Updated: March 03, 2026, 6:07 PM IST
| Mumbai
آنجہانی اداکارہ سری دیوی کی یادگار فلم ’’مام‘‘ کے تقریباً دس سال بعد اس کا سیکوئل باضابطہ طور پر فلور پر آ گیا ہے۔ پروڈیوسر بونی کپور نے تصدیق کی ہے کہ عارضی طور پر ’’مام ۲‘‘ کے عنوان سے بننے والی فلم کی شوٹنگ نوئیڈا فلم سٹی میں جاری ہے۔ فلم کی ہدایت کاری گریش کوہلی کر رہے ہیں، جبکہ جسو سین گپتا اور کرشمہ تنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خوشی کپور کی شمولیت کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
کرشمہ تنا اور خوشی کپور۔ تصویر: آئی این این
بونی کپور نے نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فلم ’’مام ۲‘‘ کی شوٹنگ اس وقت نوئیڈا کے فلم سٹی میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فلم ’’مام ۲‘‘ کی شوٹنگ یہاں چل رہی ہے۔ ہدایت کار گریش کوہلی ہیں، جو ’’مام‘‘ کے مصنف تھے۔ ہمارے پاس مختلف جگہوں کے تکنیکی ماہرین ہیں؛ ہمارے پاس بنگال سے ایک اداکار ہے، جسو، اور ایک ٹیلی ویژن اداکارہ کرشمہ تنا ہے، جو فلم میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔‘‘ یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سیکوئل اب باضابطہ طور پر پروڈکشن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
فلم کی ہدایت کاری گریش کوہلی کر رہے ہیں، جنہوں نے اصل ’’مام‘‘ کی کہانی تحریر کی تھی۔ ان کی واپسی کو فرنچائز کے تخلیقی تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ پہلی فلم کے جذباتی اور تھرلر عناصر کو برقرار رکھا جا سکے۔ سیکوئل میں بنگالی اداکار جسو سین گپتا اور ٹیلی ویژن و فلم اداکارہ کرشمہ تنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بونی کپور کے مطابق دونوں فنکار فلم میں اہم حیثیت رکھتے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کہانی نئی سمت اختیار کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وارانسی‘‘ انٹارکٹکا میں شوٹ ہونے والی پہلی ہندوستانی فلم: پرینکا چوپڑہ کی تصدیق
واضح رہے کہ بونی کپور اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ان کی بیٹی خوشی کپور سیکوئل میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ تاہم حالیہ بیان میں انہوں نے خوشی کے کردار یا اس کی شمولیت کی نوعیت کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔ یا درہے کہ خوشی نے اپنے کریئر کا آغاز ’’دی آرچیز‘‘ سے کیا تھا، جس کی ہدایت کاری زویا اختر نے کی تھی۔ اس فلم میں سہانا خان اور آگستیہ نندا بھی شامل تھے۔’’مام ۲‘‘ میں ان کی ممکنہ موجودگی کو لے کر توقعات پہلے ہی بلند ہیں، خاص طور پر اس فرنچائز کی جذباتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
اصل فلم ’’مام‘‘ کو سری دیوی کی آخری آن اسکرین پیشکشمیں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک ماں کی انصاف کے لیے جدوجہد پر مبنی اس کردار نے نہ صرف تنقیدی پذیرائی حاصل کی بلکہ ناظرین پر گہرا اثر بھی چھوڑا۔ اب ’’مام ۲‘‘ کے ساتھ فلم سازوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک نئی اور مؤثر کہانی پیش کریں، جبکہ پہلی فلم کی جذباتی گہرائی اور وراثت کو بھی برقرار رکھیں۔