میلان (اٹلی) میں ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی کھلاڑیوں کو شائقین کی جانب سے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ردعمل غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 8:23 PM IST | Milan
میلان (اٹلی) میں ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی کھلاڑیوں کو شائقین کی جانب سے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ردعمل غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا۔
ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی کھلاڑیوں کو اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کی آمد پر مخالفت کا اظہار کیا۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی ٹیم پرچم کے ساتھ میدان میں داخل ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریب مجموعی طور پر جشن کے ماحول میں جاری تھی، تاہم اسرائیلی کھلاڑیوں کی موجودگی پر کچھ شائقین کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار سنا گیا۔ منتظمین کی جانب سے اس پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تقریب کا باقی حصہ طے شدہ پروگرام کے مطابق مکمل کیا گیا۔ اسرائیلی کھلاڑیوں کو اس ردعمل کا پہلے سے اندازہ تھا۔ ٹیم کے بعض ارکان نے تقریب سے قبل کہا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ کے باعث انہیں بین الاقوامی سطح پر احتجاج یا تنقیدی رویے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کھیل پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں اور سیاسی حالات سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کریں گے۔
🇺🇸🇮🇱The stadium erupted in boos during the Milano Cortina 2026 Winter Olympics Opening Ceremony in Milan as Team Israel entered.
— Suppressed News. (@SuppressedNws1) February 7, 2026
Team USA was also booed, along with U.S. VP JD Vance.
Why is Israel still welcome at the Olympics? pic.twitter.com/sTtqD79TpC
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ غزہ کی صحت کے حکام کے مطابق۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے تقریباً ۷۲؍ ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ وسیع پیمانے پر رہائشی اور شہری انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔ اگرچہ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب بھی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور کئی یورپی ممالک میں مظاہرے بھی دیکھے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ کھیلوں کے عالمی مقابلے عموماً سیاست سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں مختلف ایونٹس کے دوران سیاسی اور انسانی حقوق سے جڑے مظاہر سامنے آتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست اور انسانی بحران اب کھیلوں کے میدان تک بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی ریپر سینٹرل سی کا لائیو اسٹریم میں کلمہ شہادت پڑھ کر قبولِ اسلام
میلان میں پیش آنے والا یہ واقعہ کسی منظم احتجاج کا حصہ نہیں تھا، بلکہ تماشائیوں کا ردعمل تھا۔ تاہم اس نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا بین الاقوامی کھیلوں کو مکمل طور پر سیاست سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسرائیلی ٹیم کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ایونٹ کے منتظمین نے بھی اسے ایک محدود اور وقتی ردعمل قرار دیتے ہوئے تقریب کے پُرامن انعقاد پر زور دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں ایسے واقعات مستقبل میں مزید سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر جب کسی ملک کی خارجہ یا عسکری پالیسی عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہو۔