Inquilab Logo Happiest Places to Work

ساحر لدھیانوی اپنی شخصیت سے دوسروں پر جادو کردیتے تھے

Updated: March 08, 2026, 10:21 AM IST | Mumbai

ساحرلدھیانوی اردو کے نامور شاعر، نغمہ نگار اور ترقی پسند ادیب تھے۔ ان کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ وہ۸؍مارچ ۱۹۲۱ءکوپنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک جاگیردار تھے۔

Sahir Ludhianvi, the magician of words. Photo: INN
ساحر لدھیانوی الفاظ کے جادوگر۔ تصویر: آئی این این

ساحرلدھیانوی اردو کے نامور شاعر، نغمہ نگار اور ترقی پسند ادیب تھے۔ ان کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ وہ۸؍مارچ ۱۹۲۱ءکوپنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک جاگیردار تھے، لیکن گھریلو اختلافات کی وجہ سے ساحر اپنی والدہ کے ساتھ رہے اور بچپن میں ہی معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کیا۔ انہی تجربات نے ان کی شاعری کو گہرا سماجی شعور دیا۔ ساحر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہےکہ وہ انتہائی آسان زبان اور عام فہم الفاظ کے ذریعے اپنے خیالات و جذبات کو پیش کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ یہ خوبی تلخیاں کی پہلی نظم ’ردِعمل‘میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ساحرلدھیانوی کےاندر اپنے نام کی مناسبت سےلوگوں کے دل ودماغ کو مسحورکرنے کی صلاحیت موجودتھی۔ انکاکلام واقعی لوگوں پر جادوکی طرح کام کرتا تھا۔ دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی قارئین اور سامعین آج بھی انکے اشعاراورنغمےگنگناتےہیں۔ یہی حقیقت ہے اوریہی انکی مقبولیت کی سند بھی ہے۔ نقاد انکی شاعری کو جس خانے میں بھی رکھیں اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی۔ انھوں نے ایسے ایسے فلمی نغمے تحریر کیے جونہ صرف ادبی معیار پرکھرے اترتے ہیں بلکہ عوام میں آج بھی بے حد مقبول ہیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’ڈان ۳‘‘ کے تنازع کے بعد فرحان نے سنی دیول پرسب سے بڑا داؤ کھیلا

ساحرنے۱۹۵۰ءمیں ریلیز ہوئی فلم آزادی کی راہ پرمیں اپنا پہلا نغمہ بدل رہی ہے زندگی لکھا لیکن فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ ۱۹۵۱ءمیں ایس ڈی برمن کی دھن پر فلم نوجوان میں لکھے اپنے نغمے ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں کے بعد وہ نغمہ نگار کی حیثیت سے اپنی کچھ حد اپنی پہچان بنانےمیں کامیاب ہوگئے۔ ساحر نے خیام کی موسیقی میں بھی کئی سپرہٹ نغمے لکھے۔ ۱۹۵۸ءمیں آئی فلم پھر صبح ہوگی کے لئے راج کپور یہ چاہتے تھے کہ ان کے پسندیدہ موسیقار شنکر جے کشن اس کی موسیقی دیں جبکہ ساحر اس بات سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ فلم میں موسیقی خیام کی ہی ہو۔ وہ صبح کبھی تو آئے گی جیسے نغمے کی کامیابی سے ساحر کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ یہ گانا آج بھی کلاسیکی نغمے کے طور پر یادکیاجاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: والدین کی قربانیاں کبھی نہ بھولیں: جیکی شروف کی نوجوانوں کو نصیحت

گرودت کی فلم پیاساساحر کے فلمی کرئیرکی اہم فلم ثابت ہوئی۔ فلم کی ریلیز کے دوران عجیب و غریب نظارہ دکھائی دیا۔ ممبئی کے منروا ٹاکیز میں جب یہ فلم دکھائی جارہی تھی تب جیسے ہی جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں بجا تمام ناظرین اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گانے کے اختتام تک تالی بجاتے رہے۔ بعد میں ناظرین کے مطالبے پر اسے۳؍مرتبہ دکھایا گیا۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ میں شاید پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ ساحر لدھیانوی نے دیگر کئی موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا، جن میں خیام، روشن، روی، ڈتہ نائیک شامل تھے۔ دتّا نائک، جو این۔ دتّا کے نام سے بھی معروف تھے اور اصل میں گوا سے تعلق رکھتے تھے، ساحر کی شاعری کے بڑے مداح تھے۔ ان دونوں کی مشترکہ کاوشوں سے کئی فلموں کی یادگار موسیقی وجود میں آئی، جن میں ملاپ، چندکانت، سادھنا، دھول کا پھول، دھرم پتر، نیا راستہ شامل ہیں۔ ساحر اپنے فلمی کیرئیر میں دوبار بہترین نغمہ نگار کی حیثیت سے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے گئے۔ تقریباً ۳؍ دہائی تک ہندی سنیما کو اپنےزبردست نغموں سے ناظرین کو مسحور کرنے والے ساحر لدھیانوی ۵۹؍سال کی عمر میں ۲۵؍اکتوبر۱۹۸۰ءکواس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK