Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس نے نوبیل انعام یافتہ انسانی حقوق کی تنظیم ’میموریل‘ کو’انتہا پسند‘ قرار دیا

Updated: April 10, 2026, 2:32 PM IST | Moscow

روس نے نوبیل انعام یافتہ انسانی حقوق کی تنظیم ’میموریل‘ کو’انتہا پسند‘ قرار دیا، روس کی سپریم کورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ فیصلے نے میموریل اور اس کے تمام ساختی حصوں کوانتہا پسند قرار دے دیا ہے، جس سے روس میں تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گئی۔ تازہ ترین حکم نے ان روسیوں کے لیے قانونی سزائیں سخت کر دی ہیں جو تنظیم کے جلاوطن نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روسی صدر ولادمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

روس کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو نوبیل انعام یافتہ انسانی حقوق کی تنظیم میموریل کوانتہا پسند قرار دے دیا۔ اس اقدام سے اس کے حامیوں اور اس کا حصہ بننے والوں کے خلاف مقدمہ چلانا آسان ہو گیا ہے۔یاد رہے کہ ماسکو نے پہلے ہی۲۰۲۱ء میں تنظیم کے آپریشن بند کر دیے تھے، جس کے بعد میموریل مکمل طور پر جلاوطنی میں کام کرنے پر مجبور ہو گئی۔
بعد ازاں تازہ ترین حکم نے ان روسیوں کے لیے قانونی سزائیں سخت کر دی ہیں جو تنظیم کے جلاوطن نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا اسے مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ میموریل نے اس اقدام کو `غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے روس میں سول سوسائٹی پر سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ قرار دیا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالت نے کہا، ’’میموریل کی سرگرمیاں واضح طور پر روس مخالف نوعیت کی ہیں، جن کا مقصد روسی ریاست کی بنیادی بنیادوں کو تباہ کرنا، علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنا، اور تاریخی، ثقافتی، روحانی اور اخلاقی اقدار کو ختم کرنا ہے۔‘‘
۱۹۸۰؍ کی دہائی کے آخر میں قائم ہونے والی میموریل سوویت دور کے جبر کے شکار افراد کو دستاویز کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی کے اوائل میں روس کی جمہوریت کی طرف منتقلی کے دوران امید کی کرن سمجھی جانے والی میموریل نے تب سے ولادیمیر پوتن کی آمرانہ حکمرانی کی مخالفت  کی ہے۔ اس نے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کے ریکارڈ مرتب کیے ہیں، جن میں کریملن کے ناقدین اور یوکرین جنگ کے مخالفین شامل ہیں۔اس گروپ نے چیچنیا اور شام میں روس کی جنگوں سے منسلک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی دستاویز کیا ہے، یوکرینی جنگی قیدیوں کی حالت کو ٹریک کیا ہے، اور ان افراد کی فہرستیں برقرار رکھی ہیں جو اپنے مذہب کی وجہ سے ستائے گئے، جن میں۲۰۰؍ سے زائد یہوواہ کے گواہ شامل ہیں۔اس تنظیم کے مطابق۲۰۲۶ء تک، روس میں ۱۰۰۰؍ سے زائد سیاسی قیدی ہیں، جو۲۰۱۵ء میں صرف ۴۶؍ تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: جنگ بندی کے بعد نیتن یاہو کے خلاف عوامی غصہ، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

انسانی حقوق کی یہ ممتاز تنظیم مسلسل دہشت گرد اور انتہا پسند سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کی وجہ سے حکومت کی نظر میں رہی ہے۔ جمعرات کو روس کے اس گروپ کو انتہا پسند قرار دینے کے فیصلے نے قانونی سزاؤں کو سخت کر دیا ہے جو کسی بھی روسی کے خلاف عائد کی جا سکتی ہیں جو جلاوطنی میں تنظیم کے نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کرتا ہے یا رقم عطیہ کرتا ہے۔تاہم میموریل کو طویل عرصے سے روسی حکام کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے،۲۰۲۱ء میں، روس کی سپریم کورٹ نے قوانین کی خلاف ورزی اور مبینہ طور پر انتہا پسند سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ بندی کو لیپڈ نے نیتن یاہو کی ’اسٹریٹجک ناکامی‘ کہا، جرمنی میں اسرائیل مخالف مظاہرے

حال ہی میں، روس نے گروپ کو انتہا پسند قرار دے کر اپنا کریک ڈاؤن تیز کیا، جس سے حامیوں اور عطیہ دہندگان کو سخت قانونی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑاجبکہ ۔میموریل نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ سول سوسائٹی کے بڑھتے ہوئے جبر کا اشارہ ہے۔ اس کے باوجود، تنظیم کو۲۰۲۲ء میں الیس بیالیاتسکی اور یوکرین کے سینٹر فار سوول لبرٹیز کے ساتھ مشترکہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویز شکل دینے پر نوبل امن انعام ملا۔ تازہ ترین فیصلے کے فوراً بعد، ماسکو کی ایک عدالت نے میموریل کے ہیڈکوارٹر کو ضبط کرنے اور اسے ریاستی کنٹرول میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK