شکتی سامنت کا شمار ان بڑے ہدایتکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بالی ووڈ کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے فلموں کو مختلف زبانوں میں بنانے کا آغاز کیا۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 2:21 PM IST | Mumbai
شکتی سامنت کا شمار ان بڑے ہدایتکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بالی ووڈ کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے فلموں کو مختلف زبانوں میں بنانے کا آغاز کیا۔
شکتی سامنت کا شمار ان بڑے ہدایتکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بالی ووڈ کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے فلموں کو مختلف زبانوں میں بنانے کا آغاز کیا۔ ایک استاد سے ہدایت کار بننے تک کا ان کاسفر جدوجہد سے پُر رہا۔ اپنی محنت کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچے جہاں پہنچنا ہر ہدایتکار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے شمی کپور، شرمیلا ٹیگور اور راجیش کھنہ جیسے عظیم فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی پیدائش۱۳؍ جنوری۱۹۲۶ء کو مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کیلئے وہ اپنے چچا کے ساتھ اتراکھنڈ چلے گئے، اس طرح ان کی ابتدائی تعلیم دہرادون میں ہوئی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے وہ دوبارہ مغربی بنگال واپس آئے۔۱۹۴۴ء میں انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد شکتی سامنت نے بالی ووڈ میں اداکار بننے کا خواب دیکھا۔ اسلئے وہ ممبئی کے قریب واقع علاقے داپولی پہنچے، جہاں انہوں نے ایک استاد کے طور پر ملازمت کی۔ یہ جگہ ممبئی سے تقریباً ۲۰۰؍ کلومیٹر دور ہے۔ اس سے پہلے وہ گلوکار بننا چاہتے تھے۔۱۹۴۷ء میں وہ شکتی برمن کے پاس آڈیشن کیلئے بھی گئے۔ برمن نے انہیں کورس میں گانے کی پیشکش کی تھی لیکنگلوکاری میں ان کا دل نہیں لگا۔ اس کے بعد انہوں نے پردے کے پیچھے رہ کر ہدایتکاری میں قسمت آزمانے کا سوچا۔۱۹۴۸ء میں وہ ستیش نگم کے ساتھ وابستہ ہوگئے اور راج کپور کی فلم ’سنہرے دن‘ میں معاون ہدایتکار کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہدایتکار گیان مکھرجی اور فانی مجمدار کے ساتھ بھی کام کیا۔ اس دوران انہوں نے ’تماشا‘ اور’دھوبی ڈاکٹر‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری میں تعاون دیا۔ہدایتکار کی حیثیت سے انہوں نے پہلی بار۱۹۵۴ء میں فلم’بہو‘ کی ہدایتکاری کی۔ فلم میں اوشا کرن اور کرن دیوان کے ساتھ ششی کلا اور پران نے اہم اداکار ادا کئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بالی ووڈ کو ’انسپکٹر‘، ’ڈیٹیکٹیو‘ اور ’ہل اسٹیشن‘ جیسی فلمیں دیں۔
یہ بھی پڑھئے: معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کا ۹۲؍ سال کی عمر میں انتقال، ہندوستان سوگوار
سامنت چند ہی برسوں میں اتنے کامیاب ہوگئے کہ۱۹۵۷ء میں’شکتی فلمز‘ کے نام سے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کرلی اور پھر انھوں نے اس بینر تلے پہلی فلم’ہاوڑہ برج‘ بنائی جو ہٹ ثابت ہوئی اور ان کے کریئر کا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔ ہاؤڑہ برج نے مدھو بالا کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کشمیر کی کلی، این ایوننگ ان پیرس اور چائنا ٹاؤن جیسی کئی فلمیں بنائیں۔ شکتی سامنت محض پروڈیوسر یا ہدایتکار ہی نہیں تھے، انھوں نے ایک دور میں فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی لکھے۔ فلم برسات کی ایک رات، گریٹ گیمبلر اور امانش کی کہانی اور مکالمے انہوں نے ہی تحریر کئے تھے۔
انہوں نے اپنے کریئر میں ۴۳؍ فیچر فلموں کی ہدایت کاری کی، جن میں۳۷؍ ہندی اور۶؍ بنگالی فلمیں شامل تھیں۔ وہ ایسے پہلے فلمساز تھے جنھوں نے ہندی فلموں کو دیگر زبانوں میں ڈب کرنے یا دوسرے ورژن میں بنانے کا آغاز کیا۔ ان کی کئی ہندی فلمیں بنگالی زبان میں بھی بنائی گئیں۔ انھوں نے فلم امانش کو ہندی اور بنگالی میں دونوں میں بنایا۔ شمی کپور ، راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگور ان کے پسندیدہ اداکار تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں سلمان خان اور شاہ رخ خان کا بہت بڑا مداح ہوں‘‘
اگرچہ وہ خود اداکار نہیں بن سکے، لیکن انہوں نے ہندی سنیما کو راجیش کھنہ جیسا سپر اسٹار دیا۔ انہوں نے راجیش کھنہ کو فلم’آرادھنا‘ میں موقع دیا، جس کے بعد کھنہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک سپر اسٹار کے طور پر شناخت بنائی۔ ان کے ساتھ انھوں آرادھنا، کٹی پتنگ اور امر پریم بنائیں۔ ان کی دیگر فلموں میں آواز،انوراگ، آنند، آشرم اور پگلا کہیں کا جیسی فلمیں شامل ہیں۔ فلموں میں ان کی خدمات کیلئےانہیں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز اسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ ۹؍ اپریل ۲۰۰۹ء کو شکتی سامنت کا انتقال ہو ا۔