Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیم انڈیا کی نظریں خطاب کے دفاع پر، کیوی ٹیم تاریخ رقم کرنے کی خواہشمند

Updated: March 08, 2026, 11:59 AM IST | Ahmedabad

آج جب ہندوستان آئی سی سی مینز ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے مدمقابل ہوگا تو یہ محض کرکٹ کا ایک اور میچ نہیں ہوگا۔ اس مقابلے میں جہاں ہندوستان کی نظریں فتح حاصل کرکے اپنے خطاب کے دفاع پر ہوں گی تو وہیں نیوزی لینڈ تاریخ رقم کرنے کا خواہشمند ہوگا۔

A thrilling contest for the title is expected between India and New Zealand. Photo: INN
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان خطاب کیلئے سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔ تصویر: آئی این این

آج جب ہندوستان آئی سی سی مینز ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے مدمقابل ہوگا تو یہ محض کرکٹ کا ایک اور میچ نہیں ہوگا۔ اس مقابلے میں جہاں ہندوستان کی نظریں فتح حاصل کرکے اپنے خطاب کے دفاع پر ہوں گی تو وہیں نیوزی لینڈ تاریخ رقم کرنے کا خواہشمند ہوگا۔ ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک کوئی بھی ٹیم مسلسل ۲؍ بار خطاب جیتنے یا اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ایسے میں ٹیم انڈیا کے پاس تاریخ رقم کرنے کا سنہرا موقع موجود ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستان نے روہت شرما کی قیادت میں ۲۰۲۴ء کا ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ جیتا تھا۔ 
ہندوستانی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں نہ صرف جیت حاصل کی بلکہ طوفانی بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۷؍ وکٹوں کے نقصان پر ۲۵۳؍ رنوں کا ہمالیائی اسکور بنایا، جس میں سنجو سیمسن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی اننگز کھیلی۔ انہوں نے محض ۴۲؍گیندوں پر ۸۹؍ رن بنائے، جو کہ زبردست اسٹروک پلے اور نڈر عزائم سے بھرپور تھے۔ مڈل آرڈر میں ایشان کشن، شیوم دوبے، ہاردک پانڈیا اور تلک ورما نے دباؤ برقرار رکھا، جس کی بدولت سیمی فائنل میں رنوں کا پہاڑ تیار ہو گیا۔ انگلینڈ نے جیکب بیتھل کی شاندار سنچری کی مدد سے واپسی کی کوشش کی، لیکن ہندوستان نے آخری دم تک ہمت نہیں ہاری اور کامیابی حاصل کی۔ یہی ایک چمپئن ٹیم کی پہچان ہے۔ لیکن اگر ہندوستان تیزی سے آگے بڑھا ہے، تو نیوزی لینڈ نے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ایسا ہدف عبور کیا جس نے پورے ٹورنامنٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ اسکور بورڈ پر ۱۶۹؍ رن موجود تھے۔ فن ایلن نے محض ۳۳؍ گیندوں پر حیران کن ۱۰۰؍ رن بنائے پیور پاور، کلین اسٹرائیکنگ اور نڈر کرکٹ۔ ان کے ساتھ ٹم سیفرٹ نے ۵۸؍ رن بنا کر کھیل کی رفتار تیز رکھی، جس کی بدولت نیوزی لینڈ نے ۱۳؍ویں اوور میں ۹؍ وکٹ باقی رہتے جیت حاصل کر لی۔ 

یہ بھی پڑھئے: سنجو سیمسن کی ذہنی پختگی نے انہیں میچ ونر بنا دیا

ہندوستان کی زبردست بیٹنگ لائن اپ، جس کی قیادت ایشان کشن کر رہے ہیں جو ۲۶۳؍ رن کے ساتھ ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں -شروع میں ہی اپنی چھاپ چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیم کے مسٹری اسپنر ورون چکرورتی، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں اب تک ۱۳؍وکٹ حاصل کئے ہیں، پوری مہم میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوئے ہیں۔ 
دوسری جانب نیوزی لینڈ کیلئے، فن ایلن کے ۲۸۹؍ رن ان کی مہم کی دھڑکن رہے ہیں، جبکہ راچن رویندر کے ۱۱؍وکٹوں نے خاموشی سے ان کے اٹیک میں توازن پیدا کر دیا ہے۔ لیکن اعداد و شمار سے ہٹ کر کچھ اور بھی گہرا ہے-ایک طویل کہانی۔ برسوں سے آئی سی سی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ ہندوستان کیلئے ایک مشکل رکاوٹ رہا ہے، وہ ٹیم جو اکثر ہندوستانی خوابوں کے سامنے غلط وقت پر آئی ہے۔ یہ ماضی کے سائے ہیں اور اتوار کو ہندوستان کو براہِ راست ٹکرانے کا موقع ملے گا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے کپتان سوریہ کمار یادو اور ٹیم مینجمنٹ فائنل سے پہلے کچھ بڑی تکنیکی تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ 
ایک متبادل ابھیشیک شرما کی جگہ رنکو سنگھ کو شامل کرنا ہو سکتا ہے۔ ابھیشیک نے ٹی۔ ۲۰؍ کرکٹ میں ایک جارحانہ اوپنر کے طور پر نام کمایا ہے، لیکن ٹورنامنٹ میں ان کا فارم خراب رہا ہے۔ تسلسل کی کمی کی وجہ سے تھنک ٹینک رنکو سنگھ کو لانے کے لئےمائل ہو سکتا ہے، جو ایک معروف فنشر ہیں اور ڈیتھ اوورز میں تیزی سے رن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ایک اور ممکنہ تبدیلی اسپن کے شعبے میں ہو سکتی ہے۔ ورون چکرورتی، ہندوستان کے وکٹ چارٹ میں سب سے آگے رہنے کے باوجود، ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں کنٹرول کیلئے جد وجہد کرتے نظر آئے ہیں اور سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ۶۴؍رن دے کر ایک مشکل کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے کلدیپ یادو کیلئے دروازہ کھل سکتا ہے۔ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو پریشان کرنے اور ٹرننگ کنڈیشن کا فائدہ اٹھانے کی کلدیپ کی صلاحیت احمد آباد کی پچ پر فن ایلن جیسے نیوزی لینڈ کے جارح بلے بازوں کے خلاف فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ہندوستان یہ تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اس قدم سے ٹیم میں زیادہ توازن آ سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK