Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلسل بڑھتی مہنگائی پرعوام میں شدیدبے چینی اور غصہ

Updated: August 31, 2026, 11:01 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

غریب اور متوسط طبقے کے مطابق آخر کب تک صرف ہمیں اور ہمارے بچوں کو مختلف ضروریات زندگی کے استعمال کی چیزوں میں ہونے والے مالی اضافے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

The rise in the price of dairy-farm milk will disrupt the household budget. Picture: Inquilab
طویلے کے دودھ کے دام میں اضافے سے گھر کا بجٹ بگڑ جائے گا۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ ایک ماہ کے درمیان کھانے پینے کی مختلف اشیاء میں ہونے والے بے پناہ اضافہ سے عوام پہلے ہی پڑنے والے مالی بوجھ سے پریشان تھے ، یکم ستمبر سے عوام پرطویلے کے دودھ ، رکشا اور ٹیکسی کرایہ میں ہونے والے اضافے سے عوام حکومت سے سخت نالاں ہیں ۔ مسلسل بڑھتی مہنگائی پر عوام میں  شدید بے چینی اور غصہ پایا جارہا ہے ۔عروس البلاد ممبئی کے غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے بقول ’’آخر کب تک ہمیں ہی ضروریات زندگی میں استعمال ہونے والی چیزوں میں مالی اضافے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا ؟ اورکب تک  ہمارے نوجوانوں ہی کو بے روز گاری کی مار جھیلنی پڑے گی؟ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:وائٹ ہاؤس کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر پر ٹرمپ کی تقاریر پر سٹہ لگانے پر جرمانہ

گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دنوں کے درمیان شکر، پیکٹ والے دودھ ، دال چاول ، انڈا اور دیگر کئی خوردنی اشیاء کے دام میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ وہیں اب یکم ستمبر سے طویلے کا دودھ جو اب تک شہر میں ۹۳؍ روپے فی لیٹر دستیاب تھا ، ۹؍ روپے کے اضافہ کے ساتھ ۱۰۲؍ روپے ہوجائے گا۔یہی نہیں یکم ستمبر سے کالی پیلی ٹیکسی اور رکشا کے کرایہ میں بھی اضافہ ہوگا ۔ رکشا کا کرایہ ۲۶؍ روپے سے ۲۷؍ روپے ہوگا جبکہ کالی پیلی ٹیکسی کے کرایہ میں ۲؍ روپے اضافہ کے ساتھ مسافروں کو اب ۳۳؍ روپے ادا کرنے ہوں گے ۔مذکورہ بالا ضروریات زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء  میں ہونے والے غیر معمولی اضافہ سے متوسط اور غریب عوام کا نہ صرف گھریلو بجٹ بگڑ گیا ہے بلکہ ان میں شدید تشویش اورناراضگی پائی جارہی ہے ۔

گزشتہ ۲۰؍ دنوں میں خوردنی اشیاء میں ہونے والے اضافہ کے دوران سب سے زیاد ہ شکر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرنے والے اور ماہانہ ۳۰؍ ہزار روپے کمانے والے دانش شیخ کے بقول ’’میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں اور۷؍ ہزار روپے کرایہ ادا کرتا ہوں۔ گزشتہ محض ۲۰؍ دنوں کے درمیان یعنی ۱۰؍ اگست سے ۳۰؍ اگست کے درمیان بازاروں میں۴۵، ۴۸؍ یا ۵۰؍ روپے میں فروخت ہونے والی شکر کے داموں میں ۲۰؍ سے ۲۵؍روپے اضافہ ہوا ہے ۔ اس ایک چیز کے علاوہ دال، چاول ، دودھ ، انڈا اورکھانے پینے کی روزانہ استعمال ہونے والی سبزی ترکاری سبھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ اب آپ بتائیے کہ میں اور مجھ جیسے متوسط یا غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والا کس طرح گھر کا کرایہ ادا کرے گا، بچوں کی فیس بھرے گا اور ساتھ ہی کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے گا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: گائمکھ سے کیڈبری جنکشن میٹرودیوالی پر شروع ہوسکتی ہے

دھاراوی اور سائن میں کپڑوں اور بیگ بنانے کی ایک یونٹ میں کام کرنے والی شکیلہ بانواور رکمنی جادھو کے بقول روزانہ وکھرولی کنمورنگر سے رکشا سے اسٹیشن آنےکے لئے شیئرنگ رکشا میں کبھی ۱۰؍ روپے کبھی ۱۵؍ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں ۔اب ۱۲؍ ہزار روپے میں ہم گھر چلائیں ، بڑھتی مہنگائی کا سامنا کریں یا فیس نہ بھرنے کے سبب اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم کردیں ۔ ہمارے شوہر بھی مزدوری کرتے ہیں اور ماہانہ۸؍ سے ۱۰؍ ہزار روپے کماتے ہیں لیکن کیا اس بڑھتی مہنگائی میں۳؍ اور ۴؍بچوں کی کفالت اتنی تنخواہ میں ممکن ہے ۔‘‘  شکیلہ کے بقول’’ بچوں کی تعلیمی اور دیگر گھریلواخراجات کو پورا کرنے کیلئے میں صبح ۵؍ بجے اٹھ کر بسّی کا کھانا بناتی ہوں  اور میرے بچے قریب کے کارخانہ میں خود ڈیلیور کرتے ہیں تب جاکر بڑی مشکل سے گزارا ہوپارہا ہے ۔‘‘

طویلے کے دودھ اور رکشا و ٹیکسی کے کرایہ میں اضافہ پرباندرہ کھیر واڑی میں رہنے والے رکشا ڈرائیور الطاف مستری اور ٹیکسی ڈرائیور صغیر انصاری نے کہا کہ ’’ ہمارا شمار بھی اسی غریب اور متوسط طبقہ میںہوتا ہے ۔ رکشا اور ٹیکسی کرایہ میں ایک یا دوروپے اضافہ سے زیادہ اس کے دستاویزات بنانے اور کسی بھی خامی یا غلطی پر ۵۰؍ سے ۱۰۰؍ گنا جرمانہ یا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ، اس کا حساب کس کے کھاتہ میں لکھا جائے گا ۔اسکے علاوہ سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کی اخراجات اپنی جگہ ہیں ۔ اب آپ بتایئے کہ کیا ہمارے ساتھ انصاف ہورہا ہے ؟‘‘

ان کا مزید کہنا تھا،’’یہی نہیں ہم طویلہ کا دودھ استعمال نہیں کرتے لیکن دودھ، انڈا ،شکر اور دیگر ضروریات کی چیزیں تو استعمال کرتے ہیں، ان میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا حساب کون دے گا؟ آخر حکومت چاہتی کیا ہے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK