Updated: April 13, 2026, 11:15 AM IST
| Mumbai
ستیش کوشک کو بالی ووڈ میں شہرت ۱۹۸۷ءمیں شیکھر کپور کی فلم ’مسٹر انڈیا‘سےملی جس میں انیل کپور، سری دیوی اور امریش پوری بھی تھے۔ انہوں نے اس فلم میں باورچی ’کیلنڈر‘کا آئیکانک کردار ادا کیا۔ ان کا مزاحیہ انداز اور مشہور مکالمہ ’کیلنڈر، کھانا دو‘ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں ہر گھر کی زبان بن گیا۔
مشہور اداکار اور ہدایت کار ستیش کوشک۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی فلمی دنیا میں کچھ فنکار ایسےرہے جو اپنی موجودگی سے پوری فضا کو روشن کر دیتے ہیں، ستیش کوشک ایسا ہی ایک نام تھا۔ ستیش چندر کوشک ۱۳؍اپریل ۱۹۵۶ءکودہلی کے کرول باغ میں ایک گاؤر برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ہندوستانی اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر، مزاح نگار، ایڈیٹر اور اسکرین رائٹر تھے جنہوں نے ۴؍ دہائیوں پر محیط اپنے کریئر میں بالی ووڈ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ستیش کوشک نے ۱۹۷۲ءمیں کِرّوری مل کالج، دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انہوں نے نیشنل اسکول آف ڈراما (این ایس ڈی)دہلی اور پھر پونے کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا(ایف ٹی آئی آئی)سے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ یہیں ان کی ملاقات انوپم کھیر سے ہوئی جو آگے چل کر ان کی ۴۵؍ سالہ گہری دوستی کی بنیاد بنی۔ ستیش کوشک نے اپنے کریئر کا آغاز شیکھر کپور کی فلم معصوم‘ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کیا اور یہ ان کی بطور اداکار پہلی فلم بھی تھی۔ کندن شاہ کی مشہور کامیڈی کلاسک ’جانے بھی دو یارو‘ (۱۹۸۳ء) میں انہوں نے ڈائیلاگ رائٹر کے طور پر کام کیا۔
ستیش کوشک کو بالی ووڈ میں شہرت ۱۹۸۷ءمیں شیکھر کپور کی فلم ’مسٹر انڈیا‘سےملی جس میں انیل کپور، سری دیوی اور امریش پوری بھی تھے۔ انہوں نے اس فلم میں باورچی ’کیلنڈر‘کا آئیکانک کردار ادا کیا۔ ان کا مزاحیہ انداز اور مشہور مکالمہ ’کیلنڈر، کھانا دو‘ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں ہر گھر کی زبان بن گیا۔ یہ کردار اتنا مقبول ہوا کہ ستیش کوشک کو برسوں تک لوگ ’کیلنڈر‘ کے نام سے ہی پہچانتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مصاحبین کا کلچر‘‘ نشانے پر،پریہ درشن نے کہا اسرانی کو ان سے کم معاوضہ ملتا تھا
ستیش کوشک نےاپنی زندگی میں ۱۰۰؍سےزیادہ فلموں اور شو میں کام کیا۔ ان کی سب سے مشہور فلموں میں رام لکھن (۱۹۸۹ء)، ساجن چلے سسرال (۱۹۹۶ء)، دیوانہ مستانہ (۱۹۹۷ء)، برک لین (۲۰۰۷ء)، اڑتا پنجاب (۲۰۱۶ء)اور کاغذ (۲۰۲۱ء)شامل ہیں۔ رام لکھن میں ان کی مزاحیہ اداکاری نے انہیں پہلافلم فیئر بہترین مزاح نگار ایوارڈ دلایا۔ دیوانہ مستانہ میں انہوں نے ’پپّو پیجر‘کا لازوال کردار ادا کیا جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔ برطانوی فلم ساز سارہ گیوران کی فلم’برک لین‘میں انہوں نے ’چانو احمد‘کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم جنوبی ایشیائی باشندوں کی لندن میں زندگی اور نسلی تناؤ کے بارے میں تھی۔ کاغذمیں ان کی اداکاری کیلئے انہیں دادا صاحب پھالکے فلم فیسٹیول میں بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔
تھیٹرکے اداکار کے طور پر ان کا سب سے نمایاں کردار آرتھر ملر کےڈرامے’ڈیتھ آف اے سیلزمین‘کی ہندی تشریح ’سیلزمین رام لال‘ میں ’ولی لومن‘ کا تھا۔ یہ کردار ان کی اداکاری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح وہ مزاح کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور المناک کردار بھی یکساں مہارت سے نبھا سکتے تھے۔ ستیش کوشک نے ۱۹۹۳ءمیں ’روپ کی رانی چوروں کا راجہ‘ سے بطور ہدایت کار اپنا آغاز کیا لیکن یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوئی۔ ۱۹۹۵ءمیں ’پریم‘بھی ناکام رہی۔ لیکن ۱۹۹۹ءمیں ’ہم آپ کے دل میں رہتے ہیں ‘ ان کی بطور ہدایت کار پہلی کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ ۲۰۰۳ءمیں انہوں نے سلمان خان کی ’تیرے نام‘ کی ہدایت کاری کی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی اور آج بھی ایک کلٹ کلاسک مانی جاتی ہے۔ ستیش کوشک نے فلم فیئر بہترین مزاح نگار ایوارڈ دو بار جیتا ۱۹۹۰ءمیں رام لکھن کیلئے اور ۱۹۹۷ءمیں ساجن چلے سسرال کے لیے۔ انہوں نے ایک ٹی وی کاؤنٹ ڈاؤن شو’ٹاپ ٹین‘ میں کو-رائٹر اور اینکر کی حیثیت سے کام کیا جس کیلئے اسکرین ویڈیوکان ایوارڈ بھی ملا۔ ۹؍ مارچ ۲۰۲۳ءکو دل کادورہ پڑنے سےستیش کوشک کا ۶۶؍سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔