Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ایران سے یکجہتی ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا راستہ ہے‘

Updated: March 24, 2026, 12:57 PM IST | Agency | Tel Aviv

وہ ممالک جو ایران کے دشمن نہیں ہیں ان کیلئے تہران کی جانب سے پیغام ، اسرائیل نے یورپ سے جنگ میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

Iran`s Strategy Has Cast A Shadow Over The Future Of The Oil Market.Photo:INN
ایران کی حکمت عملی نے تیل کے مارکیٹ کا مستقبل اندھیرے میں ڈال دیا ہے- تصویر:آئی این این
  ایران جنگ کو ۲۴؍ دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران امریکہ ایران کی حکومت تبدیل کرنے یا اسے جھکانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے بر عکس ایران نے آبنائے ہرمز کا راستہ مسدود کرکے دنیا بھرمیں تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے جہاز تو وہاں سے گزر ہی نہیں پا رہے ہیں، غیر جانبدار اور ایران کے دوست ممالک بھی ایران کی اجازت کے بغیر وہاں سے گزرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے تگ ودو جاری ہے۔ کئی ممالک ایران سے رابطے میں ہیں اور اس سے ہرمز کا راستہ کھولنے کی گزارش کر رہے ہیں لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جو تہران کے دشمن نہیں ہیں ان کے پاس آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ایک ہی طریقہ یا راستہ ہے اور وہ ہے ایران سے اظہار یکجہتی۔ 
ایران کی دفاعی کونسل نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  وہ ممالک جو ایران کے دشمن نہیں ہیںان کیلئے ‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد طریقہ( یا راستہ) ایران کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔ یہ بیان ایرانی میڈیا میں بھی نشر کیا گیا ہے۔   بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دشمن کی جانب  سے ایرانی ساحل یا جزائر پر حملے کی کوئی بھی کوشش‘ کی گئی تو خلیج (ایرانی حکام کے مطابق خلیج فارس) کے ’تمام راستوں‘ اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کی بحری بارودی سرنگیں نصب کر دی جائیں گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے ’تو صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ مکمل خلیج فارس عملی طور پر بند ہو جائے گی اور اس کی ذمہ داری جارحیت کرنے والوں ( اسرائیل اورامریکہ) پر عائد ہو گی۔‘
یاد رہے کہ روس اور چین ایران کے دوست ممالک ہیں جن کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آسانی سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل، نیز ان کے دوست ممالک کے جہازوں کے وہاں سے گزرنے پر ایران کے حملے کا خدشہ ہے۔ البتہ کچھ ممالک کو ایران نے گفت وشنید کے بعد آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہر مز کو بند نہیں کیا ہے البتہ اس پر حملہ کرنے والے یا حملہ آوروں کی حمایت کرنے والے ممالک  کے جہازوں وہاں سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ ایران نے دنیا کے اہم ممالک کو اپنی طرف کرنے کیلئے یہ حربہ استعمال کیا ہے جو کہ کارگر ثابت ہوا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ایران کے دشمن ملک بھی اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ خاص کر یورپی اور نیٹو ممالک جو امریکہ کے دیرینہ اتحادی ہیں۔ 
 
 
اسرائیل کا یورپی ممالک سے جنگ میں شریک ہونے کامطالبہ  
ایک طرف یورپی ممالک ایران جنگ میں کودنے سے گریز کر رہے ہیں اور یورپی یونین مسلسل تنازع کو ختم کرنے کی اپیل کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی وزیراعظم ب بین یامین نیتن یاہو نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ ایک روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہونے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کر دینا اور یہ ثابت ہو جانا کہ اسکے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپ کے قلب کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ اب تمام اتحادیوں کیلئے جنگ میں مکمل طور پر شامل ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
 
 
یورپی یونین اور ایران کے درمیان رابطہ
اس دوران یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یورپی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو لندن، پیرس یا برلن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ساتھ ہی  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے  ایران کو آبنائے ہرمز ٹریفک کھولنے کیلئے ۴۸؍ گھنٹے کی مہلت دی تھی اور دھمکی دی تھی کہ اور کہا تھا کہ بصورتِ دیگر ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے گا۔ جواب میں تہران نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے دوران یورپی یونین نے ایران کو منانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ فی الحال فریقین کے درمیان ہوئی گفتگو کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے لیکن امریکہ نے ایران پر حملے بند کرنے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں ، ایران نے اپنی طرف سے حملے بند کرنے کیلئے اس سے زیادہ کڑی شرطیں رکھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنے سارے فوجی اڈے ہٹالے۔ یاد رہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے یورپ میں جاری گیس کا بحران اور بھی شدید ہو گیا ہے۔ تمام ممالک کسی طرح اس جنگ کو بند کروانے کی کوشش میں ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK