• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج سے یکروزہ سیریز کا آغاز، روہت اور کوہلی توجہ کا مرکز

Updated: November 30, 2025, 1:39 PM IST | Agency | Ranchi

ٹیم انڈیا جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سیریز میں ملنے والی شکست کا بدلہ ون ڈے سیریز میں لینے کی کوشش کرےگی وہیں مہمان ٹیم اس فارمیٹ میں بھی شاندار کارکردگی کیلئے تیار ہے۔

Virat Kohli can be seen with other players during batting practice. Picture: PTI
وراٹ کوہلی کو بلے بازی کی مشق کے دوران دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر:پی ٹی آئی
روہت شرما اور وراٹ کوہلی، جو اب صرف ون ڈے فارمیٹ میں کھیل رہے ہیں، وہ اتوار سے یہاں شروع ہونے والی ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ۳؍ یک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی سیریز میں توجہ کا مرکز ہوں گے، جہاں وہ ۲۰۲۷ء کے ورلڈ کپ کیلئے اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ بھی اس سیریز کے ذریعے انتخابی مسائل کو حل کرنا چاہے گی، جسے حال ہی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ختم ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے دوران انتخابی معاملات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
روہت اور کوہلی دونوں اب صرف ایک بین الاقوامی فارمیٹ میں کھیلتے ہیں۔ ہندوستان کو اگلے ۲؍ ماہ میں صرف ۶؍ ون ڈے میچ کھیلنے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے بعد، ہندوستانی ٹیم ۳؍ جنوری سے نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر ۳؍ ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ ایسے میں فطری ہے کہ سب کی نگاہیں ہندوستانی کرکٹ کے ۲؍ لیجنڈز روہت اور کوہلی پر مرکوز رہیں گی۔ان میچوں میں ان کی کارکردگی کا ۲۰۲۷ءکے ون ڈے ورلڈ کپ میں ان کے امکانات پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔  ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے ورلڈ کپ کے مقدر کو یقینی نہ بنائے، لیکن یہ میچ ان کیلئے ایک طرح سے آڈیشن ہو سکتے ہیں، جو ان کے مستقبل کی راہ بھی متعین کریں گے۔
اتفاق سے۲۰۱۳ءمیں اسی جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں روہت شرما نے پہلی بار فل ٹائم اوپنر کے طور پر کھیلا تھا، جس نے محدود اوورز کی کرکٹ میں ان کے کریئر کو ہی بدل دیا۔ یہ ۳۷؍ سالہ کھلاڑی ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد پھر سے یہاں پہنچا ہے، جہاں وہ اپنے کریئر کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کرے گا۔
ہندوستان کی یہ ون ڈے سیریز اگلے سال ہوم گراؤنڈ پر ہونے والے ٹی ۔۲۰؍ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جا رہی ہے، جس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی انہیں کھیل کے سب سے چھوٹے فارمیٹ کے آئی سی سی ٹورنامنٹ کیلئے ہندوستانی ٹیم میں جگہ دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وہیں جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سیریز میں دونوں میچ ہارنے کے بعد ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر بھی جانچ کے دائرے میں ہیں، حالانکہ ان کی پوزیشن کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان کا معاہدہ ۲۰۲۷ء میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ تک ہے۔ٹیسٹ میں شکست کے بعد ان کے حکمت عملی سے متعلق فیصلوں اور ٹیم کے انتخاب پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ ان کی دوسری بڑی ناکامی تھی۔ ایسے میں یہاں ون ڈے سیریز گمبھیر کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور محدود اوورز میں ہندوستان کی سمت کو واضح کرنے کا ایک اہم موقع  بھی ہوگا۔
اگلے سال ہوم گراؤنڈ پر ہونے والے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کو دیکھتے ہوئے ون ڈے ان کی فوری ترجیح نہیں ہوگی پھر بھی گمبھیر ہندوستان کی محدود اوورز کی حکمت عملی میں استحکام لانے اور اسے سمت دینے کیلئے بے چین ہوں گے۔اس سیریز میں بھی ہندوستانی الیون ابھی تک طے نہیں ہوئی ہے اور کئی سینئر کھلاڑی ٹیم میں نہیں ہیں۔
جسپریت بمراہ اور محمد سراج کو آرام دیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ کپتان شبھ من گل اور شریس ایر زخمی ہیں۔ان کی غیر موجودگی نہ صرف ٹیم کی بلے بازی کو کمزور کرتی ہے بلکہ قائم مقام کپتان کے ایل راہل اور ہیڈ کوچ گمبھیر کو بھی اپنے کردار اور ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور کرتی ہے۔مڈل آرڈر کی پہیلی اور بھی نازک ہے۔ مینجمنٹ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آل راؤنڈر کے طور پر واشنگٹن سندر کو منتخب کیا جائے یا نتیش کمار ریڈی کو۔تلک ورما نے خود کو ایک قابل اعتماد بلے باز ثابت کیا ہے اور ٹیم مینجمنٹ انہیں آخری الیون میں رکھنا چاہے گی۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر کپتان کے ایل راہل وکٹ کیپنگ کرتے ہیں تو کیا رشبھ پنت کو آخری الیون میں جگہ ملے گی یا نہیں۔بمراہ اور سراج کی غیر موجودگی میں گیندبازی کی ذمہ داری پرسدھ کرشنا، عرشدیپ سنگھ، ہرشت رانا اور کلدیپ یادو پر ہوگی۔
دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے میچوں کی تاریخ کافی دلچسپ رہی ہے۔ اب تک کُل۵۸؍  ون ڈے میچ کھیلے گئے ہیں جن میں جنوبی افریقہ نے ۳۰؍ میچ جیتے ہیں جبکہ ہندوستان ۲۷؍ بار فاتح رہا ہے۔ اس بار ہندوستان تین صفرسے جیت کر کرکٹ میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے اور ٹیسٹ سیریز کی ہار کا بدلہ لینا چاہےگا ہے۔ ہندوستان اور جنوبی افریقہ نے ۲۰۲۳ء میں بھی ۳؍ میچوں کی ون ڈے سیریز کھیلی تھی، جس میں ہندوستان نے دوایک سے جیت حاصل کی تھی۔ گھریلو میدان پر ہندوستان نے پچھلے ۱۵؍ سال میں ون ڈے میں ۷۱؍فیصد میچ جیتے ہیں جو ہندوستانی ٹیم کے لئے ایک بڑی طاقت ہے۔ 
جہاں تک جنوبی افریقہ کی بات ہے تو  ٹیسٹ سیریز میں جیت کے بعد پِراعتماد ہو کر سیریز میں اترے گا۔ وہ ٹیسٹ کے بعد یکروزہ  فارمیٹ میں بھی اپنا فارم  برقرار رکھنے کیلئے بے چین ہوگا۔تیز گیندبازوں کاگیسو ربادا اور اینرک نورٹجے کی غیر موجودگی سے جیرالڈ کوٹزی اور ناندری برگر جیسے گیندبازوں کیلئے ہندوستانی حالات میں ذمہ داری سنبھالنے کا راستہ کھل گیا ہے جبکہ بائیں ہاتھ کے اسپنر کیشو مہاراج ایک بار پھر سست پچوں پر اہم کردار ادا کریں گے۔جنوبی افریقہ کا بلے بازی شعبہ مضبوط ہے، جس میں کوئنٹن ڈی کوک، کپتان ٹیمبا باوما، میتھیو بریٹزکے، ڈیوالڈ بریوس اور ٹونی ڈی زورزی وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK