Updated: July 12, 2026, 2:13 PM IST
| Bengaluru
ہندوستانی فلمی موسیقی کی عظیم اور لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ ایس جانکی ۸۸؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، جس پر ملک بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور سیاسی، فلمی و موسیقی کی ممتاز شخصیات نے انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آج شام۵؍ بجے ان کی آخری رسومات ادا کی جائے گی۔
مشہور گلوگارہ ایس جانکی۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی فلمی موسیقی کی ممتاز اور لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ ایس جانکی، جنہیں محبت سے ’’جنوبی ہند کی بلبل‘‘ (Nightingale of South India) کہا جاتا تھا، ۸۸؍برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ سانس لینے میں دشواری کے باعث میسور کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ہندوستانی کی فلمی، موسیقی اور ثقافتی دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت متعدد سیاسی و فلمی شخصیات، جن میں رجنی کانت، کمل ہاسن اور دیگر فنکار شامل ہیں، نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایس جانکی کی وفات ہندوستانی موسیقی کیلئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بمل رائے فلموں کی تعدادپر نہیں معیار پر یقین رکھتے تھے
ایس جانکی کی آخری رسومات آج شام ۵؍ بجے ادا کی جائے گی
معروف اور لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ ایس جانکی کی آخری رسومات۱۲؍ جولائی۲۰۲۶ءکی شام ادا کی جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق ان کی آخری رسومات کرناٹک کے ضلع میسور کے ایچ ڈی کوٹے تعلقہ کے گاؤں کنیاناہنڈی میں واقع ایک نجی باغ میں کی جائے گی، جس کا آغاز شام۵؍ بجے ہوگا۔ ان کی آخری رسومات سے پہلے، اس کی جسد خاکی کو عوام کے دیکھنے کے لیے میسور کے مہاراجہ کالج گراؤنڈ میں رکھا گیا تھا۔ کئی مداحوں نے سوگ کا اظہار کیا اور لیجنڈ فنکار کو آخری خراج عقیدت پیش کیا۔
مشہور فلمی، سماجی و سیاسی شخصیات کا اظہار تعزیت
ایس جانکی کے انتقال پر ملک کی سیاسی، فلمی اور موسیقی کی کئی نامور شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایس جانکی کے انتقال کو موسیقی اور ثقافت کی دنیا کیلئے’’ناقابلِ تلافی نقصان‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کی آواز نسلوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
صدر دروپدی مرمو نے ایس جانکی کی فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
رجنی کانت نے کہا کہ شہد جیسی شیریں آواز سے نسلوں کو مسحور کرنے والی جانکی اما کی روح کو ابدی سکون نصیب ہو۔
کمل ہاسن نے جذباتی پیغام میں کہا کہ ایس جانکی کی آواز ہمیشہ گونجتی رہے گی اور ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔
معروف موسیقار الیاراجا نے کہا کہ ہندوستانی فلم اور موسیقی کی دنیا ایک عظیم فنکار سے محروم ہو گئی ہے اور ایس جانکی کا کوئی نعم البدل نہیں۔
چرنجیوی نے ایس جانکی کو ہندوستانی موسیقی کی عظیم ترین آوازوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو یاد کیا۔
چنمئی سری پادا نے کہا کہ ایس جانکی ان کیلئے ایک دیوی جیسی شخصیت تھیں اور وہ ہمیشہ ان کی آواز سے متاثر رہیں۔
ایم کے اسٹالن اور وجے نے بھی ایس جانکی کے انتقال کو ہندوستانی موسیقی کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے تعزیت کی۔
یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کے تحفظ پر بالی ووڈنے کئی اہم فلمیں بنائی ہیں
ایس جانکی کے فنی سفر پر ایک نظر
ایس جانکی کا فنّی سفر چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہا، جس دوران انہوں نے تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ، ہندی، اردو اور دیگر زبانوں سمیت تقریباً ۲۰؍ زبانوں میں ۴۸؍ ہزار سے زائد گیت ریکارڈ کئے۔ اپنی منفرد آواز، جذبات سے بھرپور اندازِ گائیکی اور بے مثال فنی مہارت کے باعث وہ برصغیر کی عظیم ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار کی جاتی تھیں۔ انہیں چار قومی فلم ایوارڈز اور درجنوں ریاستی اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ۲۰۱۳ء میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے پدم بھوشن قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ اعزاز انہیں بہت تاخیر سے دیا جا رہا ہے۔ ایس جانکی کی لازوال دھنیں اور دل میں اتر جانے والی آواز ہمیشہ موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گی اور ان کا نام ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔