• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ میں مقدمات کی فہرست سازی کا نیا نظام یکم دسمبر سے نافذ

Updated: November 30, 2025, 2:05 PM IST | New Delhi

نئے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی قیادت میں سپریم کورٹ نے یکم دسمبر ۲۰۲۵ء سے مقدمات کی خودکار فہرست سازی کا نیا طریقہ کار شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکیولر کے مطابق مدعی یا وکیل کو عدالت کے سامنے ذاتی طور پر ’’ذکر‘‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، نئے مقدمات خود بخود درج ہوں گے۔

Chief Justice of India Surya Kant. Photo: INN
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت۔ تصویر: آئی این این

باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کا عہدہ سنبھالنے والے سوریہ کانت نے سپریم کورٹ مقدمات کی تشکیل اور ان کی فہرست سازی سے متعلق ایک نیا سرکیولر جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق یکم دسمبر ۲۰۲۵ء سے سپریم کورٹ میں نئے مقدمات خود بخود درج ہوں گے ، کسی ’’ذکر‘‘ یا زبانی درخواست کی ضرورت نہیں ہوگی۔ عدالت کے سامنے مدعیان یا اُن کے وکلا کو شخصی طور پر پیش ہونے کی روک لگائی گئی ہے۔ ان نئے احکامات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ضمانت کی درخواستیں، موت کی سزا سے متعلق اپیلیں، ہیبیس کارپس، بے دخلی، تصرف یا املاک کی انہدام جیسے فوری اور غیر معمولی معاملات جس دن فائل ہوں گے، انہیں اگلے دو کاروباری دنوں میں فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ ضمانت درخواستوں کے تیزی سے فیصلے کیلئے مدعا یا مدعی کا مستقل وکیل مقدمے کی پیشگی کاپی نوڈل آفیسر کو پیش کرے گا۔ مزید برآں، پرانے زیرِ سماعت مقدمات کو ملتوی کرنے کیلئے کسی خارجہ درخواست کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ عدالتیں گوشہ نشینی کی بجائے فعال رہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال کی قیدو بند کے بعد ۶؍ مسلم نوجوان دہلی فساد کے کیس سے بری

ممکنہ اثرات اور اہمیت
یہ اقدام عدالت میں زیر التواء مقدمات کم کرنے اور عدالتی نظام کو تیز تر و کارآمد بنانے کی کوشش ہے۔ خودکار فہرست سازی سے مقدمات کی رجسٹریشن میں تاخیر کم ہوگی۔ ضمانت، عبوری احکامات، بے دخلی یا املاک کیسز جیسے حساس معاملات جلدی زیرِ غور آئیں گے، جو متاثرین کے حق میں فیصلوں کو آسان بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، وکلاء اور عدالتوں دونوں کی ذمہ داری بڑھ جائے گی کہ وہ مقدمات کو شفاف طریقے سے درج اور سماعت کیلئے تیار کریں۔

یہ بھی پڑھئے: پتانجلی پر جرمانہ: غیر معیاری گھی فروخت کرنے کا الزام، نمونے جانچ میں ناکام

یاد رہے کہ جسٹس سوریہ کانت نے ملک کے ۵؍ ویں سی جے آئی کے طور پر ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو حلف لیا ہے۔ ان کی تقرری عدالتی اصلاحات، شفافیت اور مقدمات کی بروقت سماعت کے عزم کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔ نئے سرکیولر کے تحت یہ تبدیلی عدالتی نظام میں ایک اہم اصلاح تصور کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقدمات کی خودکار فہرست سازی کا نیا طریقہ کار عدالتی نظام میں جدت اور رفتار لانے کا ایک بڑا قدم ہے۔ اس سے متوقع ہے کہ مقدمات کی پیپروار اور ٹائم لائن بہتر ہوں گی، اور شہریوں کو ان کے حقوق کیلئے عدالتوں تک رسائی زیادہ آسان ہو جائے گی۔ یقینی طور پر یہ قدم عدالتی شفافیت اور انصاف کی بروقت فراہمی کی سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK