Updated: August 31, 2026, 3:31 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے جم مالک دیپک کمار کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی ہے جنہوں نے ایک بزرگ مسلم دکاندار کی مبینہ ہراسانی کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے کمار کو سوشل میڈیا پر مقدمے سے متعلق تبصرہ کرنے سے روکنے والے ہائی کورٹ کے حکم پر بھی روک لگا دی۔
محمد دیپک کمار۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے پیر کو دہرادون کے جم مالک دیپک کمار کے خلاف درج مقدمے پر روک لگا دی۔ دیپک کمار نے جنوری میں بجرنگ دل کے مبینہ ارکان کی جانب سے ایک بزرگ مسلم دکاندار کو ہراساں کئے جانے کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے مارچ میں دیئے گئے اس حکم پر بھی روک لگا دی جس کے تحت کمار کو اپنے خلاف درج مقدمے کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے روکا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کمار کی اس عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کی جانب سے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کو چیلنج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام: سلچرکے کچھار کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر حملہ
واقعہ کیا تھا؟
یہ واقعہ ۲۶؍جنوری کو پیش آیا، جب بجرنگ دل کے مبینہ ارکان اتراکھنڈ کے پاؤڑی گڑھوال ضلع میں ایک بزرگ مسلم دکاندار وکیل احمد کی دکان پر پہنچے۔ ان افراد نے دکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ استعمال کئے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ دیپک کمار اور ایک اور شخص وجے راوت نے ہجوم کے اس اقدام کی مخالفت کی، جس کے بعد دونوں ہندو افراد سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کریں۔ جنوری کے اواخر میں کمار اور راوت کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ مقدمہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے وابستہ دو افراد کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں فساد برپا کرنے، چوٹ پہنچانے اور امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنے سمیت مختلف دفعات عائد کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال میں پھنسے متعدد ہندوستانی وطن واپس
بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد ان ہندوتوا تنظیموں میں شامل ہیں جن کی قیادت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کرتا ہے۔ آر ایس ایس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے ارکان نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ کمار اور راوت نے ان کی گھڑیاں اور رقم چوری کیں اور ان کے خلاف ذات پات پر مبنی توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ بعد ازاں تقریباً۴۰؍ افراد کمار کے جم کے قریب جمع ہوئے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ایک قومی شاہراہ کو بھی روک دیا۔ کمار نے اپنے جم کے سامنے جمع ہونے والے افراد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی، تاہم پولیس نے مظاہرے کے سلسلے میں ایک افسر کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پیر کو سپریم کورٹ میں کمار کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے سوال اٹھایا کہ ایک ’’نیک نیت شہری‘‘ کو اس طرح کی شکایت کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: من کی بات: وزیراعظم نے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مددگار کوششوں کا ذکر کیا
واقعے کی تفصیل
۲۶؍جنوری کے واقعے کی ایک ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی۔ ویڈیو میں کمار ہجوم سے سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دوسری دکانوں کو ’’بابا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت ہے تو احمد کی دکان کے نام پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ دکان۳۰؍ سال سے زیادہ پرانی ہے اور سوال کرتے ہیں کہ اس کا نام کیوں تبدیل کیا جائے۔ جب کمار سے ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ’’میرا نام محمد دیپک ہے۔ ‘‘ بعد میں کمار نے وضاحت کی کہ اس بیان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ وہ ایک ہندوستانی ہیں اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ بعد ازاں کمار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں انہوں نے کہا:’’میں نہ ہندو ہوں، نہ مسلمان، نہ سکھ اور نہ عیسائی۔ سب سے پہلے میں ایک انسان ہوں۔ کیونکہ میری موت کے بعد مجھے خدا اور انسانیت کے سامنے جواب دینا ہے، کسی مذہب کے سامنے نہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو، خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔