Inquilab Logo Happiest Places to Work

او ٹی ٹی ونڈو تنازع: ساؤتھ انڈین فلم پروڈیوسرز متحد، نئی تنظیم بنائی

Updated: April 21, 2026, 3:58 PM IST | Chennai

جنوبی ہندوستان کے فلم پروڈیوسرز نے او ٹی ٹی ریلیز ونڈو اور تھیٹر شرائط پر بڑھتے تنازعات کے پیشِ نظر مشترکہ پلیٹ فارم قائم کر لیا ہے۔ نئی اسوسی ایشن’’ SIFPA‘‘ نے واضح کیا ہے کہ پروڈیوسرز کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

جنوبی ہند کی چار ریاستوں کے فلم پروڈیوسرز نے باضابطہ طور پر ایک نئی اسوسی ایشن قائم کی ہے تاکہ او ٹی ٹی ریلیز ونڈوز اور تھیٹر کے معاملات پر بڑھتے ہوئے تنازعات کو مشترکہ طور پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دیگر صنعتی اسٹیک ہولڈرز کی یکطرفہ فیصلوں کو اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالا کی پروڈیوسرز تنظیموں اور گلڈز نے مل کر ساؤتھ انڈین فلم پروڈیوسرز اسوسی ایشن (SIFPA) قائم کی ہے۔ اس ادارے نے اسٹریمنگ ریلیز کی ڈیڈ لائنز سے متعلق جاری تعطل کو حل کرنے کیلئے ایک اسٹیئرنگ گروپ بھی تشکیل دیا ہے جو چاروں صنعتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ 
اس تمام پیش رفت کی وجہ ایک متنازع مطالبہ تھا: پروڈیوسرز سے یہ عہد لینا کہ فلم کی تھیٹر ریلیز اور اس کی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر آمد کے درمیان آٹھ ہفتوں کا وقفہ رکھا جائے۔ خاص طور پر تمل ناڈو میں بعض تنظیموں نے ان پروڈیوسرز کی فلموں کی ریلیز محدود کرنا شروع کر دی تھی جو اس شرط پر دستخط کرنے سے انکار کرتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈیوڈ دھون نے ’’ہے جوانی تو عشق ہوناہے ‘‘ کے تعلق سے وضاحت پیش کی

پروڈیوسرز کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟
اگر آٹھ ہفتوں کا تھیٹر ونڈو زبردستی نافذ کیا جاتا ہے تو اس سے پروڈیوسرز کی اپنی شرائط پر او ٹی ٹی معاہدے کرنے کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی فلم کی باکس آفس کارکردگی کمزور ہو، تو پروڈیوسر کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس جبری انتظار کی وجہ سے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے جس سے مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب، سنیما ہال مالکان اور نمائش کنندگان کا موقف مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فلمیں بہت جلد او ٹی ٹی پر آ جائیں، تو ناظرین سینما جانے کے بجائے گھر پر انتظار کریں گے۔ ان کے مطابق، آٹھ ہفتوں کا وقفہ تھیٹر بزنس ماڈل کے تحفظ کیلئے ضروری ہے جو پہلے ہی حالیہ برسوں میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ببیتا نےگلیمرس ہیروئن سے باہمت ماں تک کا سفرطے کیا

SIFPA کا کردار کیا ہے؟
اجلاس میں متفقہ طور پر اس بات کی مذمت کی گئی کہ پروڈیوسرز سے مشاورت کے بغیر تھیٹر شرائط یا آٹھ ہفتوں کے او ٹی ٹی ونڈو سے متعلق فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ فلمی صنعت ہزاروں لوگوں کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے، اور بغیر مشاورت کے اچانک تبدیلیاں جاری منصوبوں میں افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔ SIFPA کی تشکیل نے تیلگو، تمل اور ملیالم فلم انڈسٹری کے پروڈیوسرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔ نمائندوں نے زور دیا کہ پروڈیوسر، جو اس صنعت میں بنیادی سرمایہ کار اور خطرہ اٹھانے والا ہوتا ہے، اسے تمام فیصلوں میں خودمختار حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ پروڈیوسرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی فلم سازی، حقوق کی فروخت اور ریلیز کے معاملات اپنی شرائط پر جاری رکھیں، اور کسی بیرونی تنظیم کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو قبول نہ کریں۔ او ٹی ٹی ونڈو کے حوالے سے خاص طور پر یہ کہا گیا ہے کہ پروڈیوسرز فی الحال کسی بھی تنظیم یا شعبے کو اس بارے میں کوئی تحریری عہد نہ دیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی فیصلہ تمام پروڈیوسرز کی باہمی مشاورت سے ہونا چاہئے تاکہ صنعت کی مالی پائیداری برقرار رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار کی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ دنیا بھر میں ۱۰۰؍ کروڑ کے کلب میں شامل

اسٹیئرنگ کمیٹی کا کردار
SIFPA کے قیام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں چاروں زبانوں کی فلمی صنعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی فوری مسائل کی نگرانی کرے گی اور چاروں صنعتوں کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھے گی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پروڈیوسرز کو ان فیصلوں میں مؤثر آواز ملے جو ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ اسوسی ایشن تیلگو فلم پروڈیوسرز کونسل، ایکٹو تیلگو فلم پروڈیوسرز گلڈ، تمل فلم ایکٹو پروڈیوسرز اسوسی ایشن، کیرالا فلم پروڈیوسرز اسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں کی حمایت سے قائم کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK