ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کو کہا کہ زہریلی اور بے سزا دنیا جو سوشل میڈیا بن چکی ہے، اگر اس سے بچوں اور نو عمروں کو بچایا جا سکے تبھی ملک کی جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 1:02 PM IST | Madrid
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کو کہا کہ زہریلی اور بے سزا دنیا جو سوشل میڈیا بن چکی ہے، اگر اس سے بچوں اور نو عمروں کو بچایا جا سکے تبھی ملک کی جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کو کہا کہ ریاست میں جمہوری طاقت کو اسی وقت یقینی بنایا جا سکتا ہے جب بچوں اور نوعمروں کو اس زہریلی دنیا سے بچایا جا سکے۔ بلباؤ میں ۸؍ ویں نیشنل انڈسٹری کانگریس کے اختتامی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے، سانچیز نے حکومت کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ضابطے کو سخت کرنے کے منصوبوں کا دفاع کیا، خاص طور پر نابالغوں کے تحفظ کیلئے۔اسپین کی ایک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ ’’ریاست کی طاقت جمہوریتوں کو ان حملوں سے بچانے کیلئے ہے جس کا وہ شکار ہیں اور بچوں اور نوعمروں کو بھی اس زہریلی، بے سزا دنیا سے جو بدقسمتی سے سوشل میڈیا بن چکی ہے۔‘‘ ان کا یہ تبصرہ اسپین کی جانب سے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کی تجویز پر ٹیکنالوجی کی بڑی شخصیات کے ساتھ عوامی تصادم کے درمیان آیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ’’ٹرمپ آر ایکس‘‘ نامی سستی ادویات کی ویب سائٹ شروع کی
سانچیز نے ٹیلیگرام کے شریک بانی پاول ڈوروف کی تنقید کا بالواسطہ جواب دیا، جنہوں نے بدھ کو صارفین کو متنبہ کیا کہ اسپین کے منصوبہ بند ضوابط سے ’’انٹرنیٹ کی آزادی‘‘ کو خطرہ لاحق ہے اور ملک کو ’’نگرانی کی ریاست‘‘ میں تبدیل کرنے کا خطرہ ہے۔ ہسپانوی رہنما کو ایکس کے مالک اور ارب پتی ایلون مسک کی تنقیدوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے اس ہفتے کے شروع میں سانچیز کو ’’جابر فاشسٹ‘‘ اور ’’ظالم‘‘ قرار دیا تھا۔ سانچیز نے ضوابط سے متعلق سینسرشپ یا آمریت جیسے دعووں کو یہ دلیل پیش کرتے ہوئے مسترد کر دیا کہ مذاکرات کو ٹیکنالوجی میں جدت کے مقصد پر مرکوز کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ضابطہ کنٹرول ہے، سیاست کرنا ظلم ہے اور اصول طے کرنا جدت کو محدود کرتا ہے۔ لیکن اہم سوالات تقریباً کبھی نہیں پوچھے جاتے۔ ہم یہ جدت کس لئے چاہتے ہیں؟ حقوق کو وسعت دینا یا ان حقوق کو خطرے میں ڈالنا؟ جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے یا اسے ختم کرنا ہے؟ لوگوں کی زندگیاں سنوارنے کیلئے یا چند لوگوں کی جیبیں بھرنے کیلئے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: راین روتھ کو ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش پر عمر قید کی سزا
سانچیز نے تنقید کی، جسے انہوں نے ٹیکنالوجی اشرافیہ کی لا محدود طاقت کے طور پر بیان کیا، ان پر غلط معلومات پھیلانے اور ذاتی ڈیٹا کا استحصال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں خبردار کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ ’’کیا ہمیں ایسی ٹیکنالوجی چاہئے جو دھوکہ دہی کو عام کرتی ہے، جو عوام کی ذاتی معلومات کو فقط ایک چیز سمجھتی ہے، ایسا سماج جہاں ٹیکنالوجی کے کچھ ماہرین لوگوں کی ذاتی ذندگی میں دخل دیتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے بدھ کے روز کیا، ہزاروں شہریوں کے موبائل فون پر جھوٹ پھیلایا گیا؟‘‘ انہوں جواب دیا کہ ’’ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ انہوں مزید کہا کہ ’’وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے کیوں کہ سماجی جمہوریت اور اکثریت کی آواز کو الگورتھم یا ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘