Inquilab Logo Happiest Places to Work

اخلاق کی طاقت

Updated: August 27, 2026, 4:50 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کل اس اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے خصوصی اداریہ میں ہم نے لکھا تھا کہ ’’تمام مسلمان مذہب ِاسلام کو بدنام کرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں مگر کیا وہ اسلام کی نیک نامی میں کردار ادا کررہے ہیں؟ یاد رکھئے اسلام کا بہترین دفاع عمل ہی سے ہوگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کل اس اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے خصوصی اداریہ میں ہم نے لکھا تھا کہ ’’تمام مسلمان مذہب ِاسلام کو بدنام کرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں مگر کیا وہ اسلام کی نیک نامی میں کردار ادا کررہے ہیں؟ یاد رکھئے اسلام کا بہترین دفاع عمل ہی سے ہوگا۔ عمل کیجئے، حسن عمل سے پیش آئیے اور ہر جگہ اپنی متانت، شائستگی، نرم دلی، تعاون اور خیرخواہی کا نقش قائم کیجئے۔‘‘ یہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس کے آگے یہ عرض کرنا ہے کہ ہر خاص و عام کو حسن عمل کا مشن اپنانا چاہئے تا کہ باقاعدہ پروپیگنڈہ کی شکل اختیار کرنے والی وہ کوشش جو اسلام کو بدنام کرنے سے متعلق ہے، ناکام بنائی جائے۔ اس بات کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا جائے کہ مذہب ِ اسلام کو بدنام کرنے کی سازش سوچی سمجھی ہے۔ اس کے پس پشت بڑا سرمایہ خرچ کیا جاتا ہوگا اور اس کیلئے افراد تیار کئے جاتے ہوں گے۔ اس کے برخلاف، اس سازش کا بُرا ماننے والے  دل برداشتہ مسلمانوں کو دیکھئے۔ وہ غیر منظم دکھائی دیں گے۔ اُنہوں نے اس سازش کو ناکام بنانے کے بارے میں شاید سوچا بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: मी मराठी बोलू शकतो

اس کیلئے اجتماعی کوششوں سے زیادہ کارگر ہوسکتی ہیں انفرادی کوششیں۔ ہر شخص عہد کرے کہ وہ جس حد تک حسن عمل کے چراغ روشن کرسکے گا، اُس حد تک ضرور کرے گا۔ جب حسن عمل کا ایک چراغ دوسرے چراغ سے ملے گا اور دوسرا تیسرے کے رابطے میں آئے گا تب کارِ خیر کی انجام دہی کے امکانات بھی بڑھیں گےاور ہمخیال لوگوں کے ایک دوسرے کے رابطہ میں آنے کے مواقع بھی وسیع ہونگے۔

یہ بھی پڑھئے: خصوصی اداریہ

یاد رہے کہ سوشل میڈیا کے اِس دور میں بات دور تک پہنچتی ہے۔ جنتر منتر پر  محمد جنید مَلِک نے ایسا ہی ایک چراغ روشن کیا۔ اُس نے خود نہیں چاہا تھا کہ اُسے شہرت ملے۔ اُس نے اپنے فوڈ اسٹال کی ویڈیو گرافی بھی خود نہیں کرائی۔ جنید کی خیرخواہی کو دیکھ کر دوسروں کو توفیق ہوئی۔ انہوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے محمد جنید کی چاروں طرف دھوم مچ گئی۔ جنید مسلمانوں کے نام پر دھبہ نہیں بنا، اس نےدلوں کے داغ دھو ئے اپنے عمل سے۔ عمل شاہ کلید ہے۔ غلط فہمی، پروپیگنڈہ، مِس انفارمیشن یا گمراہ کن دعوؤں کا جواب گفتار سے نہیں دیا جاسکتا مگر کردار سے دیا جاسکتا ہے جو خوشگوار اور دیر پا اثرات کے نقش و نگار بناتا ہے۔ آج کسی جرم کے حوالے سے کسی مسلمان کا نام منظر عام پر آتا ہے تو برادران وطن فوری یقین کرلیتے ہوں گے کہ ہاں ایسا ہوا ہوگا۔ ہونا یہ چاہئے کہ فوری یقین آنے کے بجائے مشکل سے بھی یقین نہ آئے اور لوگ کہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ہمارا تجربہ مختلف ہے، خوشگوار ہے، وہ ایماندار ہوتے ہیں، خوش اخلاقی  سے پیش آتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور نہ تو رشوت دیتے ہیں نہ لیتے ہیں چاہے کتنا ہی بڑا نقصان ہوجائے۔ کیا کردار کا ایسا نقش قائم نہیں کیا جاسکتا؟ 

اس سال کی عید میلاد گزر جانے کے بعد آج تیرہ ربیع الاول کو غور کرنا چاہئے کہحسن اخلاق کو منوانے کا اقدامی جذبہ ملت میں کس طرح پیدا ہو اور فروغ پائے۔ یہ دینی ذمہ داری بھی ہے اور موجودہ حالات کا تقاضا بھی۔ اخلاق کی طاقت سے بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے، دلوں کو جیتا جاسکتا ہے، معرکے سر کئے جاسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK