بصری ہیولے یا وہم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نقطے ہر طرف، ان کے لباس، فرش، ہاتھ میں موجود اشیا، گھر اور حتیٰ کہ چھت پر بھی نظر آتے ہیں، اور وہ انہیں پینٹ کرتی ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے پولکا ڈاٹس کو ’’شاندار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک ہزار یا شاید دو ہزار پینٹنگز بنانا چاہتی ہیں، جتنی زیادہ پینٹ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مرتے دم تک مصوری کرتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’ ’مونسٹر‘‘ کو سلمان خان کی واپسی والی فلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

عالمی شہرت اور اعزازات

زندگی کے آخری برسوں میں کُسامہ کو عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے لوئی ویتوں جیسے معروف فیشن برانڈز کے ساتھ کام کیا۔ ان کے منفرد فن پاروں اور ڈیزائنز کو کپ، ٹی شرٹس اور کی چینز سمیت متعدد مصنوعات پر بھی استعمال کیا گیا۔ مارکیٹنگ اور اسٹور کی کھڑکیوں میں ان کی شخصیت سے مشابہ ماڈلز بھی پیش کیے گئے۔ ۲۰۰۸ء میں کرسٹیز کی نیلامی میں ان کا ایک فن پارہ ۵۸؍ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا۔ ۲۰۱۶ء میں انہیں جاپان کی جانب سے فن کاروں کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ’’آرڈر آف کلچر‘‘ بھی عطا کیا گیا۔

کُسامہ کے اسٹوڈیو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے زندگی کے آخری دنوں تک مصوری جاری رکھی اور اپنا برش کبھی نہیں چھوڑا۔ اسٹوڈیو کے مطابق وہ ہمیشہ محبت اور انسانی روح کے لازوال پہلوؤں کی تلاش میں مصروف رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کُسامہ کی خواہشات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا فن دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مستقبل کی امید اور طاقت کا ذریعہ بنتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK