• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شرجیل امام کی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کیلئے تحقیقی مواد تک رسائی کی درخواست، تہاڑ جیل سے جواب طلب

Updated: September 29, 2026, 11:57 AM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں زیرِ حراست شرجیل امام کی اس درخواست پر تہاڑ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے، جس میں انہوں نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کیلئے جیل کے اندر انٹرنیٹ اور وائی فائی سے محروم کمپیوٹر پر پین ڈرائیو میں محفوظ تحقیقی مواد تک رسائی کی اجازت مانگی ہے۔ امام کے وکیل کے مطابق وہ گرفتاری کے وقت پی ایچ ڈی کے آخری سال میں تھے اور ان کا تحقیقی خاکہ یو جی سی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے منظور ہوچکا ہے۔ درخواست کے مطابق انہیں ۲۱۳۲؍ فائلوں تک رسائی درکار ہے، جن میں تحقیقی مضامین، کتابیں اور تاریخی دستاویزات کے اسکرین شاٹس شامل ہیں۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت ۲؍ نومبر مقرر کی ہے۔

Sharjeel Imam. Picture: INN
شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں زیرِ حراست شرجیل امام کی درخواست پر تہاڑ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔ امام نے جیل کے اندر جیل عملے کی نگرانی میں بغیر انٹرنیٹ اور وائی فائی والے کمپیوٹر کے ذریعے پین ڈرائیو میں محفوظ تحقیقی مواد استعمال کرنے کی اجازت مانگی ہے، تاکہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرسکیں۔ جسٹس سنجیو نرولا نے جیل حکام کو معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 

شرجیل امام کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل احمد ابراہیم نے عدالت کو بتایا کہ امام جنوری ۲۰۲۰ء سے تحویل میں ہیں اور گرفتاری کے وقت وہ اپنی پی ایچ ڈی کے آخری سال میں تھے۔ وکیل کے مطابق ان کی پی ایچ ڈی کا تحقیقی خاکہ (سینوپسس) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے منظور ہوچکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’معاشرہ سے خرافات اور برائیوں کے خاتمے کیلئےغوث اعظمؒ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے‘‘

وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ امام کو جیل احاطے میں جیل عملے کی نگرانی میں ایسے کمپیوٹر پر تحقیقی مواد استعمال کرنے کی اجازت دی جائے جس میں انٹرنیٹ یا وائی فائی کی سہولت موجود نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پین ڈرائیو میں موجود مواد کو جیل کے کمپیوٹر میں منتقل کرکے امام کو اسے استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ 

دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ٹرائل کورٹ میں بھی اس درخواست کی مخالفت نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق اعتراض جیل انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب طلب کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امام یہ واضح کردیں کہ انہیں کس مواد تک رسائی درکار ہے تو جیل انتظامیہ کی نگرانی میں اس کی اجازت دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ 

اس پر احمد ابراہیم نے بتایا کہ شرجیل امام کو مجموعی طور پر ۲۱۳۲؍ فائلوں تک رسائی درکار ہے۔ ان فائلوں میں تحقیقی مضامین، کتابیں اور تاریخی ریکارڈ سے متعلق اسکرین شاٹس شامل ہیں۔ وکیل نے کہا کہ تمام مواد کی مطبوعہ نقول فراہم کرنا عملی طور پر مشکل ہوگا، اس لیے اسے پین ڈرائیو کے ذریعے ایسے کمپیوٹر میں منتقل کیا جاسکتا ہے جو انٹرنیٹ یا وائی فائی سے منسلک نہ ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی اور امریکیوں میں اقوام متحدہ کے تعلق سے سخت ناپسندیدگی: سروے

یہ درخواست اس سے قبل نچلی عدالت میں بھی زیرِ غور آچکی ہے۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں دہلی کی ایک عدالت نے پین ڈرائیو میں موجود تحقیقی مواد اور جیل کے کمپیوٹر تک رسائی کی براہِ راست اجازت دینے کے بجائے معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے اختیار پر چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد شرجیل امام نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ 

موجودہ سماعت میں ہائی کورٹ نے جیل حکام سے باضابطہ جواب طلب کرتے ہوئے اگلی سماعت ۲؍ نومبر کو مقرر کی ہے۔ عدالت نے فی الحال شرجیل امام کو تحقیقی مواد تک رسائی دینے کے بارے میں کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ 

شرجیل امام ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق بڑے سازشی مقدمے میں ملزم ہیں اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ دہلی ہائی کورٹ ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر بھی ۳۰؍ ستمبر کو سماعت کرنے والا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK