روڈ پر، سوسائٹی کے اندر ، موٹرسائیکل پر یا چوراہے پر کیک کاٹ کرسالگرہ منانے کے بڑھتے رجحان پر علماء،ائمہ اورتنظیموں کے ذمہ داران نےتشویش کا اظہار کیا۔
جھلسنے والا نوجوان عبدالرحمٰن خان۔ تصویر:آئی این این
روڈ پر، سوسائٹی کے اندر ، موٹرسائیکل پر یا چوراہے پر کیک کاٹ کر برتھ ڈے منانے کے بڑھتے رجحان پر علماء اور ذمہ دار شخصیات نے تشویش کا اظہار کیا۔کرلا میںپیش آنےوالے واقعہ کو افسوسناک اورعبرتناک قرار دیا۔ اسی کے ساتھ والدین کو متوجہ کیا اور جان و مال اور مذہب کی بدنامی کا باعث بننے والے اس عمل سے دور رہنے کی تلقین کی۔جمعیۃ اہل حدیث کے نائب صدر مولانا عبدالجلیل انصاری نے کہاکہ ’’ آخر مسلم نوجوانوں کوکیا ہورہا ہے ، برتھ ڈے جس کااسلام میںکوئی تصور نہیںہے،اس میںہمارا مال ضائع ہورہاہے ۔خاص طور پر چند دن قبل کرلا میںپیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اورعبرتناک ہےکہ نوجوان کی جان جاتے جاتے بچی، وہ بری طرح جھلس گیا۔ ہمیں نوجوانوں کی اصلاح کی فکر کرنے کے ساتھ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لاڈلوںکے تعلق سےباخبر رہیںاورملی تنظیمیں بھی توجہ دیں۔‘‘
مفتی اشفاق قاضی (دارالافتاءجامع مسجد) نے کہا کہ ’’ اس طرح کے واقعات سن کراور نوجوانوں کی حرکتیں دیکھ کرافسوس ہوتاہے کہ برتھ ڈے منانے کا اس قدر جنون ہے جبکہ اسلام میںایسے کسی عمل کی گنجائش نہیںہے ، سال ختم ہونے کا وقت تو احتساب کا ہوتا ہےکہ زندگی کا ایک سال کم ہوگیا چہ جائیکہ غیروں کی تقلید کرتے ہوئے خوشی منائی جائے، سڑک پرنکڑپر یا سوسائٹی کے احاطے میںدھینگا مشتی کی جائے، اس سے ہمارے نوجوانوں کو گریز کرنا چاہئے۔‘‘
مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےکہاکہ ’’ برتھ ڈے منانے کاچلن اب کچھ زیادہ ہی بڑھ رہا ہے ۔اس میںہمارے نوجوان جو طریقہ اپناتے ہیں اورجس طرح ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اس سے یہی واضح ہوتاہے کہ یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ کہیں نہ کہیں والدین بھی اس کے ذمہ دارہیں جنہیںیہ فکر نہیںرہتی کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں۔علماء اور ائمہ بھی اس جانب توجہ فرمائیں۔‘‘جماعت ِاسلامی کے مقامی امیرہمایوں شیخ نے کہاکہ ’’ برتھ ڈے کے نام پرہمارے نوجوان غیروں کی تقلید کرکے اپنا مال ضائع کرتے ہیں۔ان کایہ عمل اسلام کی تعلیمات کے منافی ہونے کےساتھ معاشرے کی تباہی اور مسلمانوں کی ذلت کا بھی باعث بن رہا ہے ۔ ہمیں اس طرح کے عمل سےہرحال میںدوری اختیار کرنے اورنوجوانوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘
رضا اکیڈمی کے سربراہ محمدسعید نوری نے کہاکہ’’اگرکوئی سمجھدار شخص ہوتووہ برتھ ڈے کا تصور بھی نہیںکرسکتا، اگرکرے گا تواس کے ذہن میںہوگا کہ اس نے وہ ایک سال جو اس کی زندگی کےکم ہوگئے ہیں، کس طرح گزارا، آیا تعلیمات ِ مصطفےٰ پرعمل کیا یا پھر ضائع کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے یہ انتہائی شرمناک ہے کہ نوجوان چوراہوں، نکڑوں، گلی محلوں اور بسا اوقات گاڑیوں پرکیٹ کاٹ کراپنی پیدائش کی خوشی منائیں۔ اس تعلق سے ہرسطح پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔‘‘
حافظ معیداحمدخان (امام) نے کہاکہ ’’ مسلم معاشرے میںنئی نئی خرابیاں آتی جارہی ہیں، اسی میں برتھ ڈے منانے کا شرمناک عمل بھی ہے۔ کرلا میںجو واقعہ پیش آیا اورایک نوجوان جھلس گیا، اس پر برتھ ڈے میں شامل اس کے ساتھیوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کی، کیا اب بھی ہمیں ہوش میں نہیں آنا چاہئے کہ آخرہمارے نوجوان کہاں جارہے ہیں اور معاشرہ کس قدر انحطاط کا شکار ہورہا ہے۔ یہ پوری ملت کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔‘‘