اداکارروہت چودھری کا کہنا ہے کہ میں نے انفوسس کی ملازمت کو خیرباد کہہ کر شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور آج غور کرتا ہوں تو لگتا ہے میرا یہ فیصلہ درست تھا۔
EPAPER
Updated: December 17, 2023, 12:27 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
اداکارروہت چودھری کا کہنا ہے کہ میں نے انفوسس کی ملازمت کو خیرباد کہہ کر شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور آج غور کرتا ہوں تو لگتا ہے میرا یہ فیصلہ درست تھا۔
اداکار روہت چودھری ان دنوں دال چینی ٹی وی شو میں نظر آرہے ہیں ۔وہ تیج کا کردار ادا کررہے ہیں جس میں انہیں کافی پسند کیا جارہا ہے۔ ۲۰۱۸ء میں فلم ’پدماوت‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے اداکار نے بعد میں ویب سیریز میں بھی کام کیا۔ بعد ازاں ناگن، فورگٹن آرمی ، برہماراکشس:پھر جاگ اٹھا شیطان، شری کانت بشیر، کُم کُم بھاگیہ اوربوند جیسے اہم شوز میں انہوں نے کردار ادا کیا۔ نمائندہ انقلاب نے ان سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ نے اداکار بننے کا ذہن کس طرح بنایا؟ اور جب آگئے تو جدوجہد کس طرح کیا؟ کچھ ان دنوں کے بارے میں بتائیں ؟
ج: ۲۰۱۵ء میں ، میں انفوسس میں ملازمت کیا کرتا تھا، اس درمیان ماڈلس کے ورکشاپ کیلئے میں میسور سے بنگلور آیا کرتا تھا۔ بنگلور میں اس وقت ایک ایجنسی تھی جو اس طرح کے ورکشاپس کیا کرتی تھی ۔ یہ ایجنسی مختلف کمپنیوں کیلئے ماڈلس وغیرہ فراہم کرتی تھی۔ اس وقت سعاد خان نامی ایک اداکار تھے جنہوں نے ایکٹنگ کے ورکشاپس لئے تھے۔ انہوں نے مجھے اداکاری کے ہنر سے روشناس کروایا۔ یہ سب مجھے اتنا اچھا لگاکہ میں ہر سنیچر اور اتوار کو میسور سے بنگلور ان ورکشاپس میں شرکت کیلئے آنے لگا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں بھی اداکار بن سکتا ہوں ۔ میں کالج میں بھی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کیا کرتا تھا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے اداکار ہوتے ہیں لیکن مجھے کبھی نہیں لگا۔ یہ ایک فن ہوتاہے اور اس کی تربیت حاصل کی جاتی ہے۔پھر میں نے ایکٹنگ کا ڈپلومہ حاصل کیا اور ممبئی میں بہت سے پروڈکشن ہاؤس میں اپنے فوٹووغیرہ روانہ کئے۔انسان کی زندگی میں کبھی کوئی جدوجہد کا دور نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں یہ ایک سیکھنے کا دور ہوتاہے اور انسان کو اس دور سے بھی لطف اندوز ہونا چاہئے۔میں نے اپنے منیجرسے۳؍ماہ کی چھٹی منظور کروائی اور نوی ممبئی منتقل ہوگیا۔ میں روزانہ نوی ممبئی سے اندھیری کا سفر کرتاتھا۔ تعطیلات میں مزید۳؍ماہ کی توسیع کروائی کیونکہ میں ملازمت نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ تاہم انڈسٹری میں کام پانے کیلئے ۶؍ماہ بھی کم ہوتے ہیں ۔ بہرحال کافی کوششوں کے بعد پہلے چھوٹے رول ملے اور اس کے بعد مرکزی کردار میں نظرآنے لگا۔
اس وقت آپ کی کیا مصروفیات ہیں ؟
ج: فی الحال میں ملک کے نمبر۲؍ چینل ’دنگل ٹی وی‘ کے ایک شو ’دال چینی‘ میں کام کررہا ہوں جس کی کافی پزیرائی ہو رہی ہے۔ اس شو میں میرے کردار کانام تیج ہے جو کنیڈا سے تعلیم حاصل کرکے ہندوستان آیا ہے لیکن اس کی شادی ایک دیہاتی لڑکی سے کی گئی ہے جس کا نام دال چینی ہے۔ دال چینی کی زندگی میں رسوئی گھر ہی سب کچھ ہے کیونکہ اسے خدا نے ایسی صلاحیت دی ہے کہ وہ کوئی بھی ڈش بناتی ہے تو اس کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے۔ شو میں میری تعلیم یافتہ والدہ بھی ایک معروف شیف ہیں ۔ میری والدہ اور بیوی میں کھانے کے تعلق سے جنگ ہوتی رہتی ہے اس طرح تیج اور دال چینی کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں اور وہ کس طرح ان سے نمٹتے ہیں ، اس شو میں بہت ہی اچھے انداز میں پیش کیا گیاہے۔
کیا ٹی وی شوز کی کہانیوں پر خواتین کا غلبہ ہے؟
ج:یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ٹی وی شوز کی کہانیوں پر خواتین کا غلبہ ہے ۔ ٹی وی پر کچن شوز اور ڈیلی سوپس میں ساس بہو کی کہانیوں کو ہی پیش کیا جاتاہے۔ بیشتر موقعوں پر مردوں کی مرکزی کردار والی کہانیاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ تجربہ ناکام رہا تھا۔ فلموں کی بات الگ ہے وہاں ۱۰۰؍ میں سے ۲؍ فلمیں ایسی ہوتی ہیں جن کا مرکز خواتین ہوتی ہیں ۔ میں ٹی وی شوز کی بات کروں تو ۱۰۰؍ میں سے ۸۰؍ فیصد کاسٹ خواتین کی ہوتی ہے اور۲۰؍ فیصد مرد ہوتے ہیں ۔ لیکن ایسانہیں ہے کہ مردوں کے کردار اہم نہیں ہوتے ۔ انہیں بھی اپنے رول نبھانے کا پورا موقع ملتا ہے، وہ بھی شائقین کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں اور اپنی اداکاری سے کامیابی کی کہانیاں لکھتے ہیں ۔ لیکن اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ٹی وی کی آڈینس انہی شوز کو پسند کرتی ہے جن میں خواتین کی کہانیوں کو بیان کیاجاتاہے۔
اوٹی ٹی کے آنے کےبعد کس طرح کے نتائج سامنے آئے ہیں ؟
ج:او ٹی ٹی کے آنے کے بعد ٹی وی کو سب سے بڑا نقصان ہوا ہے۔ اس کے شوز کی ٹی آر پی مسلسل کم ہورہی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں جب میں ناگن کے ایپی سوڈ کررہا تھا تو اس وقت اس کی ٹی آر پی ۴ء۵؍ ہوتی تھی۔ او ٹی ٹی کے آنے کے بعداب کسی بھی شوز کی ٹی آر پی ۳؍تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔ آج لوگ ریلس اور موبائل پر ویب شوز دیکھنا پسند کررہے ہیں ۔ گھروں میں ٹی وی نہیں چلتے بلکہ اہل خانہ موبائل پر شوزاور ریلس دیکھتے ہیں ۔ آج ڈش ٹی وی کا دور ختم ہورہا ہے اور لوگ اپنے ٹی وی پر امیزون اسٹک کا استعمال کررہے ہیں ۔ بہت سے ٹی وی ایسے ہیں جن میں ایپ انسٹال ہوتے ہیں جن پر وہ اپنے من پسند شوز دیکھتے ہیں۔ او ٹی ٹی کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ اگر آپ نے کوئی شو مِس کر دیا ہے تو اسے دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً میری پھوپھی او ٹی ٹی پر راماین اورمہابھارت کے پرانے ایپی سوڈ دیکھ رہی ہیں۔ او ٹی ٹی پر بھی بہت ناکام شوز ہیں اور شائقین جنہیں دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ٹی وی شو زکی ٹی آر پی کم ہونے سے وہ جلد بند ہوجاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا کے فالوورس دیکھ کر رول دیئے جاتے ہیں۔ اس طریقے کو آپ کتنا صحیح مانتے ہیں ؟
ج:یہ طریقہ انڈسٹری میں عام ہورہا ہے جس سے انڈسٹر ی ہی کو نقصان ہورہاہے۔ بہت سے پرو ڈکشن ہاؤس ایسے افراد کو کاسٹ کررہے ہیں جنہیں اداکاری کا الف تک نہیں آتا۔ ایک پیشہ ور اداکار اور ریلس بنانے والے فرد کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتاہے۔ ایک اداکار جو ۱۰۰؍ افراد کے سامنے ، بہت سی لائٹنگ اور اسکرپٹ کے ساتھ اپنے ہنر کو پیش کرتا ہے اس کے مقابلے ریلس بنانے والا شخص ایک فون کے سامنے لپسنگ کے ذریعہ کوئی ویڈیو بناتا ہے تو وہ اداکار نہیں کہلاتا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کیا ہے کہ ریلس میں مشہور ہونے والے افراد کولے کر کوئی پروجیکٹ شروع کیا تھا لیکن وہ جلد ہی بند ہوگیا، کیونکہ اس شخص کو اداکاری کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ پروڈکشن ہاؤس کو احساس ہوجائے گا کہ وہ غلط افراد کو موقع دے رہے ہیں ، وہ پرانے طریقوں سے کاسٹ کا انتخاب کریں گے۔
ٹی وی، او ٹی ٹی اور فلم، ان میں سے کس پلیٹ فارم پر کام کرنا پسند ہے؟
ج:فی الحال تو میں ٹی وی پر بہت مصروف ہوں ۔کافی دنوں بعد مجھے مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے، اسلئے میں اس پر توجہ مرکوز کررہا ہوں ۔ اس کے بعد اگر میں کسی اور پلیٹ فارم پر قسمت آزمانا چاہوں گا تو وہ او ٹی ٹی ہوگا۔ ٹی وی بنیاد ہے کیونکہ اس میں آپ کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ بہتر نہیں کریں گے تو ٹی وی کے آڈینس ریموٹ سے آپ کاشو بدل دیں گے۔ فلم کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا،اسلئے اس پلیٹ فارم پرجلد جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ تھیٹر میں شائقین خراب فلم کو بھی برداشت کر لیتے ہیں لیکن ٹی وی پر ایسا نہیں ہے۔او ٹی ٹی کے معاملات الگ ہیں ۔ وہاں شائقین کو شو پسند نہیں آئے تو وہ اسے بند کردیتے ہیں، فارورڈ کرکے دیکھتے ہیں یا پھر کچھ اور دیکھتے ہیں ۔ میں ٹی وی کے بعد او ٹی ٹی کو ترجیح دینا چاہوں گا۔ اس میں حقیقی اداکاری پر زور دیا جاتاہے جس میں میں ماہرہوں ۔ بہرحال ابھی ٹی وی پر بھی بہت کچھ کرنے کیلئے موجود ہے۔
نئے سال کے حساب نے آپ نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟
ج: نئے سال کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ میں نے بہت سے نئے سال جشن مناتے ہوئے نکال دیئے لیکن اس بار چاہتا ہوں کہ کام کرتے ہوئے گزاروں۔ میں شوٹنگ کرتے ہوئے نئے سال کو خوش آمدید کہنا چاہوں گا۔ میری یہی دعا ہے کہ ہمارا شو دنگل کا نمبروَن شو بنے اور اسے شائقین کی طرف سے بھرپور پیار ملتا رہے۔ ہماری یہی کوشش رہے گی کہ ہم اپنے شائقین کو تفریح فراہم کرتے رہیں۔