• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجم الاسلام کو وجہ بتاؤ نوٹس، کھلاڑیوں کا بی پی ایل سے بائیکاٹ

Updated: January 15, 2026, 4:10 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بنگلہ دیشی کرکٹرس کے بارے میں عوامی طور پر ’’قابل اعتراض ریمارکس‘‘ کرنے پر اپنے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

Bangla Players.Photo:INN
بنگلہ دیشی کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بنگلہ دیشی کرکٹرس کے بارے میں عوامی طور پر ’’قابل اعتراض ریمارکس‘‘ کرنے پر اپنے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔یہ نوٹس بی پی ایل میچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جاری کیا گیا کیونکہ کھلاڑیوں کی تنظیم سی ڈبلیو اے بی نے نجم الاسلام کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں پورے ملک میں ہر قسم کی کرکٹ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایرانی فوج ہائی الرٹ، سعودی، ترکی اور امارات کو انتباہ

جمعرات کی صبح ڈھاکہ کرکٹ لیگ کے طے شدہ چار فرسٹ ڈویژن میچ شروع نہیں ہو سکے جس سے بی سی بی کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق آج ہونے والے مقابلے میں چٹگاؤں رائلز اور نوکھلی ایکسپریس کے کھلاڑی بائیکاٹ کے حق میں ہیں۔ بی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے،بورڈ کے جن اراکین سے متعلق مسئلہ سامنے آیا ہے ان کے خلاف بی سی بی نے باضابطہ تادیبی کارروائی شروع کر دی ہے۔ وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور ان سے ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں آئندہ کارروائی کی بنیاد پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:مکیش کے پوتے نیل نتن مکیش نےاپنی راہ خود بنائی

مانا جا رہا ہے کہ بعض بورڈ ڈائریکٹرز نے بدھ کی رات سی ڈبلیو اے بی کے صدر محمد متھن سے رابطہ کیا اور انہیں یہ پیشکش کی کہ نجم الاسلام فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ تاہم متھن کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا بائیکاٹ بدستور جاری رہے گا۔ جمعرات کو بی پی ایل کے پہلے میچ کا ٹاس مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے ۱۲؍ بجے ہونا تھا لیکن ٹیمیں میدان میں نہیں پہنچیں۔ سی ڈبلیو اے بی اب پریس کانفرنس کے ذریعے بی سی بی کے سامنے اپنے مطالبات رکھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK