سدھا ملہوترا ہندی فلمی موسیقی کےاس سنہرے دور کی نمایاں گلوکارہ ہیں جس نےلتا، آشا اور گیتا دت کے بیچ اپنی الگ اور نفیس پہچان بنائی۔
سدھا ملہوترا کی آواز ہی ان کی پہچان ہے۔ تصویر:آئی این این
سدھا ملہوترا ہندی فلمی موسیقی کےاس سنہرے دور کی نمایاں گلوکارہ ہیں جس نےلتا، آشا اور گیتا دت کے بیچ اپنی الگ اور نفیس پہچان بنائی۔۳۰؍نومبر۱۹۳۶ءکودہلی میں ایک موسیقی پسند پنجابی گھرانےمیں پیدا ہوئیں، بچپن لاہور، بھوپال اور فیروزپور جیسے شہروںمیں گزرا، جہاں ریڈیو، کلاسیکی موسیقی اور اسٹیج پر گائیکی نے ان کی آواز کو جِلا بخشی۔ محض ۶؍برس کی عمر میں معروف موسیقار غلام حیدرنےاسٹیج پر ان کی آواز سنی اور پہچان لیا کہ یہ بچی آگے چل کر گلوکاری کی دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑے گی۔
تقسیم ہند سے قبل سدھا ملہوترا لاہور ریڈیو(آل انڈیا ریڈیو) کے بچوں کے پروگرام میں گایا کرتی تھیں، فسادات کے دنوں میں ریڈیو وین اور پولیس اسکواڈگھر آکر انہیں اسٹیشن لے جایا کرتا تھا، جو اس کم سِن فن کارہ کی مقبولیت اور اہمیت کا ثبوت ہے۔ تقسیم کے بعد خاندان دہلی آ گیا، جہاں انہیں پنڈت امرناتھ سے باقاعدہ کلاسیکی موسیقی کی تربیت ملی، بعد میں آگرہ یونیورسٹی سے موسیقی میں گریجویشن بھی کیا۔۱۹۴۸ءکے آس پاس خاندان بمبئی منتقل ہوا تو استاد عبد الرحمن خان اور پنڈت لکشمن پرساد جے پوروالے جیسے استادوںنے ان کے ریاض کو مزید مضبوط کیا۔
کم عمری ہی میں آل انڈیا ریڈیو دہلی اور بمبئی سے باقاعدہ گائیکی،مشاعروں اور اسٹیج پروگراموں میں حصہ لینے سے ان کا اعتماد بڑھا اور موسیقار طبقے میں ان کے نام کی بازگشت ہونے لگی۔
سدھا ملہوترا کی فلمی گلوکاری کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب موسیقار انل بسواس نے انہیں صرف ۱۴؍برس کی عمر میں فلم ’آرزو‘ کیلئے موقع دیا۔ اسی فلم میں ان کے گائے ہوئے گیت نے فلمی دنیا کا دروازہ کھول دیا اور پھر اگلے تقریباً ۱۰؍برسوں میں وہ ۱۵۵؍فلموں کے لیے ۲۶۴؍ گانے ریکارڈ کرچکی تھیں۔اس دور میں انہوں نے متعدد بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور مختلف مزاج کے نغمات گائے جن میں’دل نادان‘، ’اب دلی دور نہیں‘، ’دیکھ کبیرہ رویا‘، ’راج تِلک‘، ’پرورش‘ جیسی فلموں کے گیت شامل ہیں۔
منّا ڈے، محمد رفیع، مکیش اور آشا بھوسلے کے ساتھ دو گانے، قوالیاں اورابتدا میں انہیں بچوں کے گیتوں اور ماں کے جذبات پر مبنی نغمات کے لیے ایک’ایک مخصوص انداز کا گلوکار‘سمجھا جانے لگا، لیکن جلد ہی انہوں نے ثابت کیا کہ وہ بھجن، غزل، رومانوی اور سنجیدہ ہر نوعیت کے گانوں میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔
سدھا ملہوترا کا نام آتے ہی چند کلاسیکی نغمے ذہن میں گونجنے لگتےہیں، جو آج بھی سامعین کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔فلم ’کالا پانی‘ کا بھجن ’نا میں دھن چاہوں…‘ جس نے انہیں خصوصی شہرت دی اور روحانی رنگ میں ان کی آواز کی گہرائی کو سامنے لایا۔ فلم ’برسات کی رات‘ کی شہرہ آفاق قوالی ’یہ عشق عشق ہے…‘ فلم ’دیدی‘(۱۹۵۹ء)کامشہور دوگانا ’تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو‘ جیسے گیت آج بھی مقبول ہیں۔سدھا ملہوترا کو۲۰۱۳ءمیںپدم شری سے نوازا گیا، جب کہ مختلف ادبی و ثقافتی اداروں کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی ملے۔بمبئی روٹری کلب نے انہیں’شیام منشی ایوارڈ فار لائف ٹائم اچیومنٹ‘سے سرفراز کیا، جہاں انہوں نے اپنے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح بچپن میں لاہور ریڈیو وین انہیں فسادات کے دوران بھی پروگرام کے لیے حفاظتی حصار میں لے جایا کرتی تھی۔