فلم اور ٹی وی اداکار پرتیک چودھری کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں پاکستانی ڈراموں کواسی طرح پسند کیا جارہاہے ،جس طرح پاکستان میں بالی ووڈ فلموں کو پسند کیا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 12:51 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
فلم اور ٹی وی اداکار پرتیک چودھری کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں پاکستانی ڈراموں کواسی طرح پسند کیا جارہاہے ،جس طرح پاکستان میں بالی ووڈ فلموں کو پسند کیا جاتا ہے۔
ایسا بہت کم ہوتاہے کہ کوئی کاروباری یا صنعتکار اداکار بن گیا ہولیکن پرتیک چودھری وہ نام ہے جو ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور چند برسوں تک انہوں نے خود بھی کاروبار کیا ہے لیکن پھراپنی راہیں الگ کرتے ہوئے انہوں نے اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور آج وہ ٹی وی شوز اور ویب سیریز میں مصروف ہیں۔ٹی وی کے ساتھ ہی اب انہوں نے فلم انڈسٹری میں بھی قدم رکھ دیا ہے اور ان کی ایک فلم امسال ریلیزہوسکتی ہے۔ ٹی وی شوز میں مسلسل کام کرنے کے بعد انہوں نے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے فلموں کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ حال ہی میں ان کی فلم کی شوٹنگ ختم ہوئی ہے۔ انہیں ٹی وی انڈسٹر ی میں آئے ہوئے زیادہ وقت ہوگیا ہے، اس دوران انہوں نے اپنے فن سے اپنی ایک الگ پہچان بنالی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے تھیٹر اور اسٹیج شوز میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوایا ہے۔وہ ویب سیریز کے تعلق سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ وہ ٹی وی شوز اور فلم ہی کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک میوزک ویڈیو میں بھی کام کیاہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ بھی شاہ رخ خان کی طرح شہرت حاصل کریں۔ نمائندہ انقلاب نے ان سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
اس وقت آپ کی مصروفیات کیاہیں؟
ج: حال ہی میں میرا شو ’تجھ سے نینا ملائی کے‘ ختم ہوا ہے۔ میں گزشتہ ۵؍ سال سے ٹی وی میں مصروف رہا ہوں۔ میرے ۲؍ شوز نے ۵۰۰۔۵۰۰؍ ایپی سوڈس مکمل کئے ہیں جوکہ ایک اداکار کیلئے فخر کی بات ہے۔مسلسل ۵؍ سال تک ٹی وی شوز کرنے کے بعد میں خود کو ایک دائرے میں محسوس کررہا تھا، اس لئے میں نے فلم کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ خوش قسمتی سے مجھے ایک فلم مل گئی جس کانام ’بینڈ باجا مرڈر‘ ہے۔ اس فلم میں میں مرکزی کردار ادا کررہا ہوں۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ ٹی وی کے باہر مجھے پہلی ہی فلم میں لیڈ رول مل گیا۔ اس کے ساتھ ہی میں ’ورٹیکل‘میں بھی کام کررہا ہوں۔ ’ورٹیکل ‘دراصل مختصر ایپی سوڈس والے شوز ہوتے ہیں۔ یہ ٹی وی شوز سے زیادہ مشہور ہورہے ہیں۔میں مختلف پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ ورٹیکل میں کام کررہا ہوں۔ ساتھ ہی میں ایکتا کپور کے بالاجی ٹیلی ویژن سے بھی وابستہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: گلشن باؤرا نے گیت لکھنے کے علاوہ اداکاری بھی کی ہے
آپ اپنی فلم کے تعلق سے کچھ بتائیں؟
ج:ٹی وی شوز میں رول کیلئے آڈیشن کا ایک پروسیس ہوتا ہے۔ اس فلم کے جو فلمساز ہیں نتن جی وہ مجھے جانتے تھے۔ یہ فلم ’سیونتھ سنز پروڈکشنز ہاؤس‘کی ہے۔ نتن جی نے گزشتہ ۵؍ سال سے میرے کام کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔اس دوران وہ مجھ سے کئی بار رابطہ بھی کرچکے تھےلیکن میں ٹی وی شوز میں مصروف تھا۔اب جب میں اپنے شوز سے فرصت پاچکا ہوں تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں جو فلم بنارہا ہوں اس میں تمہیں لیڈ رول میں کاسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ اس فلم میں میرا نام کندن ہے اور وہ مجھ میں کندن کو دیکھ رہے تھے۔ میرے پاس بھی وقت تھا،اسلئے میں نےلُک ٹیسٹ اور اسکرین ٹیسٹ دے دیا۔ سبھی چیزیں مثبت انداز میں رہیں،لہٰذا میں نے فلم میں کام کرنے کیلئے ہامی بھر لی۔ نتن جی نے ویب سیریز اور دیگر میڈیم کیلئے بہت کام کیا ہے۔ سبھی چیزیں طے ہونے کے بعد اس فلم کی شوٹنگ لکھنؤ میں ہوئی ہے۔میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے اور مجھے امید ہے کہ مداحوں کو یہ بہت پسند آئے گی۔ مجھے امیدہے کہ یہ فلم اس سال ہی ریلیز ہوگی۔
گزشتہ ۵؍ سال میں اپنے اندر کتنی تبدیلی محسوس کرتے ہیں؟
ج:گزشتہ ۵؍ سال میں میرے اندر بہت تبدیلی آئی ہے۔ میں پہلے ہی سے مذہبی تھا اور اب بھی اس پر قائم ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے طورپر اپنی اداکاری کی صلاحیت کو بہتر کرنے کیلئے بہت کچھ کیاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو کام تو ملتا رہے گا لیکن آپ کو ایک اچھا انسان ہونا چاہئے۔ اگر آپ اچھے انسان نہیں ہیں تو کوئی آپ کو پسند نہیں کرے گا اور کام بھی نہیں دے گا۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ اچھا انسان بنوں اور دوسروں کے ساتھ میرا رویہ بہت اچھا ہو۔ اگر آپ اچھے انسان ہیں تو کام آپ کے پاس خود چل کر آئے گا۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ کاجول کی ’’ڈی ڈی ایل جے‘‘ سفر اور رومانس کی اکیڈمی کی فہرست میں شامل
پہلی فلم کا تجربہ کیسا رہا؟
ج:پہلی فلم میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔ میں نے فلم کے بارے میں بہت سیکھا ہے۔ دراصل ویب سیریز، ورٹیکل، ٹی وی اور فلم بنانے کا طریقہ الگ الگ ہوتاہے۔ ٹی وی میں ہمیں کیمرے کا بہت دھیان رکھنا ہوتا ہے اور ایک دن میں ۱۰۔۱۰؍سین مکمل کرنے ہوتے ہیں،اس کے برعکس فلم میں معیار پر زیادہ توجہ دینی ہوتی ہے۔ اگر ہدایتکار اپنا ویژن رکھتا ہے تو وہ زیادہ پابندی نہیں کرتا اور ہمیں اپنے مطابق کام کرنے دیتا ہے جبکہ ٹی وی میں پابندیاں بہت ہوتی ہیں۔ پہلی فلم کے ساتھ ہی میرا پہلا ویڈیو گیت بھی ریلیز ہونے والا ہے۔
آپ اس ویڈیو گیت کے بار ے میں بھی کچھ بتائیں؟
ج:سبھی کو معلوم ہے کہ میں سلمان خان اور شاہ رخ خان کا بہت بڑا مداح ہوں اور ان کے طرز پر بھی کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے شاہ رخ خان کے رومانوی انداز میں ایک گیت میں کام کیا ہے۔ میں ان کے جیسا تو نہیں کرسکتا لیکن کوشش ضرور کی ہے کہ اپنے گیت کے ذریعہ ویسا ماحول بناؤں۔ بہرحال امید کررہا ہوں کہ میرا پہلا گیت اور فلم دونوں ہی شائقین کو پسند آئے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کی بایوپک کا برلن میں پریمیر، خاندان کی شرکت توجہ کا مرکز
اپنے آپ کو اداکاری کے ماحول میں کتنا بہتر کیاہے؟
ج: بہت سے اداکار اپنی اداکاری کو نکھارنے کیلئے ورکشاپس اور تھیٹرس میں کام کرتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ عملی طورپر کام کرتے ہوئے میں نے اپنی اداکاری کو بہتر کیاہے۔میں نے ۵؍سال ٹی وی شوز کئے اور۲؍ شوز میں ۱۰۰۰؍ایپی سوڈ کئے ہیں۔ مسلسل کیمرے کے سامنے کام کرنے سے میری اداکاری بہتر ہوتی گئی ہے۔ ورکشاپس اور تھیٹرس میں آپ اداکاری تو سیکھ سکتے ہیں لیکن کیمرے کی تکنیک کے بارے میں آپ کو کیمرے کے سامنے ہی کام کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں میں نے ٹی وی شوز سے زیادہ خود کو ورٹیکل کے ذریعہ بہتر کیا ہے کیونکہ ورٹیکل میں دن میں ۲۰ ؍ سے ۲۵؍ سین مکمل کرنے ہوتے ہیں اور۳؍ دن میں شو مکمل کرنا ہوتاہے۔ میں ہر ورٹیکل میں لیڈ رول ہی کرتاہوں، اس پریشر میں کام کرنے سے میری اداکاری کائی بہتر ہوئی ہے۔
ویب سیریز کے بارے میں آپ کاکیا کہنا ہے؟
ج:میں مسلسل ٹی وی شوز پر ہی توجہ مرکوز کرتارہاہوں، اسلئے فلم اور ویب شوز کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا تھا۔ حالانکہ میں نے ایک ویب سیریز میں کام کیا ہے اور اس کا تجربہ اچھا رہا ہےلیکن مجھے لگتاہے کہ میں اس کیلئے ابھی تیار نہیں ہوں کیونکہ اس میں بحیثیت اداکار آپ کو بہت سے شیڈس دکھانے ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک ورٹیکل یا مائیکرو ڈراما ہی اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ ویب شوزبڑے پیمانے پر دکھائے جاتے ہیں جبکہ ورٹیکل چھوٹے پیمانے کے شوز ہوتے ہیں۔
کیا آپ نے ٹی وی سے بریک لیا ہے یا پھر دوسری انڈسٹری کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟
ج: جی نہیں، میں نے ٹی وی سے بریک نہیں لیاہےکیونکہ اسی نے مجھے اداکار بنایا ہے۔ ٹی وی کی وجہ سے مجھے بہت شہرت ملی ہے اور میں اس کو فراموش نہیں کرسکتا۔ مجھے ایک موقع ملا تھا اور میں نے فلم میں کام کیا، اس کے بعد ورٹیکلز میں موقع مل رہا ہے اور میں اس میں مصروف ہوں۔ اگر ٹی وی کا کوئی پروجیکٹ آتا ہے تو میں اس طرف توجہ دوں گا۔ میری سوچ بھی شاہ ر خ خان کی طرح ہے،یعنی میں ٹی وی کی انڈسٹری کو کبھی نہیں چھوڑناچاہتا کیونکہ اس کی پہنچ بہت دور تک ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ٹی وی سے کبھی الگ ہو ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسری انڈسٹری میں کام کے بارے میں کہہ سکتاہوں کہ مجھے اس کا تجربہ نہیں ہےاور میں وہاں کی زبان سے بھی واقف نہیں ہوں اسلئے میں کسی بھی رول کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوں گا۔ اسلئے میں فی الحال ہندی انڈسٹری میں کام کرنے ہی کو ترجیح دوں گا۔
یہ بھی پڑھئے: وکی کوشل کی’’مہا اوتار‘‘ میں شردھا کپور کی ممکنہ انٹری
پاکستانی ٹی وی ڈراموں کے بارے میں آپ کی کیا رائےہے؟
ج: میرے خیال میں صلاحیتوں کے اظہار کیلئے کوئی سرحد اور ملک نہیں ہوتا۔ کسی بھی ملک کا فنکار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتا ہے۔پڑوسی ملک کے ڈرامے آج کل بہت پسند کئے جا رہےہیں کیونکہ وہ منفرد ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے والے اداکار فطری اداکاری کرتے ہیں۔ ٹی وی کے شائقین ان فنکاروں کی صلاحیتوں اور ان کے فن کو پسند کرتےہیں۔ پاکستان کی موسیقی ہم سبھی سنتےہیں اور ریلز میں اسے بڑے پیمانے پر شامل کیا جاتاہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی ہندوستانی ٹی وی شوز اور بالی ووڈ کی فلموں کو پسند کیا جاتاہے۔ میرے خیال میں آخر میں فن اور صلاحیت کی ہی جیت ہوتی ہے۔