Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی کوریا: AI سے تیار شدہ نغموں کو بھی کاپی رائٹ ملے گا

Updated: August 06, 2026, 9:03 PM IST | Seoul

جنوبی کوریا نے مصنوعی ذہانت (AI) سے معاونت حاصل کرکے تیار کیے گئے گانوں کی کاپی رائٹ رجسٹریشن کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم صرف وہی موسیقی قانونی تحفظ حاصل کر سکے گی جس میں انسانی تخلیق کار کا نمایاں اور بنیادی کردار ثابت ہو۔ Korea Music Copyright Association (KOMCA) کی نئی ہدایات کے مطابق محض AI کو سادہ تحریری ہدایات (Prompts) دے کر تیار کیے گئے مکمل خودکار گانے کاپی رائٹ کے اہل نہیں ہوں گے۔

A I Copyright.Photo:INN
اے آئی کاپی رائٹ۔ تصویر:آئی این این

جنوبی کوریا نے مصنوعی ذہانت اور موسیقی کے شعبے میں ایک اہم پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ AI کی مدد سے تیار کیے گئے گانوں کو بھی کاپی رائٹ رجسٹریشن کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ ان کی تخلیق میں انسان نے نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہو۔ اس فیصلے کا اعلان Korea Music Copyright Association (KOMCA) نے نئی رجسٹریشن ہدایات جاری کرتے ہوئے کیا، جن کے تحت AI کو ایک تخلیقی معاون (Creative Tool) کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، نہ کہ اصل مصنف یا موسیقار کے طور پر۔ نئی پالیسی کے مطابق اگر کوئی گیت نگار، موسیقار یا میوزک پروڈیوسر گانے کے بول لکھنے، دھن تیار کرنے، موسیقی ترتیب دینے یا دیگر اہم تخلیقی فیصلوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور صرف معاونت کے لیے AI استعمال کرتا ہے تو وہ اس گانے کو کاپی رائٹ کے لیے رجسٹر کرا سکتا ہے۔ تاہم صرف ایک سادہ Text Prompt دے کر مکمل طور پر AI سے تیار کیا گیا گانا رجسٹریشن کا اہل نہیں ہوگا کیونکہ ایسے کام میں انسانی تخلیقی کردار موجود نہیں سمجھا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:باب المندب اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی، تیل کی ترسیل پر خدشات بڑھ گئے


KOMCA نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اس ترمیم کا مقصد AI سے معاونت یافتہ تخلیقی طریقوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، جبکہ انسانی تخلیق کاروں کے حقوق کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔‘‘ نئے ضابطوں کے تحت رجسٹریشن کے خواہش مند افراد کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ انہوں نے کون سا AI ٹول استعمال کیا، اسے تخلیقی عمل میں کس مرحلے پر شامل کیا اور گانے کے کن حصوں میں انسانی تخلیق شامل ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار کو اس معلومات کی درستگی کی تصدیق بھی کرنا ہوگی۔ اگر کسی درخواست پر مزید جانچ کی ضرورت محسوس ہوئی تو KOMCA درخواست گزار سے مختلف قسم کے ثبوت طلب کر سکتا ہے، جن میں Digital Audio Workstation (DAW) Project Files، ایڈیٹنگ ہسٹری، موسیقی کے نوٹس (Sheet Music)، Prompt Records اور AI Generation Logs شامل ہیں۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر یہ جانچا جائے گا کہ آیا گانے کی بنیادی تخلیقی سمت انسان نے متعین کی یا نہیں۔ 
ادارے نے واضح کیا کہ اگر بعد میں یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی گانا مکمل طور پر AI نے تیار کیا تھا یا رجسٹریشن کے وقت غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایسے معاملات میں رائلٹی کی ادائیگی معطل کی جا سکتی ہے، پہلے سے وصول کی گئی رائلٹی واپس لی جا سکتی ہے اور متعلقہ ٹرسٹ معاہدہ بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، جان بوجھ کر غلط معلومات دینے یا سنگین غفلت کی صورت میں غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رائلٹی کے تین گنا تک جرمانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ KOMCA نے اس سے قبل AI سے متعلق انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور AI کی مدد سے تیار ہونے والے گانوں کی رجسٹریشن روک رکھی تھی۔ اب نئی پالیسی کے ذریعے اس موقف میں نرمی لاتے ہوئے انسانی تخلیقی کردار کو بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے موسیقاروں اور پروڈیوسرز کو جدید AI ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ملے گی، جبکہ مکمل طور پر مشینی تخلیقات کو انسانی تخلیقی کام کے برابر درجہ نہیں دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل: پاکستان کی فتح سے ایک درجے کی ترقی


موسیقی اور دانشورانہ املاک (Intellectual Property) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کا یہ اقدام دنیا بھر میں AI اور کاپی رائٹ سے متعلق جاری بحث میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ کئی ممالک ابھی تک اس سوال پر واضح پالیسی نہیں بنا سکے کہ AI سے تیار شدہ تخلیقات کو کس حد تک قانونی تحفظ دیا جائے، جبکہ جنوبی کوریا نے پہلی مرتبہ موسیقی کے شعبے میں اس حوالے سے باقاعدہ اور تحریری معیار متعارف کرا دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK