Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان میں صحافیوں پر حملے ’’جنگی جرائم‘‘ قرار، جوزف عون کا اسرائیل پر سخت الزام

Updated: April 23, 2026, 7:48 PM IST | Beirut

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے جنوبی لبنان میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کو ’’واضح جنگی جرائم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے اب ایک منظم نمونہ بن چکے ہیں۔ صدر جوزف عون نے بھی اسرائیل پر الزامات عائد کیے، جبکہ حالیہ حملے میں صحافی امل خلیل کی ہلاکت نے عالمی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Lebanese President Joseph Aoun. Photo: X
لبنان کے صدر جوزف عون۔ تصویر: ایکس

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے جنوبی لبنان میں میڈیا کارکنوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’جنگی جرائم‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، صحافیوں کو نشانہ بنانا، امدادی ٹیموں کو ان تک پہنچنے سے روکنا، اور بعد ازاں انہی مقامات پر دوبارہ حملے کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سلام نے کہا کہ یہ واقعات اب الگ تھلگ نہیں رہے بلکہ ایک ’’دستاویزی نمونہ‘‘ اختیار کر چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا ورکرز کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان ان معاملات کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کا اعلان: راستے میں ملنے والے ہتھیار بردار اسرائیلی جہاز روکے گا

لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اپنی فوجی کارروائیوں کی حقیقت کو چھپا سکے۔ صدارتی بیان کے مطابق، یہ اقدامات ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں اور عالمی برادری کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب لبنانی صحافی امل خلیل ایک حالیہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے مطابق، وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے نشانہ بنے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: صحافی امل خلیل کے قتل پر عالمی غم و غصہ، وزیراعظم نے’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا

لبنان کی سرکاری ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فورسیز نے خلیل اور ان کی ساتھی زینب فراز کو محاصرے میں لے لیا اور امدادی ٹیموں کو موقع پر پہنچنے سے روکا۔ بعد ازاں، فراج کو زخمی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سرجری کے بعد ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم ان کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی۔ خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حملوں میں شدت آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ۲؍ مارچ سے جاری حملوں میں ۲۲۰۰؍  سے زائد افراد ہلاک جبکہ ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی ثالثی میں ۱۶؍ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں، جہاں حملے مسلسل جاری ہیں اور انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK