سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں پر خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 1:01 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں پر خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں پر خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل ۳۲۴، عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء اور اس کے تحت وضع کردہ قوانین کے مطابق، الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا، جن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ برس جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ جب قانون خود الیکشن کمیشن کو کسی بھی وقت خصوصی نظرثانی کا اختیار دیتا ہے، تو محض اس بنیاد پر اس عمل کو غیر قانونی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ یہ باقاعدہ نظرثانی کے عام طریقۂ کار کے ہر پہلو پر پوری طرح عمل نہیں کرتا۔
سپریم کورٹ نے تبصرہ کیاکہ ’’ہماری سوچی سمجھی رائے میں، یہ متنازع ایس آئی آر عوامی نمائندگی ایکٹ اور اس کے قوانین کی جگہ نہیں لیتا، بلکہ یہ دفعہ۲۱(۳) کے تحت طے شدہ قانونی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے آرٹیکل ۳۲۴؍ کے تحت دیے گئے آئینی مینڈیٹ کو نئی زندگی دیتا ہے۔ لہٰذا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کمیشن نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کر کے کوئی کام کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شروتی شرما مشہور شو’’آفس آفس سیزن۲‘‘ میں نیا مرکزی کردار ادا کریں گی
عدالتِ عظمیٰ نے مزید کہا کہ ایس آئی آر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی آئینی ضرورت کو آگے بڑھاتا ہے۔ عدالت کے مطابق، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات محض پولنگ کے عمل تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کی اصل بنیاد ووٹر لسٹ کی درستگی اور معتبریت پر ہوتی ہے، جو کہ جمہوری عمل کی بنیاد ہے۔
بینچ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ ۱۶؍ کے تحت الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹ کی تیاری یا ترمیم کے عمل کے دوران شہریت سے متعلق سوالات کی جانچ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لکھنؤ کی تاریخی کسمنڈی مسجد و مقبرہ پر پاسی سماج کا دعویٰ، بھگوا عناصرکی شر انگیزی
عدالت نے واضح کیا کہ ایسی جانچ صرف ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا ہٹانے کے محدود مقصد کے لیے ہی کی جا سکتی ہے اور اس عمل کے دوران اس ووٹر کے حق میں موجود مفروضے کا احترام کیا جانا چاہیے جس کا نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں درج ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن صرف انتخابی مقاصد کے لیے دستیاب مواد کا جائزہ لے کر ہی کوئی فیصلہ کر سکتا ہے۔