ہدایتکار تشار ہیرانندانی اور پروڈیوسر ندھی پرمار ہیرانندانی کے لیے یہ ایک انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ ان کی فلم ’’شری کانت‘‘ کو ۷۲؍ویں قومی فلم ایوارڈز میں بہترین ہندی فیچر فلم کا اعزاز ملا ہے۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 10:05 PM IST | Mumbai
ہدایتکار تشار ہیرانندانی اور پروڈیوسر ندھی پرمار ہیرانندانی کے لیے یہ ایک انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ ان کی فلم ’’شری کانت‘‘ کو ۷۲؍ویں قومی فلم ایوارڈز میں بہترین ہندی فیچر فلم کا اعزاز ملا ہے۔
ہدایتکار تشار ہیرانندانی اور پروڈیوسر ندھی پرمار ہیرانندانی کے لیے یہ ایک انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ ان کی فلم ’’شری کانت‘‘ کو ۷۲؍ویں قومی فلم ایوارڈز میں بہترین ہندی فیچر فلم کا اعزاز ملا ہے۔ صنعت کار شری کانت بولا کی زندگی پر مبنی اس فلم میں راج کمار راؤ نے مرکزی کردار ادا کیا۔۲۰۲۴ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو اپنی سادہ مگر مؤثر کہانی، حساس پیشکش اور راج کمار راؤ کی شاندار اداکاری کے لیے ناقدین اور ناظرین دونوں کی بھرپور پذیرائی ملی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران فلم نے کئی اہم ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔
’’سانڈ کی آنکھ‘‘، ’’اسکیم ۲۰۰۳ء‘‘ اور ’’شری کانت‘‘ جیسی معروف تخلیقات کے ہدایت کار تشار ہیرانندانی کے لیے یہ اعزاز اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ یہ فلم ان کے دل کے بہت قریب رہی ہے۔ وہ بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم سے بھی پہلے شری کانت بولا کی زندگی پر فلم بنانا چاہتے تھے اور کئی برسوں تک اس کہانی کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی شریکِ حیات اور تخلیقی ساتھی ندھی پرمار ہیرانندانی نے بھی فلم کی ابتدائی تیاری سے لے کر ریلیز تک ہر مرحلے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’سیارہ‘‘ کی پہلی سالگرہ پر خصوصی کلیکٹرز ونائل ایل پی کا اعلان
اس موقع پر جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تشار ہیرانندانی نے کہا’’ میں بے حد جذباتی اور تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ قومی ایوارڈ ہر فلم ساز کا خواب ہوتا ہے، اور’’شری کانت‘‘ کے لیے یہ اعزاز حاصل کرنا میرے لیے اس لیے بھی زیادہ خاص ہے کیونکہ ہم نے یہ فلم مکمل یقین اور خلوص کے ساتھ بنائی تھی۔ شری کانت بولا کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ ہماری جسمانی محدودیت نہیں بلکہ معاشرے کی قائم کردہ سوچ ہوتی ہے۔ یہ اعزاز شری کانت، راج کمار راؤ، ہمارے رائٹرس، پروڈیوسرز، فنکاروں، پوری ٹیم اور اُن تمام لوگوں کا ہے جنہوں نے اس کہانی پر یقین کیا۔ مجھے امید ہے کہ یہ اعزاز ایسی مزید کہانیوں کو سامنے لانے کی ترغیب دے گا جو جدوجہد اور حوصلے کا جشن منائیں، نہ کہ ہمدردی کی تلاش کریں۔ آج کا دن اُن تمام لوگوں کی جیت ہے جو اپنی محدودیت کو اپنی شناخت نہیں بننے دیتے۔‘‘
فلم کی پروڈیوسر ’’ندھی پرمار ہیرانندانی، جنہوں نے تشار ہیرانندانی کے ساتھ اپنے بینر ’’چاک اینڈ چیز فلمز‘‘ کے تحت اس فلم کو پروڈیوس کیا، نے کہا’’یہ ایوارڈ ہمارے لیے نہایت ذاتی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ’’شری کانت‘‘ ہمارے لیے صرف ایک فلم نہیں تھی۔ جس دن ہم نے شری کانت بولا کی کہانی کو پردۂ سیمیں پر لانے کا فیصلہ کیا، اسی دن طے کر لیا تھا کہ اسے پوری دیانت، حساسیت اور دل سے بنایا جائے گا۔ بہترین ہندی فیچر فلم کا قومی ایوارڈ ہمارے پورے سفر کی سب سے بڑی خوشی ہے۔ میں اپنے تمام پروڈیوسرز، ساتھیوں اور ناظرین کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس فلم کو بے پناہ محبت دی۔ سب سے بڑھ کر یہ اعزاز ’’شری کانت‘‘ کا ہے، جن کی ہمت اور مثبت سوچ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کامیابی مزید فلم سازوں کو ایسی بامقصد کہانیاں سنانے کی ترغیب دے گی جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:میسی، رونالڈو کا بہت احترام کرتے ہیں: ارجنٹائنی کپتان لیو
یہ فلم نابینا صنعت کار شری کانت بولا کی متاثر کن زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے بے شمار سماجی اور انتظامی رکاوٹوں کے باوجود بولینٹ انڈسٹریز کی بنیاد رکھی اور کامیابی کی نئی مثال قائم کی۔ فلم کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ۷۰؍ سے زائد معذور فنکاروں کو شامل کیا گیا، جس کے ذریعے پردۂ سیمیں پر حقیقی اور جامع نمائندگی کو فروغ دیا گیا۔