Updated: May 06, 2026, 6:04 PM IST
| New York
Chris Smalls کے ایک ویڈیو پیغام کو نیویارک میں امیزون کے بانی اور مالک جیف بیزوس کے مین ہٹن پینٹ ہاؤس پر میٹ گالا ۲۰۲۶ء سے قبل پروجیکٹ کیا گیا، جہاں کارکنوں نے ارب پتیوں اور امیزون کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امیزون پر غزہ میں اسرائیلی فوجی نگرانی کے لیے مبینہ طور پر استعمال ہونے والے Project Nimbus میں سرمایہ کاری کا الزام لگایا۔
نیویارک میں منعقد ہونے والے میٹ گالا ۲۰۲۶ء سے قبل ارب پتی شخصیات اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جب کرس اسمالز کا ایک ویڈیو بیان جیف بیزوس کے مین ہٹن پینٹ ہاؤس پر پروجیکٹ کیا گیا۔ یہ احتجاجی کارروائی Everyone Hates Elon نامی گروپ کی جانب سے منظم کی گئی تھی، جس نے میٹ گالا کے آغاز سے قبل نیویارک میں متعدد مظاہروں کا اہتمام کیا۔ مظاہرین نے ارب پتی طبقے، کارپوریٹ طاقت اور غزہ جنگ میں بڑی ٹیک کمپنیوں کے کردار کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ کرس اسمالز جو پہلے امیزون میں ملازم رہ چکے ہیں اور بعد میں لیبر آرگنائزر بنے، نے اپنے ویڈیو بیان میں امیزون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے Project Nimbus میں ۲ء۷؍ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے ان کے بقول فلسطینیوں کی نگرانی اور نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ، ’’ارب پتیوں کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔ ارب پتیوں کو جانا ہوگا۔‘‘ یاد رہے کہ پروجیکٹ نیمبوز دراصل گوگل اور امیزون کے درمیان اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدہ ہے، جس پر گزشتہ چند برسوں سے انسانی حقوق کے کارکن تنقید کرتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اسرائیلی نگرانی اور فوجی آپریشنز میں استعمال ہو سکتی ہے، جبکہ کمپنیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ احتجاجی مہم نے خاص طور پر جیف بیزوس کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اپنی اہلیہ لورین سانچیز کے ساتھ اس سال کے میٹ گالا ۲۰۲۶ء کے اعزازی شریک چیئر اور بڑے اسپانسرز میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’راجہ شیواجی‘‘ میں اداکاروں نے مفت کام کیا: رتیش دیشمکھ
پیر کو مظاہرین نے ’’Resistance Red Carpet‘‘ کے نام سے ایک متبادل تقریب بھی منعقد کی، جہاں ’’Tax the Rich‘‘ کے بڑے سائنز آویزاں کیے گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ میٹ گالا جیسے پرتعیش ایونٹس عالمی معاشی عدم مساوات کی علامت بن چکے ہیں، جہاں لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ دنیا کے کئی حصوں میں جنگ اور انسانی بحران جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کرس اسمالز کو بعد میں میٹ گالا کے قریب سیکوریٹی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں انہیں احتجاجی کارکنوں کے ساتھ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سیامی کھیر آئی پی ایل کے لیے کھیل نقاد کا رول بھی ادا کررہی ہیں
واضح رہے کہ میٹ گالا دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے زیادہ زیر بحث فیشن ایونٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایک ٹکٹ کی قیمت تقریباً ۱۰۰؍ ہزار ڈالر تک بتائی جاتی ہے، اگرچہ بیشتر مشہور شخصیات دعوت نامے پر بطور مہمان شریک ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں میٹ گالا کو سماجی اور سیاسی احتجاج کا مرکز بھی بنایا گیا ہے، جہاں کارکن امیر طبقے، موسمیاتی بحران، مزدور حقوق اور فلسطین جیسے موضوعات پر اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔