Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ رخ کاجول کی ’’ڈی ڈی ایل جے‘‘ سفر اور رومانس کی اکیڈمی کی فہرست میں شامل

Updated: April 11, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai

۱۹۹۵ء کی کلاسک بالی ووڈ فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ (ڈی ڈی ایل جے) ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے اسے سفر پر مبنی رومانوی فلموں کی نمایاں فہرست میں شامل کیا۔ اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل ظاہر ہوا۔شاہ رخ خان اور کاجول کی لازوال جوڑی ایک بار پھر عالمی ناظرین کے درمیان زیرِ بحث آ گئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہندی سنیما کی شہرۂ آفاق فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ (ڈی ڈی ایل جے) ایک بار پھر عالمی سطح پر سرخیوں میں آ گئی ہے۔ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے اسے سفر کے موضوع پر مبنی بہترین رومانوی فلموں کی فہرست میں شامل کیا۔ اکیڈمی نے سوشل میڈیا پر مختلف عالمی فلموں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ناظرین سے سوال کیا کہ ’’آپ کی پسندیدہ ٹریول رومانس فلم کون سی ہے؟‘‘ جس میں ڈی ڈی ایل جے کی شمولیت نے خاص طور پر توجہ حاصل کی۔ یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور مداحوں کے ساتھ ساتھ فلم کی مرکزی اداکارہ کاجول نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے نہایت سادہ مگر پُراثر انداز میں کہا، ’’میرا ووٹ ڈی ڈی ایل جے کو۔‘‘ اس فہرست میں دیگر تین فلمیں ہیں، ’’یو، می اینڈ ٹسکنی‘‘ (۲۰۲۶ء)، ’’ دی ہالی ڈے‘‘ (۲۰۰۶ء) اور ’’ایٹ پرے لو‘‘ (۲۰۱۰ء)۔ 

سوشل میڈیا پر صارفین نے فلم کے حق میں کھل کر اظہار کیا، کئی مداحوں نے اسے ’’لازوال اور بہترین رومانوی فلم‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے شاہ رخ خان اور کاجول کی جوڑی کو ’’آئیکونک‘‘ اور ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کہا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’ڈی ڈی ایل جے ہمیشہ آسان انتخاب ہے‘‘، جبکہ دوسرے نے اسے ’’ہر دور کی محبت کی تعریف‘‘ قرار دیا۔
یہ عالمی پذیرائی اس فلم کی دیرپا مقبولیت کا ایک اور ثبوت ہے، جو دہائیوں بعد بھی نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس فلم کے ہدایتکار آدتیہ چوپڑہ ہیں جبکہ یش چوپڑۃ نے اسے پروڈیوس کیا تھا۔ یہ فلم ۱۹۹۵ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم راج اور سمرن کی محبت کی کہانی ہے، جو یورپ کے سفر کے دوران پروان چڑھتی ہے اور پھر روایت اور خاندان کے تقاضوں کے درمیان آزمائش سے گزرتی ہے۔ ریلیز کے بعد یہ فلم نہ صرف باکس آفس پر کامیاب رہی بلکہ وقت کے ساتھ ایک ثقافتی علامت بن گئی۔ ممبئی کے مراٹھا مندر میں اس کی مسلسل نمائش اسے دنیا کی طویل ترین چلنے والی فلموں میں شامل کرتی ہے، جو اس کی غیر معمولی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کی بایوپک کا برلن میں پریمیر، خاندان کی شرکت توجہ کا مرکز

فلم کی وراثت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب اس کی ۳۰؍ ویں سالگرہ کے موقع پر لندن کے لیسٹر اسکوائر میں شاہ رخ خان اور کاجول کے مشہور پوز کا مجسمہ نصب کیا گیا، جو عالمی سطح پر اس فلم کے اثرات کی علامت ہے۔ کاجول نے ایک موقع پر فلم کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی ڈی ایل جے کے بعد آنے والی تقریباً ہر رومانوی فلم میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق سمرن کا کردار آج بھی ان لاکھوں لڑکیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو محبت اور روایت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ڈی ڈی ایل جے محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک احساس، ایک یاد اور ایک ثقافتی ورثہ ہے، جس کے مکالمے اور مناظر آج بھی زندہ ہیں۔ ’’جا سمرن جا‘‘ جیسے جملے آج بھی محبت اور حوصلے کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ دہائیوں بعد بھی یہ فلم عالمی سطح پر دل جیتنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK