ہندوستان کے ۲۴؍ سالہ اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی لکشیا سین نے سنیچر کے روز یہاں سیمی فائنل میں کینیڈا کے وکٹر لائی کو میراتھن مقابلے میں شکست دے کر دوسری بار آل انگلینڈ اوپن کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 12:03 PM IST
ہندوستان کے ۲۴؍ سالہ اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی لکشیا سین نے سنیچر کے روز یہاں سیمی فائنل میں کینیڈا کے وکٹر لائی کو میراتھن مقابلے میں شکست دے کر دوسری بار آل انگلینڈ اوپن کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
ہندوستان کے ۲۴؍ سالہ اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی لکشیا سین نے سنیچر کے روز یہاں سیمی فائنل میں کینیڈا کے وکٹر لائی کو میراتھن مقابلے میں شکست دے کر دوسری بار آل انگلینڈ اوپن کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ پرکاش پڈوکون کے بعد ۲؍ بار اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے والے دوسرے ہندوستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
لکشیا سین، جو اس سے قبل ۲۰۲۲ء میں بھی فائنل تک پہنچے تھے، نے ایک گھنٹہ ۳۷؍ منٹ تک جاری رہنے والے طویل مقابلے میں ۱۵۔ ۲۱، ۲۱۔ ۱۸، ۱۶۔ ۲۱؍سے کامیابی حاصل کی۔ یہ جیت اس لئےبھی اہم ہے کیونکہ لکشیا اپنے دائیں پاؤں کے انگوٹھے میں چھالوں کے باوجود پورے جوش و خروش سے کھیلے۔
یہ بھی پڑھئے: کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز پہلی مرتبہ۳؍ شہروں میں منعقد ہوں گے
اس سیمی فائنل میں دونوں کھلاڑیوں کی جسمانی قوت کا کڑا امتحان ہوا، جہاں کئی ریلیاں ۵۰؍ سے زائد اسٹروکس پر محیط تھیں۔ پہلا گیم ۱۶۔ ۱۷؍تک برابر رہا، لیکن لکشیا نے مسلسل ۴؍ پوائنٹس حاصل کر کے برتری حاصل کر لی۔ دوسرے گیم میں وکٹر لائی، جو بی ڈبلیو ایف ورلڈ چمپئن شپ میڈل جیتنے والے پہلے کینیڈین ہیں، نے شاندار واپسی کی اور میچ کو فیصلہ کن سیٹ تک لے گئے۔ تیسرے اور آخری گیم میں لکشیا نے اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے۹۔ ۱۵؍ کی برتری حاصل کی اور آخر میں مسلسل 4{ پوائنٹس جیت کر فائنل کا ٹکٹ کٹا لیا۔ اب اتوار کو فیصلہ کن مقابلے میں لکشیا سین کا مقابلہ چائنیز تائپے کے لن چون یی سے ہوگا۔ انڈیا اوپن چمپئن لن چون یی نے دوسرے سیمی فائنل میں تھائی لینڈ کے سیکنڈ سیڈ کھلاڑی کنلاوت ویتیدسارن کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
یاد رہے کہ لکشیا کے مینٹور پرکاش پڈوکون ۱۹۸۰ء اور ۱۹۸۱ء میں اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے تھے اور ۱۹۸۰ء میں ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ اب پوری قوم کی نظریں لکشیا سین پر ہیں کہ کیا وہ ۲۰۰۱ء میں پولیلا گوپی چند کے بعد یہ اعزاز جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔