کرائون مل کی زمین پر تعمیر شدہ ایک ایک فلیٹ میں ۲؍ تاڈھائی کروڑ روپے کے کارپیٹ ایریا پر غیرقانونی قبضہ کیا گیاتھا۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 4:42 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کرائون مل کی زمین پر تعمیر شدہ ایک ایک فلیٹ میں ۲؍ تاڈھائی کروڑ روپے کے کارپیٹ ایریا پر غیرقانونی قبضہ کیا گیاتھا۔
شہری انتظامیہ کے ذریعہ منظور شدہ پلان سے تجاوزکرتے ہوئے عمارت کی کروڑوں روپے مالیت کی کھلی جگہوں کو غیرقانونی طریقہ سے فلیٹوں کا حصہ بنالینے کی شکایت پر بی ایم سی نے جنوبی ممبئی میں واقع ۶۳؍ منزلہ عمارت کے بی ٹاور میں واقع فلیٹوں میں رہائش پذیر بارسوخ افراد کے مکانوں پر ہتھوڑا چلاتے ہوئے غیرقانونی تجاوزات کو منہدم کرنا شرو ع کردیا۔
اس کارروائی سے قبل بی ایم سی نے رستم جی کرائون نامی اس عمارت کے ۱۲۸؍ مکینوں کو ان کے ذریعہ کئے گئے ناجائز قبضوں اور تجاوزات کے تعلق سے نوٹس دیئے تھے۔ رستم جی کرائون دراصل کرائون مل کی زمین پر تعمیر کی گئی ۳؍ عمارتیں ہیں، پہلے مرحلے میں اے اور بی جبکہ دوسرے مرحلے میں سی ٹاور کو تعمیر کیا گیا تھا۔ ان تمام عمارتوں میں ۳، ۴؍ اور ۵؍ بیڈ روم کے فلیٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آئی سی سی کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے: امریکی پابندیوں کے بعد صدر توموکو اکانے
غیرقانونی تعمیرات کا معاملہ ۱۷؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو سماجی کارکن سنتوش دونڈکر کی شکایت پر سامنے آیا تھا جب انہوں نے اُس وقت کے میونسپل کمشنر کو خط لکھ کر اس کی نشاندہی کی تھی۔ اس شکایت میں کہا گیا تھا کہ ’اے‘ ٹاور میں واقع ۴۵۰؍ سے ۵۰۰؍ مربع فٹ کے ’کامن ایریا‘ کو ناجائز تجاوزات کے ذریعہ فلیٹوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس وقت اس علاقے کے فلیٹوں کی قیمت تقریباً ۵۰؍ ہزار روپے فی مربع فٹ تھی اور اس حساب سے ایک ایک فلیٹ کے ذریعہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی جگہ پر ناجائز قبضہ کیا گیا تھا اور مجموعی طور پر یہ قیمت تقریباً ۲۵۰؍ کروڑ روپے ہورہی تھی۔ سنتوش کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ’مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹائون پلاننگ(ایم آر ٹی پی)‘ ایکٹ کے تحت ’جی سائوتھ‘ کے نامزد افسر نے ہر فلیٹ کے مالک کو تقریباً ۱۰۰؍ نوٹس بھیجے تھے، اس کے باوجود ناجائز قبضوں کو ختم نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ساؤجی ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی، لائسنس معطل
اس معاملے میں ایک سنگین الزام یہ بھی عائد کیا گیا کہ اے ٹاور میں ناجائز تجاوزات کی شکایت اور نوٹس بھیجے جانے کے باوجود بی ٹاور کے کچھ حصے کو ’او سی(آکیوپیشن سرٹیفکیٹ) ‘جاری کردیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اس پر بلڈنگ پرپوزل ڈپارٹمنٹ سے تفصیلات طلب کی تھیں کہ کن وجوہات کی بنیاد پر او سی دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں سابق اور موجودہ ایم ایل اے اور سیاسی اور دیگراثرو رسوخ رکھنے والے افراد کے بھی فلیٹ ہیں اور سیاسی دبائو میں آکر او سی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد میڈیا میں یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ اس عمارت میں ایک سینئر کارکن کے فلیٹ کو ’سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)‘ ۷؍ لاکھ روپے ماہانہ کرایہ پر حاصل کررہا ہے۔ بالآخر بی ایم سی کے ذریعہ فلیٹ مالکان، مکینوں اور بلڈر کو ۱۹؍ اگست ۲۰۲۶ء کو نوٹس بھیجا گیا کہ عمارت کے جائزے کے دوران وہ موجود رہیں۔ اس کے بعد یہاں پیر، ۲۴؍ اگست سے غیرقانونی تجاوزات کو منہدم کرنے کی کارروائی شروع کی گئی۔