• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش کے کئی وزراء بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں

Updated: February 06, 2026, 11:21 AM IST | Agency | Dhaka

بنگلہ دیش میں عام انتخاب انتہائی قریب ہیں لیکن ووٹنگ اور نتائج برآمد ہونے سے ٹھیک پہلے کئی وزراء ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف سرکاری پاسپورٹ اور ویزا سے متعلق درخواستوں نے کیا ہے۔

Bangladeshi Foreign Affairs Adviser Towhid Hossain.Photo:INN
بنگلہ دیشی مشیر برائے خارجہ توحید حسین۔ تصویر:آئی این این
 بنگلہ دیش میں عام انتخاب انتہائی قریب ہیں لیکن ووٹنگ اور نتائج برآمد ہونے سے ٹھیک پہلے کئی وزراء ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف سرکاری پاسپورٹ اور ویزا سے متعلق درخواستوں نے کیا ہے۔ دراصل یونس حکومت کے کئی وزراء (مشیر) ایک ساتھ سفارتی پاسپورٹ جمع کر رہے ہیں۔ عام طور پر حکومت سے ہٹنے کے بعد وزراء یہ سفارتی پاسپورٹ جمع کراتے ہیں۔ یہ سفارتی پاسپورٹ بنگلہ دیش میں وزراء اور سفارتخانہ کے سینئر افسران کو جاری کیا جاتا ہے۔’بی بی سی بانگلہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سفارتی پاسپورٹ اس  لئے جمع کرایا جا رہا ہے تاکہ انھیں آسانی سے ملک سے باہر جانے کے لئے ویزا مل جائے۔ کئی وزراء نے ویزا کیلئے درخواست بھی دے دی ہے۔ ویزا ملتے ہی یہ وزراءبیرون ممالک چلے جائیں گے۔  اس کی تصدیق مشیر برائے خارجہ توحید حسین نے بھی کی ہے۔
 
 
اس بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  توحید حسین نے کہا کہ کچھ وزراء نے ویزا کے لیے درخواست کے لئے اپنا سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کر دیا ہے۔ ویزا کے لیے یہ کرنا ضروری ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک روایت رہی ہے کہ عہدہ جانے کے بعد وزراء سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کرتے ہیں۔ میں نے اور میری بیوی نے اس پاسپورٹ کو اب تک سرینڈر نہیں کیا ہے۔
 
 
رپورٹ کے مطابق اب تک صرف مشیر برائے مالیات ڈاکٹر صالح الدین احمد کے پاسپورٹ سرینڈر کرنے کی خبر باہر آ سکی ہے۔ صالح الدین نے خود اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں محمد فوزالکبیر خان کے ذریعہ بھی سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حالانکہ توحید حسین نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کسی بھی نام کا ذکر نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ۱۲؍فروری کو پولنگ ہے اور ۱۵؍فروری تک نتائج بھی برآمد ہو جائیں گے۔ اس کے بعد حکومت تشکیل دینے کا عمل شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK