Updated: May 24, 2026, 5:04 PM IST
| Mumbai
’’ماتر بھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ گزشتہ کئی مہینوں سے غیر یقینی صورتحال اور تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ سلمان خان کی مرکزی کردار والی اس فلم کو ابتدا میں ’’دی بیٹل آف گلوان ‘‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا اور اس کی ریلیز ۱۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کے لیے طے تھی، تاہم فلم اب تک سنیما گھروں تک نہیں پہنچ سکی۔ اسی دوران، گلوان جھڑپ پر مبنی ایک اور فلم The Line of Galwan کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔
’’ماتر بھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ گزشتہ کئی مہینوں سے غیر یقینی صورتحال اور تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ سلمان خان کی مرکزی کردار والی اس فلم کو ابتدا میں ’’دی بیٹل آف گلوان ‘‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا اور اس کی ریلیز ۱۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کے لیے طے تھی، تاہم فلم اب تک سنیما گھروں تک نہیں پہنچ سکی۔ رپورٹس کے مطابق، فلم کے موضوع یعنی ۲۰۲۰ء کی گلوان وادی جھڑپ اور ہندوستان چین کشیدگی نے پروجیکٹ کو سفارتی اور سینسرشپ کے لحاظ سے حساس بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب فلم کا نام تبدیل کرکے ’’ماتر بھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ رکھا گیا ہے، جبکہ اس کے متعدد مناظر دوبارہ فلمائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ فلم کی ہدایت کاری اپورا لاکھیا کر رہے ہیں، جبکہ سلمان خان اس میں کرنل بکم اللہ سنتوش بابو کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو گلوان تصادم کے دوران شہید ہونے والے ۱۶؍ بہار رجمنٹ کے افسر تھے۔
یہ بھی پڑئے : ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کا ٹریلر جاری
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ گلوان وادی کے پس منظر پر بننے والی ایک اور فلم The Line of Galwan بھی غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے۔ اس فلم کو ہمالی داسانی پروڈیوس کر رہے تھے، جبکہ اس میں ان کے بیٹے ابھیمنو مرکزی کردار ادا کرنے والے تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہمالی داسانی نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہندوستان اور چین کے تعلقات نسبتاً بہتر ہیں، اس لیے اس نوعیت کی کہانیوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں وزارت دفاع سے واضح ہدایات ملی ہیں کہ چین کے ساتھ براہ راست تصادم والے بیانیے سے گریز کیا جائے۔ اگر ہم اصل تنازعے اور اس کے پس منظر کو صحیح طریقے سے نہیں دکھا سکتے تو ایسی فلم بنانے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی فوجی یا جنگی فلم کی طرح اس منصوبے کو بھی وزارت دفاع اور ہندوستانی فوج کی منظوری درکار ہوگی، اور بغیر کلیئرنس کے فلم آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
دوسری جانب ’’ماتر بھومی‘‘ کے حوالے سے انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ میکرز اب فلم میں چین کا براہ راست ذکر کم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں بعض فلموں میں پاکستان کو صرف ’’پڑوسی ملک‘‘ کہا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق، ’’چونکہ گلوان جنگ کا ذکر سفارتی حساسیت پیدا کر رہا تھا، اس لیے اب فلم میں بیانیہ نرم کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تنازعات سے بچا جا سکے۔‘‘ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ فلم ابھی تک سینسر بورڈ سے سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئی، اور میکرز کو پہلے فوج اور وزارت دفاع کی منظوری درکار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: ایشوریہ رائے کےپنک گاؤن نے توجہ سمیٹ لی
ادھر سلمان خان نے حال ہی میں فلم کی شوٹنگ کے جسمانی چیلنجز پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لداخ میں انتہائی بلندی اور برفیلے پانی میں شوٹنگ کرنا ان کے کریئر کے مشکل ترین تجربات میں سے ایک رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس فلم کے لیے مجھے سخت جسمانی تربیت لینا پڑی۔ برف جیسے ٹھنڈے پانی میں کئی دن تک شوٹنگ کرنا آسان نہیں تھا۔‘‘ سلمان خان حالیہ دنوں میں اس وقت بھی خبروں میں آئے جب ایک اسپتال کے باہر پاپارازی کے مسلسل سوالات پر وہ ناراض ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے انسٹاگرام پوسٹس کے ذریعے میڈیا کے رویے پر تنقید بھی کی۔ ان تمام تنازعات اور تاخیر کے باوجود، رپورٹس کے مطابق میکرز اب بھی فلم کو او ٹی ٹی کے بجائے تھیٹر میں ریلیز کرنے کے خواہاں ہیں، اور ۱۴؍ اگست ۲۰۲۶ء کی ممکنہ ریلیز تاریخ پر غور کیا جا رہا ہے۔