• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو اہم ہدایت

Updated: January 20, 2026, 11:47 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi

مغربی بنگال میں منطقی تضاد والے ایک کروڑ ۲۵؍لاکھ ناموں کو شائع کیا جائے، نام کے ہجے میں فرق اوروالدین کی عمر کے ساتھ فرق کو بنیاد بناکرالیکشن کمیشن نے ایک کروڑ ۲۵؍لاکھ رائے دہندگان کو نوٹس بھیجا، پنچایت اور بلاک سطح پر دفتر قائم کرکے ان افراد کی سماعت کی ہدایت،ترنمول کانگریس نے فیصلہ کو اپنے موقف کی جیت قرار دیا۔

The Supreme Court has given clear instructions to the Election Commission. Picture: INN
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو واضح ہدایات دی ہیں۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی معاملہ میں سپریم کورٹ نےاپنے اہم فیصلہ میں الیکشن کمیشن کوان ایک کروڑ ۲۵؍لاکھ ووٹروں کے نام شائع کرنے کی ہدایت دی جن کے ناموں میں منطقی تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن کے ذریعے انہیں نوٹس بھیجا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ ان افراد کی لسٹ پنچایت اور بلاک کے دفاتر میں بھی شائع کی جائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ منطقی تضادات کے زمرے میں ڈالے گئے افراد کی تصدیق شفاف طریقے سےہو۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جوئےمالیا باغچی کی بنچ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تقریباً ایک کروڑ ۲۵؍لاکھ افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں جن میں والدین کے ناموں میں عدم مماثلت، والدین کے ساتھ عمر کا کم فرق، والدین کی اولاد کی تعداد ۶؍ سے زائد وغیروہ کا حوالہ دیاگیا۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جن افراد کوالیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس موصول ہوئے ہیں، وہ اپنے دستاویزات اوراعتراضات اپنے مجاز ایجنٹوں کے ذریعے جمع کرانے کے حقدار ہوں گے ۔جب عرضی گزاروں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ لوگوں کو نوٹس کا جواب دینے کیلئے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے گا،اس پر عدالت نے حکم دیا کہ دستاویزات اور اعتراضات جمع کرانے کے لیے پنچایت بھون اور بلاک کے اندر دفاتر قائم کئے جائیں۔ اگر دستاویزات غیر تسلی بخش پائے جاتے ہیں، تو انتخابی افسران کو ان افراد کو سماعت کا موقع دینا چاہیے۔
پیر کی سماعت میں سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، ترنمول کانگریس کے بعض ارکان کی طرف سے پیش ہوئے۔ انہوںنے بنچ کو بتایا کہ بہت سے ایسے افراد جنہیں ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا کہ انہیںمنطقی تضادات کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ سبل نے کہا کہ گنگولی اور دتہ جیسے ناموں کے ہجے مختلف طریقوں سے کیے جا سکتے ہیںاور اسی فرق کی بنیاد پر لوگوں کو نوٹس بھیجا گیا۔ سبل نے مزید کہا کہ چند معاملوں میں اس بنیاد پر نوٹس بھیجا گیا کہ والدین کے ساتھ عمر کا فرق۱۵؍ سال سے کم ہے۔ انہوں نےبنچ سے درخواست کی کہ منطقی تضادات والے ناموں کو شائع کیاجائے اوربوتھ لیول ایجنٹوں کو سماعتوں میں ووٹروں کی مدد کرنے کی اجازت دی جائے۔دوسری طرف الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ہجے کے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس نہ بھیجیں۔ تاہم، ایسے معاملات جہاں والدین کے ساتھ عمر کا فرق۱۵؍ سال یا اس سے کم ہے اسے منطقی تضاد کے طور پر نشان زد کیا جاتا ہے۔اس پر جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے سوال کیا کہ یہ منظقی تضاد کیوں ہے؟ کیا ہمارے ملک میں کم عمر کی شادیاں نہیں ہوتی ہیں؟
سینئر وکیل شیام دیوان اور کلیان بنرجی نے بھی سبل کےساتھ دلائل دیئے ۔ دیوان نے الزام لگایا کہ بوتھ لیول افسران کو باضابطہ احکامات کے بجائے وہاٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ہدایات بھیجی گئی ہیں اور اس وجہ سے اس عمل میں کوئی شفافیت نہیں ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ والدین یا دادا، دادی کے عمر میں فرق پر کس طرح غور کیا جاسکتا ہے۔ انہوںنے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ اس طرح کے اقدامات کی قانونی بنیاد کیا ہے؟اس کے بعدعدالت نے ریاستی حکومت کو بھی ہدایت دی کہ وہ اس عمل کے لیے الیکشن کمیشن کو مناسب افرادی قوت فراہم کرے۔ مغربی بنگال کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس عمل میں امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ترنمول کانگریس نے اس کو اپنے موقف کی جیت قرار دیا ۔پارٹی نے کہا کہ آج کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہم تاریخ کے درست سمت میں کھڑے ہیں اور لوگوں کے حقوق اور عزت کے تحفظ کے لیے انتھک جدوجہد کر رہے ہیں۔پارٹی نے کہا کہ وہ حق اور انصاف پر ہے۔بی جے پی اور اس کے ماتحت الیکشن کمیشن کومن مانی کو ترک کرنے اور آئینی اصولوں کے مطابق ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔ جمہوریت غالب آئے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK