ہندوستان کے سابق کپتان کرشناماچاری سری کانت نے تجربہ کار تیز گیندباز محمد سمیع کو تمام فارمیٹ میں مسلسل نظر انداز کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے انہیں جیسے مکمل طور پر بھلا دیا ہے۔
محمد سمیع۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کے سابق کپتان کرشناماچاری سری کانت نے تجربہ کار تیز گیندباز محمد سمیع کو تمام فارمیٹ میں مسلسل نظر انداز کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے انہیں جیسے مکمل طور پر بھلا دیا ہے۔اسٹار اسپورٹس سے گفتگو میں سری کانت نے ۲۰۲۷ء ون ڈے ورلڈ کپ کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پرنس یادو، گرنور برار اور محسن خان باصلاحیت گیندباز ہیں اور اگلے ۱۵؍ ماہ میں ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنا سکتے ہیں لیکن محمد سمیع جیسے شاندار گیندباز کو نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا’’سمیع ایک غیر معمولی گیند باز رہے ہیں۔مجھے حیرت ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے انہیں بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ محمد سمیع نے ۲۰۲۳ء کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ۲۴؍ وکٹیں لے کر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم ۲۰۲۵ء کی چمپئن ٹرافی کے بعد سے وہ ہندوستان کے لئے کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔سری کانت نے کہا کہ ۲۰۲۷ءکے ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کامیابی کیلئے جسپریت بمراہ کی فٹنس انتہائی اہم ہوگی۔ ان کے مطابق بمراہ ہندوستان کے لیے بے مثال ہیرا ہیں اور ان کے ورک لوڈ کا محتاط انتظام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بمراہ کے علاوہ پرسدھ کرشنا اور محمد سراج بھی جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
سابق کپتان نے عرشدیپ سنگھ کو ون ڈے کرکٹ کے لئے موزوں نہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نئی گیند سے سوئنگ حاصل ہونے تک تو مؤثر رہتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی میں نمایاں کمی آ جاتی ہے اس لئے انہیں ون ڈے ٹیم میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔