Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُروَشی روتیلا نے مس یونیورس میں ترنگے والے گاؤن کا دفاع کیا

Updated: August 25, 2026, 9:35 PM IST | Mumbai

اداکارہ اور ماڈل اُروَشی روتیلا نے مس یونیورس کے ایک پروگرام میں پہنے گئے اپنے ترنگے سے متاثرہ گاؤن پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس لباس کا مقصد کسی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں بلکہ فنکارانہ اظہا ر تھا۔

Urvashi Rautela.Photo:X
اروشی روتیلا۔ تصویر:ایکس

اداکارہ اور ماڈل اُروَشی روتیلا نے مس یونیورس کے ایک پروگرام میں پہنے گئے اپنے ترنگے سے متاثرہ گاؤن  پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس لباس کا مقصد کسی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں بلکہ فنکارانہ اظہا ر تھا۔اُروَشی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لباس کے ذریعے ہندوستانی ثقافت، شناخت اور قومی رنگوں کو ایک تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس لباس کو محض ایک فیشن اسٹیٹمنٹ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کے پیچھے ایک فنکارانہ سوچ بھی موجود تھی۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Vishal Bhatnagar (@vishalbhatnagarimages)

یہ بھی پڑھئے:ہمانشی کھرانہ نے عاصم ریاض کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور ریکارڈنگ جاری کرنے کی دھمکی دی

انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کے لیے لباس، رنگ اور انداز بھی اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ترنگے کے رنگوں کو استعمال کرنے کا مقصد ہندوستان سے اپنی وابستگی اور فخر کو ایک منفرد انداز میں ظاہر کرنا تھا۔اُروَشی کے لباس میں  زعفرانی، سفید اور سبز رنگ  نمایاں تھے، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے تبصرے سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے اسے خوبصورت اور حب الوطنی سے بھرپور قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے قومی پرچم کے رنگوں کے استعمال پر سوالات بھی اٹھائے۔

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ چیمپئن بننا اب ناممکن خواب نہیں: گایاتری گوپی چند

اُروَشی نے تنقید کے باوجود اپنے انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ  فنکارانہ اظہار کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں اور کسی تخلیقی لباس کو صرف ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے تصور اور پس منظر سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد ہندوستان کی نمائندگی کرنا اور عالمی پلیٹ فارم پر ملک کی ثقافت اور شناخت کو اجاگر کرنا تھا۔ ان کے مطابق وہ اپنے لباس کے ذریعے ایک ایسا پیغام دینا چاہتی تھیں جو ہندوستانی ہونے پر فخر اور تخلیقی آزادی دونوں کی عکاسی کرے۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر بحث کے درمیان اروَشی کا مؤقف واضح ہے کہ  ترنگے سے متاثرہ گاؤن ایک فیشن اور آرٹ کا اظہار تھا، نہ کہ قومی علامت کی بے حرمتی کا کوئی ارادہ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK