Updated: January 31, 2026, 5:06 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے ممبئی کی شہری عدالت سے عارضی احکامات حاصل کیے ہیں جن میں فلم ڈائریکٹر ابھینو کشیپ، خوشبو ہزارے، کومل مہرو اور دیگر کو ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی قسم کے نازیبا یا توہین آمیز بیانات، انٹرویوز اور پوسٹس جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آزادی اظہار رائے میں بھی حدود ہوتی ہیں اور وہ کسی فرد یا خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی۔
سلمان خان۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے عدالت سے عارضی احکامات حاصل کر لیے ہیں جس کے تحت فلم ہدایتکار ابھینو کشیپ، صحافی خوشبو ہزارے اور دیگر کو سلمان خان اور ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی نوعیت کے تنقیدی یا توہین آمیز بیانات، انٹرویوز، ویڈیوز، پوسٹس یا مواد جاری کرنے سے روکا گیا ہے۔ ممبئی کی شہری عدالت نے یہ حکم سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی ہتک عزت کی مدعی درخواست پر دیا۔ عدالت میں سلمان خان نے موقف اختیار کیا کہ ستمبر سے دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کشیپ نے کئی ویڈیوز اور انٹرویوز میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر جھوٹے، بے بنیاد، توہین آمیز اور بدنام کرنے والے الزامات لگائے، جس سے ان کی ساکھ اور پروفیشنل وقار کو نقصان پہنچا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کشیپ نے اپنے بیانات میں سلمان خان کے خاندان کو ’’کریمنل نیٹ ورک‘‘، ’’جہادی ایکوسسٹم‘‘ جیسے الفاظ سے نوازا اور ان کی ذاتی زندگی، عمر اور کردار پر بھی قابل اعتراض تبصرے کیے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی ریلیز کے تعلق سے ادیتی راؤ حیدری پرجوش ہیں
عدالت نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جج پی جی بھوسلے کی سربراہی میں فیصلہ سنایا کہ آزادی اظہار رائے کا حق ہے لیکن یہ ’’کسی فرد کی عزت و ناموس کو نقصان پہنچانے یا اسے گمراہ کن الزامات کے ساتھ پیش کرنے‘‘ کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے عارضی طور پر کشیپ، ہزارے اور دیگر فریقین کو کسی بھی مزید بیانات، ویڈیوز، انٹرویوز، کمیونیکیشن، پوسٹس یا سوشل میڈیا پر تبصروں کو جاری، اپلوڈ، ری پوسٹ یا شائع کرنے سے اس وقت تک روکا ہے، جب تک کہ وہ عدالت میں اپنا جواب دائر نہ کر دیں۔ یہ قانونی کارروائی سلمان خان کی مدعی درخواست کے تحت کی گئی ہے جس میں وہ پانچ فریقین کے خلاف کیس داخل کر چکے ہیں: ابھینو کشیپ، کومل مہرو، خوشبو ہزارے، اشوک کمار (جون ڈو)، اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جہاں مواد شائع ہوا۔ درخواست کے ساتھ ساتھ سلمان خان نے ان افراد کے خلاف مستقل حکم اور ۹؍ کروڑ روپے ہرجانے کی بھی مانگ کی ہے، جس کے لیے عدالت میں مزید سماعتیں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ثریا نے اپنی آواز اور اداکاری سے مداحوں کو دیوانہ بنایا تھا
درخواست میں کہا گیا کہ ’’بالی ووڈ ٹھکانہ‘‘ نامی چینل پر نشر ہونے والے انٹرویوز اور ویڈیوز میں سلمان خان کے کردار، ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور خاندان کے بارے میں جو الزامات لگائے گئے وہ ’’بدنام کرنے والے، جھوٹے اور معاشرتی طور پر نقصان دہ‘‘ ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ بے بنیاد اور توہین آمیز بیانات کی اجازت مل جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر شہری کو حق ہے کہ وہ اپنے وقار، عزت اور ذاتی معلومات کی حفاظت کرے۔البتہ عدالت کے نشاندہی کی کہ یہ عارضی حکم ہے اور مستقبل میں مزید سماعتوں کے دوران کشیپ اور دیگر فریقین کے جوابات کی بنیاد پر فیصلہ بدلا یا برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ سلمان خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس قسم کے الزامات نے نہ صرف سلمان خان کی ذاتی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ ان کے پیشہ ورانہ تعلقات اور عوامی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس نوعیت کے قانونی معاملات میں عدالت عام طور پر بیانات کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا وہ سچ، ثبوت اور معروضی حقیقت پر مبنی ہیں یا انہیں پریس اور سوشل میڈیا کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عدالت کے موجودہ حکم کے بعد میڈیا، ڈجیٹل چینلز اور دیگر پلیٹ فارم بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں کیونکہ کسی بھی قسم کا نازیبا یا غیر مصدقہ مواد اب قانونی چارہ جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔