Updated: August 25, 2026, 10:14 PM IST
| Jerusalem
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قانون ساز کی جانب سے فلسطینی شہدا کی یاد میں قائم یادگار توڑے جانے کے واقعے پر ایک بار پھر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی موجودگی میں یادگار کو ہتھوڑے سے منہدم کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ قانون ساز کے ارادے سے لاعلم تھی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی قانون سازٹزوی سُکوٹ نے منگل کو مقبوضہ ویسٹ بینک کے گاؤں مدامہ میں موجود ایک فلسطینی یادگار کو توڑ دیا۔ اس میموریل میں ہلاک ہونےوالے فلسطینیوں کے نام درج تھے جسے قانون ساز نے اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی میں توڑ دیا۔ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صیہونی پارٹی کے رکن سکوٹ نے ’ایکس ‘پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں وہ نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں میں فلسطینی یادگار کو توڑنے کیلئے ایک بڑے ہتھوڑے کا استعمال کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس کا فلسطینی گریجویشن تقریب پر دھاوا، ۴؍ گرفتار
انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی فوج سے انہوں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے سےمبینہ طور پر ’’دہشت گردی کی یادگار‘‘ والے مقامات کو ہٹا دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ یہ جلد از جلد ہو جائے گا۔ ‘‘سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ویڈیو فوٹیج میں صاف طور پراسرائیلی فوج کی موجودگی میں سکوٹ کو یادگار توڑ تے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معروف فلسطینی فنکار سلیمان منصور ۷۹؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے
اسرائیلی روزنامہ’ Yedioth Ahronoth ‘نے کہا کہ سکوٹ نے فلسطینی گاؤں کا دورہ کرنے کیلئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ پہلے سے اجازت کی درخواست کی تھی اور اس کی درخواست کو کئی روز قبل منظور کر لیا گیا تھا۔ اخبار کےمطابق اس دورے کے دوران، جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا، سکوٹ نے یادگار کو نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ انہیں اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ قانون ساز یادگار کو تباہ کرنے کے ارادے سے وہاں آیا ہے۔