• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کی مداخلت، حکومت مسلم شخص پر حملے میں نفرت انگیزجرائم کے الزامات شامل کرنے پر راضی

Updated: February 18, 2026, 2:06 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد یوپی حکومت نے مسلم شخص پر۲۰۲۱ء کے حملے میں نفرت انگیز جرائم کے الزامات شامل کرنے پر اتفاق کیا، قاضی احمد شیروانی نے ۵؍ سال قبل نوئیڈا میں اپنی مسلمان شناخت کی بنیاد پر زیادتی اور ذلت کا سامنا کرنے کا الزام لگایا تھا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ آف انڈیا کو آگاہ کیا کہ وہ۲۰۲۱ء میں قاضی احمد شیروانی پر حملے کے مقدمے میں نفرت انگیز جرائم کی دفعات شامل کرے گی،واضح رہے کہ تقریباً پانچ سال قبل قاضی احمد  نے نوئیڈا میں اپنی مسلمان شناخت کی بنیاد پر زیادتی اور ذلت کا سامنا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دریں اثناءریاست کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے، ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے ایم نٹراج نے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ کو بتایا کہ نظرثانی کرنے پر، انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۱۵۳؍ بی (قومی یکجہتی کے لیے مضر الزامات) اور۲۹۵؍ اے (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دانستہ کارروائیاں) کا اطلاق ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریاست ایک ہفتے کے اندر یہ دفعات شامل کرنے کے لیے ٹرائل کورٹ میں درخواست دے گی۔
یاد رہے کہ اترپردیش حکومت کا یہ بیان دو ہفتے بعد آیا جب عدالت نے ریاست سے پوچھا تھا کہ کیا۴؍ جولائی۲۰۲۱؍ کے واقعے میں نفرت انگیز جرائم کی دفعات شامل کی جائیں گی۔ دراصل شیروانی، جو دہلی کے رہائشی ہیں اور علی گڑھ جا رہے تھے، نے الزام لگایا کہ نوئیڈا میں شرپسندوں کے ایک گروپ نے انہیں لفٹ کی پیشکش کی، پھر انہیں گالیاں دیں اور ان کی داڑھی نوچ لی۔سینئر ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی، جو ایڈووکیٹ شاہ رخ عالم کے ہمراہ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے، نے عدالت کو بتایا کہ شیروانی کے لیے معاوضے کا معاملہ حل طلب ہے۔بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ ریاست اب قابل اطلاق دفعات پر متفق ہو گئی ہے، لیکن درخواست گزار مناسب فورم سے معاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔ایڈووکیٹ عالم کی درخواست پر، عدالت نے معاملہ التوا میں رکھا۔
تاہم شیروانی نے نومبر۲۰۲۱ء میں سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا، جس میں پولیس کی بے عملی کا بھی الزام لگایا گیا تھا جبکہ ان کی شکایت دہلی سے نوئیڈا حکام کو بھیجی گئی تھی، جنہوں نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے محض لوٹ کا مقدمہ درج کیا ، اور مذہبی منافرت کا انکار کیا۔ بعد ازاں عدالت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ دفعہ۱۵۳؍بی  اور۲۹۵؍ اے کے تحت استغاثہ کی منظوری کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ کے۱۹۶؍ تحت حکومتی اجازت درکار ہے، ریاست مقدمہ درج کرنے اور تفتیش کرنے سے انکار نہیں کر سکتی۔
دریں اثناءریاست نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جو پہلے ان کی شکایت درج کرنے میں ناکام رہے تھے۔اگرچہ بنچ نے کہا کہ وہ وسیع تر شواہد کے بغیر اس واقعے کو فرقہ وارانہ قرار نہیں دے گی، لیکن اس نے پہلے ریاست کے نفرت انگیز جرائم کی دفعات پر غور کرنے سے انکار پر سوال اٹھایا تھا۔پچھلی سماعت کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ مسلمان شخص کی داڑھی اس کے مذہبی عمل کا لازمی حصہ ہے اور اسے گالی دیتے ہوئے داڑھی کھینچنا واضح طور پر مذہبی جہت کی نشاندہی کرتا ہے۔تاہم یہ معاملہ عدالت میں التوا کا شکار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK