یورپی یونین نے ’’ بوسنیا کے قصاب‘‘ راتکو ملادیچ کی آخری رسومات کی مذمت کی ہے،راتکو ملادیچ ایک سزا یافتہ جنگی مجرم تھا، سربیائی مسلمانوں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار تھا۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 9:03 PM IST | Hague
یورپی یونین نے ’’ بوسنیا کے قصاب‘‘ راتکو ملادیچ کی آخری رسومات کی مذمت کی ہے،راتکو ملادیچ ایک سزا یافتہ جنگی مجرم تھا، سربیائی مسلمانوں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار تھا۔
یورپی کمیشن کی صدر یورسولا فان ڈیر لیین نے منگل کو سزا یافتہ جنگی مجرم راتکو ملادیچ کی تدفین کی تقریب کی مذمت کی، جو ’’بوسنیا کے قصاب‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔کل بلغراد میں راتکو ملادیچ کی آخری رسومات کی تصاویر چونکا دینے والی تھیں۔ یورپی کمیشن کے صدر نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا،’’ راتکو ملادیچ ایک سزا یافتہ جنگی مجرم تھا۔ وہ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار تھا۔‘‘انہوں نے آخری رسومات میں بعض سینئر سربیائی حکام کی بظاہر سرکاری حمایت اور موجودگی کو `شدید افسوسناک قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: مسجد پر اسلام مخالف نعروں اور نو نازی پیغامات درج، چھ ماہ میں ۲۳۱؍ واقعات
فان ڈیر لیین نے مزید کہا،’’یہ یورپ کی حالیہ تاریخ کے ایک تاریک باب کا سامنا کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں اور ان اقدار کے منافی ہیں جو یورپی یونین کی طرف سربیا کے راستے کی بنیاد ہیں۔‘‘یورپی کمیشن کی پریس بریفنگ میں، ترجمان گیلوم مرسیئر سے پوچھا گیا کہ کیا بلاک اب بھی سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کے تحت ایک اور کلسٹر کھولنا چاہتا ہے۔مرسیئر نے بتایا کہ یورپی کمیشن نے جولائی میں تکنیکی جائزوں کے بعد سربیا کے ساتھ کلسٹر۳؍کے یورپی یونین کے الحاق کے مذاکراتی ابواب کھولنے کی سفارش کی تھی، اور کہا کہ یہ جائزہ اس وقت دستیاب متعلقہ عناصر کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ،’’کلسٹر۳؍ پر بحث اس وقت رکن ممالک کے ساتھ جاری ہے، اور اس بحث میں تازہ ترین سیاسی پیش رفت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جو ہم نے دیکھی ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ملادیچ، بوسنیائی سرب فوج کا سابق کمانڈر تھا،جو ۲۷؍ اگست کو ہیگ میں۸۴؍ سال کی عمر میں انتقال کر گیا،وہ بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی پاداش میں عمر قید کی سزا بھگت رہا تھا۔اسے۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۵ء کی بوسنیائی جنگ کے دوران کیے گئے جرائم کے لیے سزا سنائی گئی تھی، جس میں۱۹۹۵ء کے سریبرینیتسا قتل عام میں اس کے کردار کی وجہ سے نسل کشی بھی شامل تھی، جس میں۸؍ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مرد اور لڑکوں کا قتل کیا گیا تھا۔