Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: امریکہ تجارتی مذاکرات کی شرائط یکطرفہ طور پرطے نہیں کر سکتا: پی ایم کارنی

Updated: April 23, 2026, 8:03 PM IST | Ottawa

کنیڈا کے وزیر اعظم Mark Carney نے واضح کیا ہے کہ امریکہ تجارتی مذاکرات کی شرائط یکطرفہ طور پر طے نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے مبینہ ’’انٹری فیس‘‘ کے مطالبے پر اوٹاوا نے سخت ردعمل دیا، جس سے یو ایس ایم سی اےکی نظرثانی سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔

Mark Carney and Donald Trump. Photo: INN
مارک کارنی اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور کنیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں، جہاں کنیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کی جانب سے مبینہ ’’انٹری فیس‘‘ کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کینیڈین نشریاتی ادارے سی بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ یو ایس ایم سی اے (امریکہ، میکسیکو کنیڈا معاہدہ) پر نظرثانی کے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے کنیڈا سے مراعات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اوٹاوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کارنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جہاں ایک ملک شرائط مسلط کرے اور دوسرا ملک ان کے سامنے جھک جائے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ مذاکرات ہیں، نہ کہ کوئی ایک فریق حکم دے اور دوسرا بھیک مانگے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: روس امریکہ تعلقات پست ترین سطح پر : نائب روسی وزیر خارجہ

اس مؤقف کی حمایت کنیڈا کے سینئر سیاستدان جین شارسیٹ نے بھی کی، جنہوں نے کہا کہ امریکی فریق ’’میز پر بیٹھنے سے پہلے ہی رعایتیں‘‘ چاہتا ہے، جو روایتی سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کی طرف سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی کنیڈا پر اسٹیل اور آٹو سیکٹر میں ٹیرف عائد کر چکی ہے۔ ان اقدامات نے خاص طور پر صوبہ اونٹاریو کو متاثر کیا، جہاں پریمیر ڈو فورڈ نے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی شراب کی فروخت روک دی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے نتیجے میں جرمنی میں ۲؍ لاکھ ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں: رپورٹ

اس ضمن میں امریکی وزیر تجارت ہوارڈ لٹ نک نے اس اقدام کو ’’اشتعال انگیز‘‘ قرار دیا، تاہم فورڈ نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکی محصولات ختم نہیں ہوتے، کنیڈا بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ کارنی نے اپنے حالیہ خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کنیڈا کو اپنی معیشت اور سیکوریٹی کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، ماضی میں جو قریبی تعلقات طاقت سمجھے جاتے تھے، اب وہ کمزوری بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یو ایس ایم سی اے کی آئندہ نظرثانی نہ صرف شمالی امریکہ کی معیشت بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی اہم ثابت ہوگی۔ تاہم، اگر ابتدائی مرحلے پر ہی ’’انٹری فیس‘‘ جیسے مطالبات برقرار رہے تو مذاکرات کا آغاز ہی مشکل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK