Inquilab Logo Happiest Places to Work

ذات پرمبنی مرد م شماری کو ختم کردیاگیا ہے!

Updated: August 27, 2026, 4:56 PM IST | Yogendra Yadav | Mumbai

ایک رپورٹ کے مطابق آر جی آئی کا فیصلہ ہےکہ آئندہ ذات پرمبنی مردم شماری کے دوران لوگوں کے سامنے ذاتوںکی فہرست کا متبادل پیش کرنے کی بجائےایک سیدھا سوال پوچھا جائے گا ۔اس میں بظاہر کوئی حرج نہیں مگر حقیقتاً یہ کاسٹ سینسس کا خاتمہ ہوگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک سال قبل حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا تھا مگر اب لگتا ہےکہ وہی اسے ختم کرنے کے درپے ہے۔حکومت نے رعایت کرتے ہوئے ایک سرسری سیاسی انداز ہ کی بنیاد پر کاسٹ سینسس کا اعلان تو کردیاتھا مگر اسی سیاست کے سبب وہ اپنے وعدے سے مکررہی ہے۔ذات پات کی مردم شماری کے خاتمہ کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیاجائے گا بلکہ اسے خاموشی سے دفن کردیاجائے گا مگر اس پر سیاست جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی سرکار کے سَو دن

دپتی مان تیواری کی رپورٹ کے مطابق جو ۹؍ اگست کے انڈین ایکسپریس کے شمارہ میں شائع ہوئی تھی، مردم شماری کے انچارج رجسٹرار جنرل آف انڈیا(آر جی آئی) نے فیصلہ کیا ہے کہ  ملک میں آئندہ کی جانے والی ذات پرمبنی مردم شماری کے دوران لوگوں کے سامنے ذاتوںکی فہرست کا متبادل پیش کرنے کی بجائےایک سیدھا سوال پوچھا جائے ۔ یعنی جب شمار کنندہ آپ کے گھر آئے گاتو وہ آپ کے سا منے ذات کے ناموں کی فہرست پیش نہیں کرے گا جس میں سے  آپ انتخاب کریںبلکہ براہ راست آپ سے پوچھے گاکہ آپ کا تعلق کس ذات سے ہے اورجو آپ بیان کریں گے، وہ ریکارڈ کرے گا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اس میںکیا حرج ہے؟ اور یہ بظاہریہ معمولی اور تکنیکی نوعیت کا عمل معلوم ہوتا ہے مگرحقیقت  یہ ہےکہ یہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کا خاتمہ ہوگا ؟اس کیلئے  آپ کو Trina Vithayathil کی کتاب

Counting Caste: Census Politics, Bureaucratic Deflection, and Brahmanical Power in India

کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ یہ بڑی محنت سے تیار کی گئی دستاویز ہے جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہےکہ کس طرح۲۰۱۱ء میں ذات پات کی مردم شماری کو سبوتاژ کیا گیا۔ شرد یادو نے پارلیمنٹ میںذات پر مبنی مردم شماری پر تفصیلی بحث شروع کی تھی جس کے نتیجے میںتمام پارٹیوںمیںاسے منعقدکرانے پر اتفاق ہوا تھا، البتہ مردم شماری میں ذات پات کو کس طرح درج کیا جانا تھا، اس کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی اور نہ ہی اس بارے میں آگاہی کیلئے کوئی مہم چلائی گئی۔  یہی وہ مقام ہےجہاں برہمنی نظام کی سماجی طاقت سامنے آئی اور دو اہم لیکن انتظامی اور تکنیکی فیصلوں نے پورےعمل کا رخ موڑ دیا۔ سب سے پہلے، ذات پات کی گنتی کو ہندوستان کی دس سالہ مردم شماری سے الگ کر دیا گیا، ظاہر ہے اس کا مقصد یہ بتانا تھاکہ اس سے عام مردم شماری پر زیادہ بوجھ  پڑتا۔ اس مقصد کیلئے سماجی اقتصادی اور ذات شماری(ایس ای سی سی )کے نام سے ایک الگ ملک گیر سروے تیار کیا گیا تھا۔ دوسرایہ متبادل رکھا گیا کہ موجودہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی فہرستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک کھلے سوال کے ذریعے شہروںکی ذات معلوم کی جائے۔ اس فیصلے اور  طریق کار کی دیگر خرابیوں  کے باعث  اس بڑی مشق کے نتیجے میں ۴ء۷؍ ملین ذاتوں کے نام سامنے آئے۔ا س سے یہ ہوا کہ حکومت کو ذات پرمبنی مردم شماری کو موخر کرنے کا ایک بہانہ مل گیااوردوسرااس نے یہاںسےیہ راستہ بھی نکال لیاکہ کیسے اسے ختم کردیاجائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر حملہ

اب سوال یہ ہےکہ کیا کوئی متبادل ہے؟ ہم ذاتوں، ذیلی ذاتوں اور ان کے بھی ذیلی نام اور القاب کی لامحدود اقسام کی درجہ بندی کیسے کریں گے؟ لوگوں سے اپنی ذات کا نام پوچھنے کا متبادل کیا ہے؟خوش قسمتی سے، ایک متبادل ہےجو ہندوستانی ریاست کے سرکاری طریقوں میں موجود ہے۔ اسے ماضی میں ہندوستان کی مردم شماری میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ حال ہی میں بہار اور تلنگانہ میں  کامیابی کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔اسے یہاںواضح کیاجارہا ہے: ہر کسی کو اپنی ذات کا نام  بتانے کیلئے کہنے کے بجائے، ان کی ذات کے زمرے(ایس سی، ایس ٹی ، اوبی سی ، جنرل) سے پوچھ کر شروع کریں اور پھر ان سے اپنے زمرے میں ذات کے ناموں کی فہرست میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے۔باقی ایک دو  فیصد معاملا ت میںجہاں مذکورہ ذاتوں کے زمروں میں ذیلی ذاتوں کی فہرست نہیںہوگی  وہا ں’ دیگر‘ کے زمرے میں اندرا ج کیاجاسکتا ہے۔کیا ہمارے پاس زیادہ تر ہندوستانی ذاتوں کے ناموں کی تیار شدہ  فہرست نہیںہے؟ قابل حیرت ہےکہ یہ فہرستیں موجود ہیں۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ذاتوں کی جامع سرکاری فہرستیں موجود ہیں جن میں ایس سی ، ایس ٹی اور اوبی سی زمروں کی ذیلی ذاتیں اور مترادفات والقابات شامل ہیں  اوریہ ذاتیںہندوستانی کی مجموعی آبادی کا  تقریباً تین چوتھائی  حصہ ہے۔ جب مردم شماری کرنے والا افسر ایک دلت گھرجاتا ہے تو وہ پہلے ان سے پوچھے گا کہ کیا وہ ایس سی زمرے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اگر ہاں، تو وہ درج فہرست ذاتوں کی فہرست نکالے گا اور انہی سرکاری فہرست کے اندراجات میں سے ایک پر درج کر دے گا۔ ایس ٹی میں بھی ا یسا کیاجاسکتا ہے اور اسے بہ آسانی  او بی سی تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ جس کے لئے ریاستی اور قومی سطح پر جامع فہرستیں دستیاب ہیں۔ یہ دونوں فہرستیں ایک دوسرے نہیںٹکراتیں، خلط ملط نہیں ہوتیں، اس لئےشمار کنندہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہو گی جب تک کہ ذات کے ناموں کے بارے میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: سائبر فراڈ اور قانونی کارروائی

بقیہ ایک چوتھائی کا تعلق’ جنرل ‘ زمرہ سے ہے جس کا شمار اتنا مشکل نہیں ہےجتنا اسے بنایا گیا ہے۔ہندوستان کی۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں تمام ذاتوں کو درج کیا گیا تھا جن میں وہ بھی شامل ہیںجو آج جنرل زمرے میں ہیں۔یہ کہا جاسکتا ہےکہ پچھلی صدی میں بہت زیادہ نئی ذاتیں سامنے نہیں آئی ہوں گی۔ اس کے علاوہ، ہمارے پاس۴۳؍ جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ’پیپل آف انڈیا‘ (کے ایس سنگھ کے ذریعے تالیف کردہ) ہے  جسے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ملک بھر میں تمام ذاتوں اور برادریوں کی ایک سرکاری دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ اسے۱۹۳۱ء کی فہرست کو درست کرنے کیلئےاستعمال کیا جا سکتا ہے ۔ موجودہ منظرنامہ میں  یاتو بی جے پی نے ذات پات کی مردم شماری کے بارے میں  میں کوئی دوسرا متبادل سوچ رکھا ہےکیونکہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یوجی سی) احتجاج اور جین زی مظاہروں کے بعدوہ اپنے عمومی ذات  پرمبنی ووٹ بینک  سے محروم ہوسکتی ہے ، یا  یہ سمجھا جائے کہ  اس بددیانتی کا منصوبہ اس نے پہلے ہی بنا رکھاتھا ۔ بہر حال سیاسی کھیل واضح ہے۔ وزیر اعظم اوبی سی ووٹروں سے کہہ سکتے ہیںکہ دیکھئے ہم نے کوشش کی، لیکن اس مشق سے کچھ نہیں نکلا اور دوسری  طرف اپنے بنیادی ’اونچی ‘ذات کےووٹ بینک کو اشارۃً سمجھا سکتے ہیںکہ ہم نےسنبھال لیا ، سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK