Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب کھونے کیلئے کچھ نہیں: مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والی رچیکا سنگھ

Updated: August 31, 2026, 3:06 PM IST | New Delhi

جولائی میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والی رچیکا سنگھ ایک نئے ویڈیو میں دوبارہ سامنے آئی ہیں۔ ۳۰؍ اگست کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ مودی نے ان کی ’’زندگی جہنم بنا دی‘‘ اور اب وہ ’’پیچھے نہیں ہٹیں گی۔‘‘ عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے یہ ویڈیو شیئر کیا ہے۔

Ruchika Singh. Picture: INN
رچیکا سنگھ۔ تصویر: آئی این این

رچیکا سنگھ، جن کا نام جولائی میں جنتر منتر احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ نازیبا تبصروں کی وجہ سے خبروں میں آیا تھا، ایک نئی ویڈیو کے بعد دوبارہ سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ ویڈیو ۳۰؍ اگست کو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی اور عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے سرکاری اکاؤنٹس سے بھی شیئر کی گئی۔ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون مبینہ طور پر مودی کو مخاطب کرکے کہتی ہیں کہ انہوں نے ’’میری زندگی جہنم بنا دی‘‘ اور ’’میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ تاہم دستیاب رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں موجود خاتون کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مودی کے خلاف ویڈیو بنانے پر انہیں جس طرح ہراساں کیا گیا، اور لوگوں نے انہیں جس قدر پریشان کیا، اس سے وہ اور مضبوط ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں ہے اور مودی بزدل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: لندن: اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے پولیس کی ای بائیکس فورس متعارف

رچیکا اس سے قبل ۲۳؍ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کے بعد منظرعام پر آئی تھیں۔ احتجاج امتحانی پرچوں کے مبینہ افشا اور طلبہ سے متعلق دیگر مسائل کے خلاف کیا گیا تھا۔ بعد میں ان کے خلاف ۲۹؍ جولائی کو نوئیڈا کے ایک تھانے میں زیرو ایف آئی آر درج کی گئی۔ شکایت میں ان پر جان بوجھ کر توہین، عوامی فساد کو ہوا دینے والے بیان اور ہتکِ عزت سے متعلق دفعات لگائی گئی تھیں۔ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب رچیکا کے نام سے ایک معذرت کا ویڈیو سامنے آیا۔ اس میں خاتون نے ہاتھ جوڑ کر ملک سے معافی مانگی اور کہا کہ احتجاج کے دوران وہ ’’دوسروں کے اثر میں آگئی تھیں۔‘‘ انہوں نے خود کو ۱۵؍ سالہ بھی بتایا۔ تاہم ایف آئی آر میں ان کی عمر ۲۵؍ سال درج تھی، جس کے باعث ان کی عمر اور شناخت دونوں پر سوال اٹھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: عوامی کتب خانوں سے ممتا بنرجی کی کتابیں ہٹائی جائیں گی، جو کبھی لازمی تھیں

یاد رہے کہ وزیر اعظم مودی نے بھی اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج کے دوران ان کے اور ان کی مرحوم والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، لیکن ایسے نوجوانوں کو سخت قانونی کارروائی کے بجائے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان ’’گمراہ بچوں‘‘ کو معاف کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے کو بھی انہیں درست راستہ دکھانا چاہیے۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے ۳؍ اگست کو ۱۵؍ سالہ لڑکی کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی معافی کے بعد نابالغ لڑکی کے خلاف مقدمہ جاری نہیں رکھا جائے گا۔ 
رچیکا کے معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوجوانوں کو ڈرانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رچیکا کو کسی مدد کی ضرورت ہو تو وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ تازہ ویڈیو نے پرانے تنازع کو دوبارہ زندہ کردیا ہے، تاہم ویڈیو کی موجودگی اور اس میں کیے گئے دعووں کو رچیکا سنگھ کی تصدیق شدہ شناخت یا موجودہ قانونی حیثیت کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK