Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’سدارمیا کا انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ حتمی ہے‘‘

Updated: July 28, 2026, 11:36 AM IST | Mysuru / Bengaluru

سابق وزیراعلیٰ کے بیٹے یتیندر سدا رمیا نے کہا کہ ’’ میرے والد جو فیصلہ کرلیتے ہیں، وہ آخری ہوتا ہے، انہیں اب الیکشن لڑنے کیلئے نہ تو خاندان ، نہ ہی پارٹی کی جانب سے آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘

Former Karnataka Chief Minister Siddaramaiah. Photo: INN
کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ سدا رمیا۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے رکن اورسابق وزیراعلیٰ سدارامیا کے بیٹے یتیندر سدارامیا نے پیر کو کہا کہ ان کے والد کا انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ حتمی ہے،اسلئے اس پر دوبارہ غور نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہاکہ کہ ’’میرے والد نے ایک بار جو فیصلہ کر لیا، وہ آخری ہوتا ہے۔ وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو خاندان، نہ ہی کانگریس پارٹی انہیں دوبارہ انتخابات لڑنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

یتیندر نے کہا کہ اس مرحلے پر سدارامیا کی صحت سیاست سے  زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’میرے والد کی عمر۸۰؍ برس ہے۔ اب انہیں آرام کرنا چاہئے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہئے۔ ایک بیٹے کی حیثیت سے میں کبھی بھی ان سے دوبارہ انتخاب لڑنے کیلئے نہیں کہوں گا۔‘‘یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل سدارامیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ۲۰۲۸ء کے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے، جس کے بعد کرناٹک میں کانگریس کی قیادت کی منتقلی سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی اس پر اپنے انداز میں سیاست کررہی ہے۔ اس موقع پرقومی سیاست پرگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ امتحانات سے متعلق مسائل پر طلبہ کے مسلسل احتجاج کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت یہ سمجھتی تھی کہ اس کی ہر غلطی کو لوگ قبول کر لیں گے، لیکن طلبہ کی تحریک نے اسے جواب دینے پر مجبور کر دیا۔ حکومت کو اپنی یہ سوچ ترک کر دینی چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ ضلع پریشد کے صدر کا فرمان، بلا اجازت میڈیا سے بات نہ کی جائے

’’یہ کانگریس میں اعتماد کی کمی کا ثبوت ہے‘‘

بی جے پی کے سینئر لیڈر سی ٹی روی نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کا انتخابی سیاست سے الگ ہونے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس پہلے ہی شکست تسلیم کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سدارامیا کو احساس ہو گیا ہے کہ کانگریس۲۰۲۸ء کا اسمبلی  الیکشن ہار رہی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہار کے ساتھ اپنے سیاسی کریئر کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ انہوں  نے کہا کہ کانگریس حکومت بدعنوانی، خراب نظم و نسق اور وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے عوامی حمایت کھو چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK