Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بس شکریہ کہہ دیں‘‘: تاپسی پنو کی فلم ’’گاندھاری‘‘ پر کہانی چوری کا الزام

Updated: August 25, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai

اداکارہ تاپسی پنوکی آنے والی نیٹ فلکس فلم ’’گاندھاری‘‘ ریلیز سے قبل ہی ایک مبینہ سرقۂ ادبی یعنی plagiarism کے تنازع میں گھر گئی ہے۔ مصنف  کلیان بندی  نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کی بنیادی کہانی ان کی ۲۰۱۹ء میں لکھی اور رجسٹرڈ ک گئی کہانی سے مماثلت رکھتی ہے۔

Taapsee Pannu. Picture: INN
تاپسی پنو۔ تصویر: آئی این این

اداکارہ تاپسی پنو  کی آنے والی نیٹ فلکس فلم ’’گاندھاری‘‘ ریلیز سے قبل ہی ایک مبینہ سرقۂ ادبی یعنی plagiarism کے تنازع میں گھر گئی ہے۔ مصنف  کلیان بندی  نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کی بنیادی کہانی ان کی ۲۰۱۹ء میں لکھی اور رجسٹرڈ کی گئی کہانی سے مماثلت رکھتی ہے۔ دوسری جانب فلم کی مصنفہ اور پروڈیوسر  کنیکا ڈھلون  کی پروڈکشن کمپنی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فلم کو اصل تخلیق قرار دیا ہے۔ 
کلیان بندی، جو آئی آئی ٹی  مدراس کے سابق طالب علم ہیں اور سینٹرل جی ایس ٹی و کسٹمز میں انسپکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۹ء میں ’’گاندھاری‘‘ کے نام سے ایک کہانی لکھی اور رجسٹرڈ کرائی تھی۔ان کے مطابق ان کی کہانی میں ایک ایسی ماں کی داستان تھی جو اپنی بچی کو انسانی اسمگلنگ کے ایک گروہ سے بچانے کے لیے ایک طاقتور اور خوفناک روپ اختیار کرتی ہے۔ موجودہ فلم ’’گاندھاری‘‘ میں بھی تاپسی پنو ایک ایسی ماں کا کردار ادا کر رہی ہیں جو اپنی اغوا شدہ بیٹی کی تلاش میں نکلتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: BTS: ہندوستانی مداحوں کو ’نمستے‘ اور ہندی پیغام، ہندوستان آمد کی قیاس آرائیاں


بندی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۹ء میں یہ کہانی اس وقت وُوٹ ( Voot )سے وابستہ مونیکا شیرگل کو بھی پیش کی تھی، جو اب نیٹ فلکس میں نائب صدر ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے کہانی کا تفصیلی مسودہ اور خلاصہ بھی بھیجا تھا۔ بندی نے فلم کے کریڈٹ پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فلم کی بنیادی کہانی ان کے پہلے سے رجسٹرڈ تصور سے ملتی ہے تو پھر کنیکا ڈھلون کو بطور مصنف کریڈٹ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ 
انہوں نے مبینہ طور پر فلم کے میکرز کو قانونی نوٹس بھی بھیجا تھا اور معاوضے کے ساتھ مناسب کریڈٹ کا مطالبہ کیا تھا  تاہم اس معاملے میں عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔  کنیکا ڈھلون کے پروڈکشن ہاؤس کتھا پکچرس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’گاندھاری‘‘ ایک  اصل اور خود تخلیق کردہ کہانی  ہے۔ پروڈکشن ہاؤس نے الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فلم کنیکا ڈھلون نے خود لکھی ہے۔  
فلم کے ٹریلر لانچ کے موقع پر نیٹ فلکس کی روچیکا کپور شیْخ   نے بھی تنازع پر وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ فلکس تخلیقی کام کی اوریجینلٹی اور فنکارانہ کریڈٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ان کے مطابق نیٹ فلکس کو متعدد کہانیوں اورپچیزموصول ہوتی ہیں، لیکن جس  پچ کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ کنیکا ڈھلون اور تاپسی پنو کی ’’گاندھاری‘‘ سے  بہت مختلف  ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کا باکس آفس پر غلبہ برقرار

اس تنازع کے دوران مصنف کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کسی تخلیق کار کے تصور یا کہانی سے کسی دوسرے پروجیکٹ کو تحریک ملی ہو تو کم از کم اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ اسی پس منظر میں ’’Just say thank you‘‘ یعنی ’’بس شکریہ کہہ دیں‘‘ کا جملہ بھی تنازع کا حصہ بن گیا ہے۔ تاہم، فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ فلم کی کہانی واقعی کلیان بندی کے کام سے نقل کی گئی ہے۔ ایک جانب مصنف مماثلت کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ میکرز اور نیٹ فلکس واضح طور پر اسے مسترد کر رہے ہیں۔ 
تاپسی پنو کی ’’گاندھاری‘‘ ایک ایکشن تھرلر کے طور پر پیش کی جا رہی ہے اور  ۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ہے۔ فلم میں تاپسی ایک ماں کے کردار میں ہیں جو اپنی اغوا شدہ بیٹی کو واپس لانے کے لیے خطرناک حالات کا سامنا کرتی ہے۔  فلم کی ریلیز سے پہلے سامنے آنے والے اس تنازع نے ’’گاندھاری‘‘ کی تشہیر اور اس کی کہانی کو لے کر شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ  فلم دیکھنے کے بعد ناظرین کو دونوں کہانیوں میں کتنی مماثلت محسوس ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK