Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹیون اسپیلبرگ نے جیمز بانڈ فلم نہ ملنے کی وجہ بتائی

Updated: June 13, 2026, 8:01 PM IST | Mumbai

ہالی ووڈ کے لیجنڈری ہدایت کار اسٹیون اسپیلبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ برسوں تک جیمز بانڈ فلم کی ہدایت کاری کے خواہش مند رہے، مگر انہیں کبھی یہ موقع نہیں ملا۔ ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیلبرگ نے بتایا کہ انہوں نے Jaws کی کامیابی کے بعد بانڈ فرنچائز کے پروڈیوسر البرٹ ’’کیوبی‘‘ بروکولی سے خود رابطہ کیا تھا، لیکن ان کی پیشکش مسترد کر دی گئی۔

Steven Spielberg. Photo: INN
اسٹیون اسپیلبرگ۔ تصویر: آئی این این

ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز اسٹیون اسپیلبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کئی برسوں تک جیمز بانڈ کی فلم کی ہدایت کاری کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں کبھی یہ موقع نہیں دیا گیا۔ پوڈکاسٹ The Rest Is Entertainment میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیلبرگ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بلاک بسٹر فلم Jaws کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد بانڈ فرنچائز کے پروڈیوسر البرٹ آر بروکولی سے براہِ راست رابطہ کیا تھا۔ اسپیلبرگ نے کہا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے بانڈ فلم کی ہدایت کاری کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ Jaws کی کامیابی کے بعد میں نے کیوبی بروکولی کو فون کیا اور کہا کہ اگر آپ کو ہدایت کار کی ضرورت ہو تو میں یہ کام کرنا پسند کروں گا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: انوبھو سنہا کو امتیاز علی کی فلم ’’ میں واپس آؤں گا‘‘ پسند آئی

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں بھی انہوں نے ایک اور مرتبہ پروڈیوسر کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ اسپیلبرگ کے بقول، ’’میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ مجھے بانڈ فلم کی ہدایت کاری کا موقع دیں تو میں انہیں اپنی اگلی فلم کے لیے پانچ تخلیقی تجاویز استعمال کرنے کی اجازت دوں گا، لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا۔‘‘ اسپیلبرگ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے آج تک کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ مجھے بانڈ خاندان کا حصہ کیوں نہیں بنانا چاہتے تھے۔‘‘
اگرچہ انہیں جیمز بانڈ فلم نہ مل سکی، لیکن یہی محرومی بعد میں ان کے لیے ایک نئی اور تاریخی کامیابی کا سبب بنی۔ اسپیلبرگ نے بتایا کہ ۱۹۷۷ء میں جب وہ جارج لوکاس کے ساتھ ہوائی میں وقت گزار رہے تھے اور ’’اسٹار وارز: اے نیو ہوپ‘‘ کی ریلیز کا انتظار کر رہے تھے، تو انہوں نے لوکاس کو اپنی بانڈ فلم بنانے کی خواہش کے بارے میں بتایا۔ اسپیلبرگ کے مطابق، جارج لوکاس نے جواب دیا کہ ’’میرے پاس بانڈ سے بھی بہتر کچھ ہے۔‘‘ بعد ازاں یہی تصور انڈیانا جونز کی صورت میں سامنے آیا، جو دنیا کے مقبول ترین فلمی کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پنجابی گلوکارہ افسانہ خان کی آواز میں جذباتی اتار چڑھاؤ ہے

اسپیلبرگ نے کہا کہ اگر انہیں آج جیمز بانڈ فلم کی ہدایت کاری کی پیشکش بھی کی جائے تو وہ شاید اسے قبول نہ کریں۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ ایسی پیشکش پر کیا کہیں گے، انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا، ’’میرا جواب ہوگا: آپ مجھے افورڈ نہیں کر سکتے۔‘‘ دوسری جانب، بانڈ فرنچائز میں نئے جیمز بانڈ کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ڈینیل کریگ کے کردار چھوڑنے کے بعد متعدد اداکاروں کے نام زیرِ غور آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرون ٹیلر جانسن اور ہنری کیول ان ناموں میں نمایاں ہیں جنہیں مستقبل کے جیمز بانڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فلمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسپیلبرگ کبھی بانڈ فرنچائز کا حصہ نہ بن سکے، لیکن انڈیانا جونس جیسی کامیاب سیریز نے انہیں سنیما کی تاریخ کے عظیم ترین ہدایت کاروں میں شامل کر دیا، اور شاید یہی وہ راستہ تھا جس نے ان کے کریئر کو منفرد شناخت بخشی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK