جب کام ہو چکا ہے تو رقم کیوں ادا نہیں کی جا رہی ہے؟ ریاست بھر کے ٹھیکیدار ممبئی کے آزاد میدان میں جمع ہو کرحکومت سے سوال کریں گے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 12:00 PM IST | Ali Imran | Nagpur
جب کام ہو چکا ہے تو رقم کیوں ادا نہیں کی جا رہی ہے؟ ریاست بھر کے ٹھیکیدار ممبئی کے آزاد میدان میں جمع ہو کرحکومت سے سوال کریں گے۔
مہاراشٹر حکومت کے مختلف محکموں کے تحت ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے باوجود ٹھیکیداروں کے تقریباً ۹۰؍ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کئی مہینوں سے اور بعض جگہوں پر دو سال سے التوا کا شکار ہے۔ ٹھیکیداروں کی تنظیموں نے مطلع کیا ہے کہ ان زیر التواء فنڈ کے مطالبے کیلئے ۱۸؍اگست کو ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا میں ۷ء۷؍ شدت کا زلزلہ، ۲؍ افراد ہلاک، متعدد عمارتیں منہدم
ٹھیکیداروں کی تنظیموں کی معلومات کے مطابق اس میں محکمہ تعمیرات عامہ، دیہی ترقی، جل جیون مشن، قبائلی ترقی محکمہ، پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی، سیاحت کے ساتھ ساتھ ضلع پریشد کے تحت سڑکوں اور پلوں کے کام شامل ہیں۔ ٹھیکیداروں کا الزام ہے کہ انتظامیہ کام مکمل ہونے اور تمام ضروری امور کی تکمیل کرنے کے باوجود انہیں وقت پر ادائیگی نہیں کر رہا ہے۔ جبکہ ٹھیکیداروں نے ان کاموں کو اپنے سرمائے، بینک قرضوں اور اوور ڈرافٹ کے ذریعے مکمل کیا ہے۔ تاہم، وقت پر رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے، وہ بینک کے سود، ای ایم آئی، مزدوروں کی اجرت، سیمنٹ۔اسٹیل سپلائر کے واجبات اور جی ایس ٹی کے بوجھ کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کی حقوقِ انسانی تنظیموں کا یوگی آدتیہ ناتھ و دیگرکے خلاف پابندی کا مطالبہ
ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹھیکیدار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اور بہت سی صنعتیں اور ملازمتیں ٹھپ ہونے کے دہانے پر ہیں۔ اطلاع کے مطابق اس احتجاج کے ذریعے ٹھیکیداروں نے حکومت سے کچھ اہم مطالبات کئےہیں۔ ان میں اہل اور تصدیق شدہ زیر التواء ادائیگیوں کی فوری ادائیگی، تمام محکموں کے زیر التواء بلوں کے سرکاری اعدادوشمار کو عام کرنا، بلوں کی شفاف اور بروقت ادائیگی کیلئے ایک آن لائن ڈیش بورڈ اور مستقل نظام بنانا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹھیکیداروں کے بقایا بلوں کو ترجیح دیتے ہوئے باقاعدہ فنڈز کی فراہمی شامل ہیں۔ ناگپور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اسٹیٹ گورنمنٹ کنٹریکٹرس فیڈریشن کے صدر این بی لاڈ، نائب صدر کسن پنسارے اور اجے پاچپوتے نے تمام ٹھیکیداروں سے اس احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ ٹھیکیداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کام مکمل ہونے اور بل منظور ہوجانے کے باوجود رقم کیوں ادا نہیں کی جاری ہے؟انہوں نے اپنے جائز حقوق کیلئے پرامن احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی خیراتی ادارے نےعطیات سابق اسرائیلی فوجیوں کی فاؤنڈیشن تک پہنچائے: تحقیق
بتادیں کہ گزشتہ دو سال(۲۰۲۵ء اور ۲۰۲۶ء) کے دوران، سرکاری ٹھیکیداروں کی خودکشی کے کئی المناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ خودکشی جیسے انتہائی اقدام نے حکومتی ادائیگیوں میں تاخیر، غیر ادا شدہ بلوں، اور نجی ساہوکاروں کے دباؤ کی وجہ سے ٹھیکداروں کی شدید مالی پریشانی کو نمایاں کیا ہے۔ ان خودکشیوں کی تحقیقات میں اکثر ایسے کمزور ٹھیکیداروں مایوسی کا شکار ہوئے ہیں جو پرائیویٹ فائنانسر اور قرضوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ٹھیکیدار اس سے قبل کئی بار احتجاج کر چکے ہیں۔ حکومت نے ان کی جزوی رقم ادا کی ہے۔